جوانی کی آگ میں جلتے نوجوان اور انکے والدین
کہتے ہیں جس کسی بھی ملک کی ترقی کا راز اسکے جوانوں میں پنہاں صلاحیتوں میں کارفرما ہوتا ہے، نواجونوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی ترقی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہونگے، پاکستان میں اس وقت نوجوان 60 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ مئی میں جاری ہونے والی یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاکستانی آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم عمر کے نوجوان پر مشتمل ہے جبکہ 29 فیصد کی عمریں 15 سے 29 سال کے درمیان میں ہیں، رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نوجوانوں کے اعتبار سے پاکستان ایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔
ہمارے ملک کے ان نوجوانوں کی صلاحیتوں سے حقیقی معنوں فائدہ اٹھانے کےلئے یقین کی حد تک کہہ سکتے ہیں کہ کوئی ادارہ ہی نہیں جہاں ان نوجواںوں کو جانچا اور پرکھا جائے، ان کی چھپی صلاحیتوں کو پالش کیا جائے، سامنے لایا جائے اور ان سے استفادہ کیا جائے، اب جب ادارے نہیں ہیں تو نوجواںوں کے مشاغل ایسے ہیں کہ بیان سے باہر ہیں، جذبات کے سمندر میں بہتے یہ نوجوان نا تو تعلیمی میدان میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کر پا رہے ہیں اور نا ہی تجارتی سطح پر کوئی بڑے ٹائیکون بن کر سامنے آئے ہیں
ہمارے نوجوانوں میں سوشل میڈیا کا بڑھتا استعمال اور اسکی لت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ تعمیری اور ضروری رابطے سے ہٹ کر غیر ضروری اور غیر تعمیری روابط آئے روز بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد شادی سے پہلے ہی اپنی بکارت کھو بیٹھتی ہیں وجہ یہ کہ لڑکپن سے نکلتے ہی نفسانی خواہش زور پکڑنا شروع ہو جاتی ہے لیکن شادی کے آثار دور دور تک نہیں نظر آتے، وجوہات کچھ یہ ہیں، ابھی عمر ہی کیا ہے، ابھی تعلیم پوری کرنی ہے، کوئی ہم پلہ رشتہ نہیں، لڑکا کچھ کماتا نہیں، والدین کو پسند ہے تو لڑکی کو پسند نہیں، اور لڑکی کو پسند ہے تو والدین ٹھکرا رہے ہیں، نفسانی خواہش میں بتدریج اضافہ ان جوانوں کو ایک دوسرے سے قریب تو نہیں خیر قریب تر کر دیتا ہے، کہتے ہیں لاہور کی کچھ گلیاں اتنی تاریک ہیں کہ ان میں اگر ایک طرف سے مرد اور دوسری طرف سے عورت گزر رہی ہو تو بیچ میں گنجائش صرف نکاح کی ہی بچتی ہے، یہی حالات ہوتے ہیں ہمارے جوانوں کے ان کے تعلقات اس حد تک بڑھ چکے ہوتے ہیں کہ بیچ میں گنجائش نکاح کی ہی بچتی ہے اور جو نکاح نہیں ہو پاتا تو پھر زنا ہی ہوتا ہے۔ یونیورسٹی دور میں میری کلاس میں 7 لڑکیاں تھیں 2 شادی سے پہلے اسقاط حمل کے عمل سے گزر چکی تھیں اور باقی اچھے خاصے تعلقات میں تھیں، (بھائی وقار، آپ نے اپنے ہم جماعت لڑکوں کے بارے میں بھی کچھ تحقیق کی؟ مدیر) مسئلے وہی کبھی خود نہیں مانتی تو کبھی گھر والے نہیں مانتے۔ اس صورتحال میں قصور وار کون ہے، والدین جو ہم پلہ رشتوں کے انتظار میں اپنی بیٹیوں کو سمجھ نہیں پاتے یا پھر بیٹیاں اور بیٹے جو والدین کے تجربہ سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور اپنی جوانی کا پہلا حساس قدم خود اٹھا تو لیتے ہیں لیکن وہ قدم ٹھیک جگہ پر رکھ نہیں پاتے اور ڈگمگا جاتے ہیں۔ لڑکی کی زندگی برباد کر دیتے ہیں۔ باقی کچھ لڑکیاں خوابوں کے چنگل میں ایسی پھنستی ہے کہ خوابوں کی تعبیر کےلئے اپنا سب کچھ لٹا بیٹھتی ہیں اور حاصل کیا ہوتا کچھ بھی نہیں سوائے کف افسوس ملنے کے۔ جوش ملیح آبادی کا ایک شعر یاد آ گیا،
کسی کا عہد جوانی میں پارسا ہونا
قسم خدا کی یہ توہین ہے جوانی کی
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی، شعر میں کچھ غلط نہیں لیکن اگر شعر کو ٹھیک مان لیا جائے تو کوئی بھی پارسا نہیں۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر رکھی ہے۔ دعوت گناہ اور لذت گناہ ہر ایک پلیٹ فارم پر میسر ہے جن کی رسائی نہیں وہ بھی للچائی نظروں سے بےحیائی کی گہرائی میں اترتے چلے جاتے ہیں کیونکہ سب کچھ نہیں تو کچھ نا کچھ تو ان کو بھی مل ہی جاتا ہے جسم نہیں تو برہنہ جسموں کی تصاویر ہی سہی۔ لیکن آخر کب تک ایسا چلتا رہے گا کب تک اس نازک صورتحال سے چشم پوشی کی جاتی رہے گی کب والدین کی آنکھوں سے رتبہ اور دیگر لوازمات کی پٹی اترے گی اور انکی اپنی بیٹی اور بیٹے نظر آئیں گے کہ سب سے بڑھ کر ان بچوں کی زندگیوں کا سکون ہے۔ مال و دولت، رتبہ تو سب آنی جانی چیزیں ہیں۔ میں بچوں کا وکیل نہیں لیکن میں بچوں کے احساسات کو الفاظ کا پرہین پہنا رہا ہوں تاکہ اس کو دیکھ کر والدین اپنے بچوں کے جسموں سے پیرہن نہ اترنے دیں انکو برہنہ ہونے سے بچائیں ان سے بات کریں۔ رسم و رواج، مذہب کی قید سے نکلیں۔ مسلک کی عینک اتاریں اور رشتوں کو پیار کی نظر سے دیکھیں
تعیمری سوچ کو پروان چڑھائیں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اور آپ کی بیٹی شادی کے نام پر چپ کر جائے کہ وہ بتا نہیں سکتی کہ نکاح کے بجائے گناہ کر چکی ہے۔ کسی بھیڑئے سے یا نام نہاد عاشق سے لٹ چکی ہے، برباد ہو چکی ہے۔ میرے وطن کی بچیو، سچ پوچھو تو اس میں آپ کا گھاٹا ہے، لڑکوں کا کچھ نہیں جاتا۔


