سات سالہ عمر کا جنسی زیادتی کے بعد قتل

دنیا جب سے معرض وجود میں آئی تب سے ہی کمزور پر طاقتور حملہ آور رہا اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے کمزور کو بلی چڑھاتا رہا۔ طاقت کا نشہ انسان سے وہ کچھ کروا دیتا ہے کہ انسان حیوانوں کی صف میں بھی کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہتا، اُس پستی تک پہنچ جاتا ہے کہ عام انسان سوچ کر بھی کانپ اٹھتے ہیں، خواہشوں کے اس منہ زور گھوڑے پر سوار ہوکر ناجانے کتنے ہی انسانوں کو حقیر سمجھنے والے کب کس پر حملہ انداز ہوں کوئی نہیں جانتا۔

Read more

مردوں کا منہ چڑھاتا عورت مارچ

آخر کار شدید پڑھی لکھی خواتین پلے کارڈز اٹھا کر چوک چوراہے پر آ ہی گئیں، اور مردوں کے معاشرے نے ان خواتین کی اس حرکت پر اس حد تک تنقید کی کہ 8 مارچ کو ہونے والی مارچ نے سارے پاکستان کو اپنے حصار میں لے لیا، تنقید خواتین پر کم کی گئی اور پلے کارڈز پر زیادہ کی گئی، پلے کارڈز پر درج جملے اس قسم کے تھے کہ ان میں خواتین کے حقوق کی بات تو نہیں تھیں نہ ہی خواتین کی آزادی کی بلکہ صرف بات تک آزاد خواتین کی۔

Read more

میں لفظوں کا دھندا کرتا ہوں تم کس کا دھندا کرتے ہو؟

تم نے میرے کمرے کے بارے میں پوچھا ہے، تم کبھی میرے کمرے میں آکر دیکھو! تمہیں جابجا بکھرے الفاظ ملیں گے، ٹوٹے پھوٹے، شکستہ، بے حال، بے جان، بے بال و پر الفاظ میری شکستگی کی ایسی منظر کشی کر رہے ہوں گے کہ تم دیکھتے ہی دلِ ویران کی شکستگی کی تصویر کا…

Read more

رسول کی بیٹی نمونہ عمل کیوں نہیں؟

ساڑھے 14 سو سال پہلے کی خواتین کیا آج کی خواتین کے لئے نمونہ عمل ہیں؟ سوال تو بنتا ہے اس دور میں جب یہ سب کچھ نا تھا، نہ تو زندگی میں کوئی ایسی چہل پہل تھی نہ ہی دنیا اتنی تیزی سے رواں دواں تھی۔ نہ ایسی چاشنی تھی نہ ایسی روشنی تھی۔ عورتوں کو زندہ درگور کیا جاتا ہے یہ تو خیر سب ہی جانتے ہیں لیکن یہ شاید کم لوگوں کے ذہن میں آتا ہے کہ جب بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا تب ایک پیامبر خدا نے بیٹی کے استقبال کے لئے کھڑے ہو ہو کر عوام کو یہ بتایا کہ بیٹی رحمت ہے، اور بیٹی بھی تو ملیکۃ العرب کی تھی، عرب کی سب سے بڑی بزنس وومن۔ امیر ترین ماں اور رحمۃ العالمین کی بیٹی کی زندگی بھی یقینا قابل رشک اور نمونہ عمل ہونی چاہیے، آخر اتنے بڑے خاندان میں پیدا ہونے والی اس خاتون کا ابھی اپنا ہی مقام ٹھہرا۔

Read more

صحافت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

صحافت کیا ہے؟ بس یہ عوام تک خبر پہنچانا، خبر کوئی بھی ہو، کسی کی بھی، کہیں کی بھی، کیونکہ خبر تو خبر ہے، اور جب کچھ نا بھی ہو رہا ہو تو یہ بھی ایک خبر ہی ہوتی ہے، آپ نے تو سن رکھا ہے کہ ہر خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی…

Read more

کیا آپ بھی جہیز لیتے ہیں؟ پھر تحریر نا ہی پڑھیں

ہم اور تقریبا ہم سب بلکہ چھوڑئیے، ہم سب کے گھروں کی بات کرتے ہیں۔ ہماری تہذیب و تمدن کے قصے تو خیر پہلے سے ہی سر بازار آ چکے ہیں۔ کبھی غیرت کے نام پر قتل، کہیں بچیوں کو نوچتے خون خوار بھیڑیوں کی شکل میں اسی معاشرے کے نوجوان اور تو اور بچوں…

Read more

لونڈے بازی سے “Gay” کی جانب بڑھتا معاشرہ

دنیا بھر میں جہاں آئے روز نئی اصلاحات جنم لے رہی ہیں ، وہی معاشرتی بے راہ روی کے تسلسل کو قائم رکھنے اور غیر فطری طریقوں سے لطف اندوز ہونے کیلئے پرانے طریقے نئے دور کے مطابق نئے ناموں سے نہ صرف جاری ہیں بلکہ کل تک جن چیزوں کو برا سمجھا اور کہا…

Read more

کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد ، بھارت نا نگل سکتا ہے نا اگل سکتا ہے

کرتار پور کوئی عام علاقہ نہیں۔ بھارتی سرحد سے ساڑھے 4 کلو میٹر کی دوری پر واقع نہ صرف بھارتی بلکہ دنیا بھر کے سکھوں کے لئے ایک زیارت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کرتارپور نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارہ تک پہنچنے میں لاہور سے 130 کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں۔ گرودوارے کی عمارت کے باہر ایک کنواں ہے۔ جسے گرو نانک دیو سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں سکھوں کا عقیدہ ہے کہ یہ بابا گرو نانک کے زیر استعمال رہا۔

اسی مناسبت سے اسے ’سری کُھو صاحب‘ کہا جاتا ہے۔ سرحد کے دوسری جانب سکھ یاتری گورودوارہ دربار صاحب کو دیکھنے کے لیے دوربینوں کا استعمال کرتے ہیں۔ انڈین بارڈرسکیورٹی فورسز نے خصوصی طور پر ’درشن ستھل‘ قائم کیے ہیں۔ تاکہ وہ اس جانب واضح طور پر گوردوارے کے درشن کر سکیں۔ یہ تو تھا کرتار پور لیکن اس وقت کرتا پور کی حیثیت پچھلے 70 سالوں سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور۔ پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب بھی واقع ہیں۔

Read more

تم محبت کرتے ہو، بکواس کرتے ہو

ہمارے معاشرہ میں محبت کا جادو آج کل سر چڑھ کر تو بولتا ہی ہے ساتھ ہی ساتھ کپڑے اتار کر سوتا بھی ہے، آپ کو ناگوار گزرا ہے کوئی بات نہیں اس میں سب کا حصہ بقدر جسہ ہے، کسی نے باتوں سے محبت کا یقین دلا کے سلایا ہے تو کسی نے سلا کر محبت کو عملی جامہ پہنایا ہے، ذہنوں کی خباثت محبت کے حسین پیرہن میں لپیٹ کر بیچنے کا کام اپنے عروج پر ہے۔

Read more

بدلتے ملک کے پنپتے حالات: عوام، قانون اور سیاست

ہم نے ملک کا نظام بدلتے دیکھا۔ آپ کو یقین نہیں تو زرا سا غور فرمائیے، خود دیکھیے، تبدیلی کے نعروں کی رعب دار گرج کی شنوائی ہر کان کو نصیب ہوئی، ہر شخص کام کرنے لگا، چیف جسٹس سے لیکر فکس کرنے والوں تک سب نے ملک بدلنے کی ٹھان لی۔ ہر کوئی کام…

Read more