اعلیٰ کھجور، بین الاقوامی مارکیٹ سے دور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحصیل نوکنڈی ضلع چاغی بلوچستان کا علاقہ ہے۔ ضلع چاغی رقبے کے لحاظ سے بلوچستان اور پاکستان کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ ضلع چاغی رقبے کے لحاظ سے 47 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان کے سرحدی علاقے بھی چاغی میں ہیں۔ راسکوہ کی سر زمین بھی اسی ضلع چاغی میں واقع ہے، جس نے وطن عزیز کے دفاع کی خاطر ایٹم بم کو اپنے سینے میں سموئے رکھ کے اور خود کالی چادر اوڑھ کر ملک کو ناقابل تسخیر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ضلع چاغی کے تحصیل نوکنڈی چیئرمین سینیٹ آف پاکستان حاجی محمد صادق خان سنجرانی کا آبائی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ ضلعی ہیڈ کوارٹر کے صدر مقام دالبندین سے 160کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ نوکنڈی شہر کے مشرق میں یک مچ، دالبندین، مغرب میں پاک ایران سرحدی پٹی پر واقع تفتان، شمال مغرب میں گولڈ میگا پروجیکٹس ریکوڈک اور سینڈک، شمال میں پاک افغان سرحدی علاقے پتکوک اور جنوب میں ضلع واشک کے تحصیل ماشکیل واقع ہے۔

یہاں نوکنڈی کے آس پا س علاقوں کا تذکرہ مقصود ہے۔ نوکنڈی سیم زدہ علاقہ ہے، جہاں شہر کے آس پاس 80 کلومیٹر تک پینے کے پانی کا حصول ممکن نہیں اور ساتھ ہی یہاں کی زمین پتھریلی اور بنجر ہونے کی وجہ سے گرمیوں میں یہاں شدید گرم موسم، جب کہ سردیوں میں قدرے کم سرد ہوتا ہے۔ مئی سے لے کر کے اگست تک یہاں درجہ حرارت کم سے کم 45 سے 48 سینٹی گریڈ رِکارڈ کیا جاتا ہے، اور یہ یاد رہے یہ علاقہ پاکستان کے گرم ترین علاقوں میں سر فہرست ہے۔ یہاں کی زمین کاشت کے قابل نہیں، جس کے باعث یہاں زرعی پیداوار صفر ہے۔ لیکن یہاں کھجور کے درختوں کی بہتات ہے۔ کھجور کے درخت محکمہ جنگلات اور نا ہی کسی منتخب عوامی نمایندے نے بلکہ یہاں کے باسیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لگائے ہیں۔ تا کہ مخالف ان کی زمینوں پر قابض نہ ہوجائیں۔ کہا جاتا ہے، درخت لگانا بخت جگانا ہے۔ نوکنڈی شہر میں پارک اور دیگر باغات نہ ہونے سے ان کھجور کے درختوں نے شہر کی خوب صورتی کو دو بالا کر دیا ہے۔ یہ درخت شہریوں کے لیے فرحت سے کم نہیں۔

نوکنڈی شہر کے علاوہ ملحق علاقوں عیسیٰ طاہر، براوک، گوالسٹاپ، راجے، ماشکیل، سرگیشہ، دالبندین، صالحان، پنیام اور پتکوک سمیت دیگر علاقوں کے مجموعی طور پر کھجور کے درختوں کی تعداد ہزاروں سے بڑھ کر ہے۔ جن کی کھجور کی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے۔ ان درختوں سے اعلیٰ قسم کے کھجور حاصل ہوتی ہے ۔قابل غور بات یہ ہے کہ یہاں موسم پاکستان کے دیگر علاقوں کی نسبت شدیدگرم ہونے سے کھجور جلدی پک جاتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اتنے بڑے رقبے میں لگائے گئے ہزاروں درختوں کے لیے ایک فیکٹری بھی قائم نہ ہو سکی، جہاں کھجور کو صفائی ستھرائی کر کے مارکیٹ تک پہنچایا جائے، یک مشت اپنی محنت کی کمائی رقم وصول کی جا سکے۔ وافر تعداد میں کھجور کی پیداوار کے باوجود، نہ باغ کے مالکان اور نا ہی عوامی نمایندوں نے کوئی مثبت اقدام کیے۔ اس دُور اُفتادہ علاقے میں کھجوروں کی صفائی ستھرائی کے لیے فیکٹری نہ ہونے سے ان کھجورروں کے مارکیٹ تک عدم رسائی اور اچھے بھاو فروخت نہ ہونے کے باعث درختوں کے مالکان اس کام کو کار زیاں سمجھتے ہیں۔

اِس جانب حکومت وقت کی توجہ مبذول کرا کے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اعلیٰ قسم کے کھجوروں کی مانگ کومدِ نظر رکھ کر ضلع چاغی میں فیکٹری کا قیام عمل میں لایا جائے۔ فیکٹری کی قیام کے عمل میں آنے سے نا صرف ان مالکان کے بلکہ فیکٹری میں سیکڑوں مزدوروں کوکھپا کے انھیں روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر درآمدات کی صورت میں ٹیکس کی مَد میں حکومت کو منافع بھی ہو گا۔ لہٰذا اس دُوراُفتادہ اور پس ماندہ علاقے میں فیکٹری کے قیام کے لیے چیئرمین سینیٹ آف پاکستان حاجی محمد صادق خان سنجرانی، رخشان ڈویژن کے ایم این اے اور بی این پی کے مرکزی رہنما میر حاجی محمد ہاشم جان نوتیزئی، ایم پی اے چاغی اور محکمہ صحت کے وزارت کا قلم دان سنبھالنے والے میر محمدعارف جان محمدحسنی، سابق صوبائی مشیر میر اعجاز خان سنجرانی و دیگر ارباب اختیار سے مناسب اقدام کامطالبہ ہے۔

زکریا ناروئی ضلع چاغی کے مقامی صحافی ہیں، جو کہ دو سال کے عرصے سے اخبارات اور چینل کی نمایندگی کر کے علاقائی مسائل کو رپورٹ اور تحاریر کے ذریعے اجاگر کرتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •