کاغان اور ناران کی تباہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنت نظیر وادِی کاغان جو سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات، برفیلی چوٹیوں، متعدد گلیشیئر اور شفاف جھیلوں کی وجہ سے مشہور ہے تقریباً 155 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ خیبرپختونخواہ کے ضلع مانسہرہ کے شمال میں واقع ہے۔ اس وادی کے دائیں طرف آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی نیلم جبکہ بائیں جانب وادِی کوہستان واقع ہے۔ پاکستان کے جنوبی علاقوں سے وادی میں داخل ہونے کے دو راستے ہیں۔ ایک براستہ ایبٹ آباد، مانسہرہ سے بالاکوٹ۔ اور دوسرا راستہ براستہ مری، مظفر آباد، گڑھی حبیب اللہ اور بالاکوٹ۔ بالاکوٹ کے مقام سے دریائے کنہار کا پل پار کرتے ہی ہم اس وادی میں داخل ہوجاتے ہیں جبکہ بابوسر پاس اس وادی کی آخری حد ہے۔ وادِی کاغان کا صدر مقام کاغان ہے لیکن سیاح قیام کے لئے شوگران اور ناران کو پسند کرتے ہیں۔

ویسے تو پوری وادیِ کاغان مسحور کن ہے اور پہلی ہی نظر میں سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے مگر اس وادی کے اہم تفریحی مقامات میں شوگران، سری، پائے، مکڑا پہاڑ، ناران، سیف الملوک جھیل، آنسو جھیل، لالہ زار، جلکھڈ، لولوسر جھیل، دودھی پت جھیل، ست سری مالا جھیلیں، نوری ٹاپ اور بابوسر پاس شامل ہیں جہاں ہر سیاح جانا چاہتا ہے۔

میں پہلی بار ناران 1989 میں گیا۔ میرا بچپن تھا مگر مجھے اچھی طرح کاغان تک جانے والی تنگ اور خطرناک پختہ سڑک یاد ہے۔ سڑک پختہ ہونے کے باوجود اس کی حالت اچھی نہ تھی۔ کاغان سے ناران تک کچی سڑک تھی، جیپ کے علاوہ گاڑی بہت مشکل سے ناران تک پہنچتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ کاغان اور ناران کے درمیان راستے میں 13 گلیشیر آتے تھے جن کے اوپر سے گاڑی گزار کر ناران تک پہنچنا ہوتا تھا۔ وہ گلیشئیر گرم مہینوں کے حساب سے سکڑ ضرور جاتے تھے مگر ختم کبھی نہیں ہوتے تھے۔ جھیل سیف الملوک تک جانے کے لئے بھی آدھا سفر جیپ پر اور آدھا پیدل کرنا پڑتا تھا کیونکہ راستے میں آنے والے گلیشیرز کے اوپر سے جیپ بھی نہیں گزر سکتی تھی۔

مجھے وادیِ کاغان اتنی اچھی لگی کہ جیسے ہی خودمختار ہوا میں نے ہر سال موسم گرما میں یہاں جانا شروع کردیا۔ شاید اب تک 25 یا اس سے زیادہ مرتبہ جاچکا ہوں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ناران تک چوڑی اور محفوظ پختہ سڑک بن گئی جس پر ہر قسم کی گاڑیاں چل سکتی تھیں۔ 2005 کے زلزلے میں اس علاقے میں بہت نقصان ہوا اور وادِی کاغان کی سڑک بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ جب سڑک کی تعمیر نو کی گئی تو اسے بابوسر پاس تک توسیع دے دی گئی۔ اچھی اور محفوظ سڑک بننے سے وادی میں سیاحت کو خوب فروغ حاصل ہوا جس سے مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آنے لگے۔

میں نے اپنے 25 سے زیادہ سیاحتی دوروں میں وادی میں جو تبدیلیاں دیکھیں یہاں ان کا مختصر ذکر کروں گا جس مقصد کے لئے میں یہ بلاگ لکھ رہا ہوں۔
25 سال کے عرصے میں وادیِ کاغان کے بیشتر جنگلات بیدردی سے کاٹ دیے گئے جس وجہ سے اس علاقے کے موسم پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج وادی کاغان کی مین شاہراہ بالاکوٹ سے لے کر بابوسر پاس تک کوئی ایک بھی گلیشیر موجود نہیں، اس کے علاؤہ ناران سے جھیل سیف الملوک جانے والے راستے پر بھی کوئی گلیشیر موجود نہیں ہے سب گلوبل وارمنگ کی نظر ہوچکے ہیں۔

وادی کاغان کی جھیلوں، جھرنون، آبشاروں اور دریاؤں میں شفاف نیلگوں پانی بہا کرتا تھا جسے سیاح اور مقامی افراد پیتے تھے مگر آج وہی گدلے پانی میں تبدیل ہوچکا ہے جسے کوئی چھونا بھی پسند نہیں کرتا۔ اس کی وجہ سینکڑوں کی تعداد میں بننے والے ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہیں جو سیوریج کا پانی پہاڑی نالوں، جھرنوں اور دریائے کنہار میں ملا رہے ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ آج سے صرف 8 سال پہلے ناران سے سیف الملوک کی مجموعی روڈ پر نہ تو کوئی عمارت تھی نہ ہی کوئی گاؤں اور نہ ہی کوئی خیمہ بستی۔ مگر آج سیف الملوک جھیل کے کنارے نہ صرف پورے کے پورے گاؤں آباد ہیں بلکہ کھیل ہی کے کنارے ہوٹل بھی بن گئے ہیں جو ادھر ادھر کے جنگلات کی کٹائی کرکے بنائے گئے ہیں، وہ سب سیوریج کا پانی سیف الملوک جھیل کے مقام سے دریا میں ڈال رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سیف الملوک جھیل روڈ پر بے شمار ہوٹل بن چکے ہیں جو ماحولیات کو تباہ کررہے ہیں۔

ناران کا بازار دو سے تین سو میٹر لمبا ہوتا تھا جس کے دونوں طرف قیام و طعام کے لئے ہوٹل تھے، پھر یہ بازار بڑھتا بڑھتا 3 کلومیٹر لمبا ہوگیا اور جب رش بڑھنے لگا تو حکومت نے ناران شہر کا بائی پاس روڈ بنا دیا۔ صرف تین سال کے عرصے میں اس نئے بنے بائی پاس روڈ پر بھی ہوٹل اور ریسٹورنٹ بن چکے ہیں۔ ناران کے ہوٹل اور ریسٹورنٹ اپنی ضرورت کا پانی جھیل سیف الملوک سے نکلنے والے نالے سے لیتے ہیں جو کہ جھیل روڈ پر موجود ہوٹلوں کی وجہ سے آلودہ ہوچکا ہے۔ اس پانی کو پینا یا کلی کرنا تو دور کی بات اس سے نہانے اور ہاتھ دھونے کو بھی دل نہیں کرتا۔

ایک اور بات جو مشاہدے میں آئی کہ ناران میں جیسے جیسے ہوٹلوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ویسے ویسے خیمہ بستیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ آجکل آپ ناران شہر میں داخل ہوں تو سب سے پہلے دائیں اور بائیں پھٹے پرانے ٹاٹ آور پرانی بوریوں سے بنی ہوئی 2000 کے قریب جھگیاں آپ کا استقبال کریں گی۔ مقامی لوگوں سے معلومات کہ کہ یہ کون لوگ ہیں جو اس طرح کی جھگیاں بنا کر یہاں آباد ہوگئے تو وہ لاعلم تھے۔ مقامی لوگ بس اتنا بتاتے ہیں کہ یہ آباد کار ہیں، کہاں سے آئے ہیں ہمیں نہیں معلوم، کیونکہ جہاں یہ جھگیاں لگا کر بیٹھے ہیں وہ زمین اور پہاڑ ہمارے نہیں ہیں اس لئے ہم ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ یہ لوگ بہت کم تعداد یہاں آکر آباد ہوئے اب ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ یہاں تک کہ مقامی پولیس کو بھی ان کے بارے میں کوئی علم نہیں یا شاید انہوں نے کوشش ہی نہیں کی یا دلچسپی نہیں لی۔

اسی طرح ناران سے آگے بابو سر پاس تک جگہ جگہ اس قسم کی جھگیوں کے پورے شہر بسے نظر آتے ہیں جو وہاں کے ماحول اور خوبصورتی کو تباہ بھی کررہے ہی اور جنگلات کی کٹائی میں بھی ملوث ہیں۔

جنرل سٹور اور ریسٹورنٹ بنانے کا کوئی معیار نہیں، مین شاہراہ پر کہیں بھی چار شہتیر کھڑے کرکے اردگرد ٹاٹ لگا کر ریسٹورانٹ اور جنرل سٹور بنا لیا جاتا ہے اور سامنے مین شاہراہ پر مٹی اور پتھر ڈال کر سپیڈ بریکر بھی بنایا جاتا ہے تاکہ شاہرہ سے گزرنے والی گاڑیاں وہ رکنے پر مجبور ہوں۔

155 کلومیٹر لمبی شاہراہ کاغان کی حالت اس وقت بہت خراب ہے، ہر 100 میٹر کے بعد بڑے بڑے گڑھے ہیں جن پر پیچ ورک کی ضرورت ہے۔ اس کے علاؤہ سڑک کا شاید ہی کوئی حصہ باقی ہو جس پر لینڈ سلائیڈنگ سے گرنے والے پتھر نہ پڑے ہوں۔ ایسے پتھر جنہیں ہاتھوں سے اٹھا کر سائیڈ پر کیا جاسکتا ہے تاکہ سڑک بھی صاف رہے اور حادثات کا خطرہ بھی نہ ہو مگر میں نے ایسا دیکھا کہ حکومت کی طرف سے سڑک کو صاف کرنے کا کوئی بھی انتظام سرے سے موجود ہی نہیں ماسوائے کوئی بڑی لینڈ سلائیڈنگ ہوجائے۔

پوری وادی کاغان میں ایک بھی پبلک ٹوائلٹ موجود نہیں، نہ ہی سرکاری اور نہ ہی پرائیویٹ۔ کچھ لوگوں نے جگہ جگہ زمین میں چار بانس لگا کر ان کے ارد گرد رنگدار پلاسٹک لپیٹ کر انہیں ٹوائلٹ کا نام دے رکھا ہے، جہاں 50 روپے چارج کیے جاتے ہیں اور جو مجبوری کی حالت میں وہاں جاتا ہے ان میں سے آدھے قے کرتے ہوئے باہر آتے ہیں اور جو قے کرنے سے بچ جاتا ہے وہ کروڑوں جراثیم کی وجہ سے کسی اور بیماری کا شکار ضرور ہوتا ہے جیسے فلو یا اسہال۔

حکومت کی طرف سے مختلف تفریحی جگہوں پر نصبکیے گئے ٹریش کین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ کئی جگہ پر تو سرے سے موجود ہی نہیں جس وجہ سے ٹنوں کے حساب سے پلاسٹک کی بوتلیں اور ریپر جگہ جگہ پر بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں جو نہ صرف ماحول کو تباہ کررہے ہیں بلکہ جنگلی حیات کے لئے بھی موت کا سامان ہیں۔

وادی کاغان کی بیدردی سے تباہی جاری ہے میں نے موضوع کو مختصر رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے مگر یہ پھر بھی طوالت اختیار کرگیا ہے۔ یہ ہم سب پاکستانیوں کے سوچنے والی بات ہے کہ وادیِ کاغان کو جس طرح تباہ کیا جارہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہم ہیں؟ یا ضلعی انتظامیہ مانسہرہ؟ یا حکومت خیبرپختونخواہ؟ یا وفاقی حکومت؟ فیصلہ آپ کریں۔ شکریہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد علی عمران کی دیگر تحریریں
محمد علی عمران کی دیگر تحریریں