ہماری معیشت کے خلاف احمدیوں کی سازش کا بھانڈا پھوٹ گیا
ساری دنیا پاکستان کی معاشی ترقی، حاجیوں کی تعداد، گوگل پر ہماری سرچ کے ٹاپک اور خادم حسین رضوی صاحب کے نڈر نعروں سے ڈرتی اور جلتی ہے۔ ہمارا کامل ایمان ہے اور دشمنوں کو اندر اندر ہی معلوم ہے کہ انہی چار چیزوں کے سہارے ہم نے دنیا پر غلبہ پا لینا ہے۔ دنیا کو یقین ہے کہ یہ ہونا تو ہے ہی، کب ہونا ہے اس بات پر دو رائے ہو سکتی ہیں۔ ایک رائے یہ کہتی ہے کہ جونہی امریکہ مریخ پر اپنی بستیاں بسائے گا تو روس بھی وہاں پر اپنی کالونی بنانے کے لیے حصہ مانگے گا۔ اس بات پر امریکہ اور روس میں ایک زبردست لڑائی ہو گی۔ یہ وہ وقت ہو گا جب ادھر امریکہ کی ساری توجہ مریخ پر روس کے ساتھ جنگ اور قبضے پر ہو گی تو پاکستان دنیا پر چھا جائے گا اور اکیلی سپر پاور بن جائے گا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اگر مریخ پر جنگ نہ ہوئی تو کچھ عرصے بعد نیپچون پر ہو جائے گی اور ہم غالب آ ہی جائیں گے۔ اس وقت مودی تو مر چکا ہو گا لیکن ہم دوزخ میں اس کو یہ خبر پہنچا کر اسے اندر سے بھی جلائیں گے، باہر سے تو جل ہی رہا ہو گا۔
یہی ہمارے غالب آ جانے کا خوف ہے جو ہمارے دشمنوں کو کھائے جا رہا ہے۔ حالانکہ ان کی نجات بھی اسی میں ہے کہ اپنا عقیدہ بدل لیں یا مغلوب رہیں کیونکہ اللہ کی زمین پر حکمرانی کا حق انہیں ہے ہی نہیں۔ لیکن وہ نادان سمجھتے نہیں اور سازشوں پر سازش کرتے جا رہے ہیں۔ ان سازشوں میں وہ ہمارے ایمان اور عقیدے کو نشانہ بناتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ ہمارا عقیدہ ہی ہماری طاقت ہے اور اس میں گڑ بڑ کرنے میں اگر وہ کامیاب ہو جائیں گے تبھی ہماری فتوحات کو وہ روک پائیں گے۔
یہ جو ڈاکٹر عاطف میاں ہے اور بڑا معیشت دان بنا پھرتا ہے اس کو ہماری معیشت کو کمزور کرنے کی سازش تحت پلانٹ کیا گیا تھا۔ اس سازش میں ٹرمپ، مودی، مسٹر بین اور مستری خدا بخش شامل تھے۔ مستری خدا بخش چار دیواری کی تعمیر کا کام کرتا ہے اور اسی بہانے لوگوں کے گھروں میں جھانکتا ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی سازشوں کو کامیاب بنانے کے لیے ایجنٹ ڈھونڈتا ہے۔
مودی اور ٹرمپ کے درمیان پاکستانی معیشت کو پھلنے پھولنے سے روکنے پر اکثر بات ہوتی رہتی ہے۔ حالانکہ وہ دونوں ہی پاکستان کی پالیسیوں کی نقل کرتے ہیں اور وہ بھی امریکہ اور انڈیا میں وہی پالیسیاں چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہم نے چالیس سال قبل شروع کی تھیں۔ وہ دونوں ہی عقیدے کی پختگی پر بہت یقین رکھتے ہیں۔ جب سے ان دونوں نے اپنے اپنے ملک کی حکومتوں کی باگ ڈور سنبھالی ہے اس وقت سے انہیں ان کی عوام کے اکثریتی عقیدے کی فکر ہے اور وہ اس کے بچاؤ کے لیے کھلم کھلا بیان دیتے ہیں اور اس کے تحفظ کے لیے سوچتے رہتے ہیں۔ لگتا ہے کہ اس سلسلے میں انہیں خاطر خواہ کامیابیاں بھی حاصل ہو رہی ہے۔ وہاں کی اقلیتوں کی اکڑ دور ہو رہی ہے۔ خاص طور انڈیا میں اگر مودی جی کو ایک ٹرم اور مل گئی تو کافی لوگ اپنے گھر واپس لوٹ جائیں گے یعنی ہندو مذہب اپنا لیں گے۔ اس طرح بھارت کی ہندو اکثریت محفوظ ہو جائے گی اور مودی پر فخر کرے گی جیسے ہم آج مرد مومن مرد حق پر فخر کرتے ہیں۔
تو ہم کہہ رہے تھے کہ ٹرمپ اور مودی میں ایک خفیہ ملاقات میں پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کا معاہدہ ہوا اور مودی نے اس سلسلے میں مناسب ایجنٹ دھونڈنے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ تب مودی جی نے نوجوت سنگھ سدھو کو پاکستان بھیجا تاکہ وہ اس سلسلے میں خفیہ فیلڈ ورک کر سکیں۔ نو جوت سنگھ سدھو نے یہاں بڑے اہم لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور مودی کو رپورٹ پیش کر دی۔ مکمل چھان بین کے بعد اس کام کے لیے مودی جی نے ایک جعلی اکانومسٹ عاطف میاں کا انتخاب تو کر لیا مگر اس کو اہم عہدے پر فائز کروانا اصل معاملہ تھا۔ اس سلسلے میں ٹرمپ نے مودی کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بنگالی بابے کا سہارا لے اور عملیات کے زور سے عاطف میاں کی تقرری کروا لے، لیکن مودی نے ٹرمپ کو بتایا کہ اب پاکستان نے اس معاملے میں بہت ترقی کر لی ہے اور بنی گالہ کو بنگالی بابوں پر واضح برتری حاصل ہو گئی ہے۔ لیکن مودی نے وزیر خزانہ اسد عمر کو قابو کرنے کا سوچا اور اس کا بندوبست بھی کر لیا۔
اس سلسلے میں مستری خدا بخش کا انتخاب کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مستری صاحب نے اسد عمر کو لالچ دیا کہ اگر وہ عاطف میاں کو ایڈوائزری کونسل میں شامل کر لے تو وہ دوبارہ انہیں اینگرو میں فٹ کرا دے گا۔ اسد عمر اس لالچ میں آ گیا اور اس نے میاں عاطف کے نام سے کچھ جعلی تحقیقی مقالے وغیرہ چھپوا دیے اور اس کو ایڈوائزری کونسل میں شامل کر لیا۔ مودی اور ٹرمپ اپنی اس کامیابی پر خوش ہو گئے۔ انہیں یقین تھا کہ اب پاکستان کی معاشی ترقی کو وہ روک لیں گے۔
وہ تو شکر ہے کہ ہماری ذہین مذہبی اشرافیہ اس سازش کو بھانپ گئی اور انہوں نے اس سازش کو بروقت بے نقاب کر دیا۔ اس وقت ہماری حکومت کی یوٹرن والی طاقت کام آئی اور اس غلطی کی درستگی کر لی گئی۔ اس طرح سے ٹرمپ، مودی، مسٹر بین اور مستری خدا بخش کو منہ کی کھانی پڑی اور پاکستانی اشرافیہ اور حکومت جیت گئی۔ مسٹر بین خاص طور پر پریشان ہے کیونکہ اس کے پروگرام دیکھنے والے کم ہو گئے ہیں۔ زیادہ لوگ اب پاکستان گورنمنٹ کی خبروں سے محظوظ ہوتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت اسلام دشمنوں کی ایک بڑی عالمی سازش سے بچ گئی۔ کچھ سازشی لوگ سوشل میڈیا پر باتیں کر کے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جیسے مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ہم کوئی امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ ایسے سازشیوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ ایک بندے کو اس کے مشکوک عقیدے کی وجہ سے تین دن کے اندر ایک اہم عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے تو اس میں امتیازی سلوک کہاں سے آ گیا ہے۔


