چندے آفتاب چندے ماہتاب
نئے پاکستان میں سب کچھ نیا ینا چل رہا ہے، کبھی کسی کو نامزد کرتے ہیں پھر نامزدگی واپس لیتے ہیں۔ کبھی وزیر خارجہ اپنے خیالی گھوڑے دوڑاتے ہیں تو کبھی ڈٹ کر بیان بازی کرتے ہیں۔ پاکستان کو درپیش مسائل میں سے سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے اور نئی حکومت نے اسے تسلیم کرتے ہوئے ڈیم بنانے کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا چونکہ خزانہ خالی اور قرضوں کا بوجھ وراثت میں ملا تو فیصلہ ہوا کہ چندہ جمع کیا جائے، پاکستانی ویسے ہی غیرت مند قوم ہے ملکی معاملات میں غیرت دلاؤ تو جان دینے کو تیار ہوجاتے ہیں پھر تو یہ چندے آفتاب اور چندے ماہتاب ہے پہلا چندہ فنڈ تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب بنا چکے ہیں جو چندے آفتاب سے کم نہیں، دوسرا چندہ فنڈ وزیراعظم نے قائم کیا وہ کسی چندے ماہتاب سے کم نہیں اب پاکستانی قوم ان چندوں کا کیا جواب دیتی ہے دیکھتے ہیں۔
ویسے چندے کی تاریخ بہت پرانی ہے، روایت ہے کہ پیارے نبیۖ نے بھی مدینہ میں مسلمانوں کے لیے چندہ اکھٹا کیا۔ قیام ِ پاکستان کے زمانے میں سر سید احمد خان نے ایم اے او کالج کی بنیاد رکھنے کے لیے چندہ اکھٹا کیا۔ پینسٹھ کی جنگ اور اکہتر کی جنگ میں بھی فنڈ قائم کیا گیا، اس سے قبل ہر سال مشرقی پاکستان میں سیلاب آنے پر فلڈ ریلیف فنڈ قائم کیا جاتا جس میں سرکاری ملازمین کی ایک دن کی تنخواہ لازمی دی جاتی تھی اور یہ فنڈ پاکستانی قوم کا نصیب بن گیا تھا لیکن پاکستانی قوم اس سے پیچھے نہیں ہٹی ہر مرحلے پر اپنی تنخواہوں سے جبری چندہ کٹوایا اور کچھ نہ کہا۔
سیاسی جماعتوں کا چندہ جمع کرنا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، خاص طور سے اسلامی اسلامی جماعتیں تو شاید چندے پہ ہی چل رہی ہیں۔ کراچی کی ایک معتوب سیاسی جماعت ایم کیو ایم کا قائد جب چندہ کی چادر جلسے میں بھیجتا تو عورتیں سونے کی چوڑیاں تک اتار کر اس میں ڈال دیتی تھیں۔ چندہ بڑے کام کی چیز ہے اس سے بڑے کام نمٹائے گئے، ہمارے وزیراعظم نے شوکت خانم ہسپتال کو بنانے کے لیے چندہ جمع کیا۔ رمضان کے مہینے میں زکواة اور چندے کے مستحق کھل کر سامنے آجاتے ہیں اور باقاعدہ اشتہار دے کر زکواة ، فطرہ، چندہ وصول کرتے ہیں۔ یہ کوئی بری بات نہین آخر اس پیسے کو کہیں تو کام میں لانا ہے کسی نیک مقصد کے لیے استعمال ہو جائے تو کیا برا ہے۔ چندے کے پیسے سے مدرسے، مسجدیں، ہسپتال، یونیورسٹیاں تو بن سکتی ہیں، امدادفی کام ہو سکتے ہیں پر ڈیم بنانا ممکن نہیں۔
ہمیں اعتراض تو حکومت پر ہے اب ان بڑے بڑے منصوبوں کے لیے چندہ مانگا جارہا ہے جو سراسر حکومت کے کرنے کے ہیں ۔ حکومت اپنے ذرائع آمدنی کے ساتھ ملکی وسائل بڑھائے ، اتنے قیمتی پتھر پاکستان میں نکلتا ہے، کوئلہ، گیس ، کپاس ان سب وسائل کو کام میں لایا جائے اس کے لیے خارجہ تعلقات میں اضافہ کیا جائے، ڈیم جیسے منصوبے چندے سے نہیں بنائے جاسکتے، یہ حکومت بھی جانتی ہے ہر گزرنے والا دن ڈیم کی لاگت میں اضافہ کر رہا ہے اس لیے عوام کو ایک نیا سبز باغ دکھانا کیا فائدہ۔
آپ خود سوچیں بھاشا ڈیم کے بنانے کی لاگت و بجلی سپلائی تک 1400 سو ارب روپے درکار ہیں۔ دو ماہ میں دو ارب جمع ہوئے ہیں بقیہ پیسے کہاں سے آئیں گے لوگ بار بار چندہ تو نہیں دیں گے۔ اوورسیز پاکستانی ڈالرز بھی بھیجیں تو تب بھی ایک حد تک فنڈنگ حاصل ہوگی اس کے لیے دورس اقدامات کرنے ہوں گے۔ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام سے خطیر رقم مختص کرنی ہوگی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ملک میں سرمایہ کاری کروائی جائے تاکہ مستقل انتظام ہوسکے۔ پوری مملکت چندے یا زکواة پر نہیں چل سکتی، اس کے لیے حکومت کو سوچنا ہوگا، دفاع کے بجٹ میں کمی اور ملکی قرضے اتارنے کے لیے مختص رقوم سے مدد لی جاسکتی ہے۔
حکومت نے لوٹی گئی فولت اور بغیر ٹیکس ادا کیےباہر جانے والا پیسہ واپس لانے کے لیے ٹاسک فورس بنا دی ہے جس کے تحت ریکوری یونٹ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف چیف جسٹس نے بھی بیرون ملک اثاثوں اور بنک اکاونٹس سے متعلق از خود نوٹس لیا ہوا ہے۔ یہ سارا پیسہ ریکوری کے بعد ڈیم کی تعمیر پر لگایا جاسکتا ہے، اگر اسی طرح دیر کی تو ڈیم تعمیر میں خرچہ بڑھتا رہے گا۔ یہ چندے چندے کا کھیل کرکے عوام سے مذاق نہ کیا جائے، عوام تو ہر دور میں گردن کٹانے کو تیار ہے، ہر قربانی دینے کو تیار لیکن ڈیم بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ چندے آفتاب چندے ماہتاب سے کام نہیں چلے گا، اب عملی کام کرنا ہوں گے حقیقت پسندی سے کیونکہ پانی کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔


