ہمیں واپس نہیں آنا، بس ڈالر بھیجنے ہیں
ہمیں بچپن سے خواب دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ گرمیوں کی راتوں میں جب سب سو جاتے تو ہم گھنٹوں اپنے چھوٹے سے بستر پر آنکھیں میچے لیٹے رہتے۔ خود کو نئی نئی جگہوں پر لے کر جاتے۔ مزیدار کھانے کھاتے۔ دنیا گھومتے۔ نئے نئے لوگوں سے ملتے اور ان کے ساتھ مل کر خوب ہنستے۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جس میں کوئی اسکول نہیں تھا۔ بات بات پر ٹوکنے والی آسانیاں نہیں تھیں۔ امی کہیں جانے سے روک نہیں پاتی تھیں کیونکہ ہمارے تو پر تھے۔ رنگ برنگے، جھلملاتے۔ ہمارا جہاں جی چاہتا اڑتے پھرتے۔
جیسے ہی دوپہر ختم ہوتی اور امی کے جاگنے کا کھٹکاہوتا ہم بھی فورا واپسی کا سفر باندھتے۔ آنکھیں کھولتے اور خود کو گھر میں روتے بسورتے بہن بھائیوں کے ساتھ پاتے۔ رات کا خواب انسان کی دسترس میں نہیں۔ دن کا خواب تو اپنی جاگیر ہے۔ جہاں تک چاہو گھوڑے دوڑاؤ۔ دوپہر کے یہ چند گھنٹے ہماری متاع حیات تھے۔ عمر کے ماہ و سال لمحے بن کر اڑتے گئے۔ ہم جوانی کی دہلیز پر آ کھڑے ہوئے اور خوابوں کی نوعیت بدلنے لگی۔
اب ہمارا گزارہ صرف چاکلیٹ سے نہیں تھا۔ اب ہم نیویارک کی گلیوں میں پھرتے۔ خود کو بڑی شخصیات سے ملاقات کرتے دیکھتے۔ جھیل کنارے گھر کے مالک ہوتے جہاں جب دل چاہتا کشتی نکال لیتے۔ بڑے بڑے اخباروں میں ہمارا طوطی بولتا۔ دنیا کی بہترین یونیورسٹیاں ہم سے اعزازی لیکچروں کے لئے درخواست کرتیں جو ہم کوشش کرتے کہ قبول کر لیں۔ جہاں جاتے عزت و تکریم سے ہمارے جاتے۔ کہیں آواز گونجتی
‘سب سے کم عمر پاکستانی جنہوں نے اس عظیم درسگاہ میں تدریس کا اعزاز حاصل کیا‘
اس کے بعد ہم اپنی چمکتی سیاہ ہیل میں اسٹیج کی طرف بڑھتے اور اپنے آنسوؤں کو مشکل سے چھپاتے۔ اس کے بعد لاہور کی فلائٹ پکڑتے جہاں ائرپورٹ پر سینکڑوں لوگ ہمارے منتظر ہوتے۔ ہمارے ساتھ ایک سیلفی بنوانے کو اپنی خوش قسمتی گردانتے۔ ہمیں پاکستان میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا۔ درسگاہیں ہمارے لیکچروں کی متمنی ہوتیں۔ حکومت ہمارے تجربے اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے بیتاب ہوتی۔ امی بہت خوش ہوتیں اور اپنی سہیلیوں کو اخباروں کے تراشے دکھاتیں جن میں ہمارے انٹرویو چھپتے۔
ہم اپنے انہی خوابوں کے حصول میں گامزن تھے کہ یکبار یوں لگا کہ امی اٹھ گئی ہیں اور اب ہمیں بھی اس دنیا کو لوٹنا ہوگا۔ کہانی ختم ہونے والی ہے۔
کانوں میں پڑا کی ممتاز ماہر معیشت ڈاکٹر عاطف میاں جن کے گن پوری دنیا گاتی ہے ہماری لاغر معیشت کو سنبھالنے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کا مذہب ہم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ڈاکٹر صاحب بھلے کتنی ہی کتابیں لکھ لیں اور دنیا سے کتنی ہی داد بٹور لیں ہمارے ہاں ان کا داخلہ ممنوع رہے گا۔ ہمیں کسی کے نوبیل پرائز یا قابلیت سے کوئی سروکار نہیں اگر اس کا عقیدہ ہم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہم بجلی پانی کے بغیر جی لیں گے۔ سارا دن بستر توڑنے کے بعد اپنے ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کے کفر کے فتوے جاری کر لیں گے۔ اپنے گھروں میں ہی انسانی حقوق کی پامالی کے عظیم ریکارڈ قائم کر لیں گے لیکن خدانخواستہ کسی باطل عقیدے کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیں گے۔ عورت کو نان نفقہ تک نہیں دیں گے لیکن اپنی مرضی کے اسلام پر سب کی گردنیں اڑائیں گے۔
شاید عاصم اعجاز اور عمران رسول کا عقیدہ بھی کمزور تھا کہ انہوں نے بھی اس فیصلے کے خلاف اپنے استعفے پیش کر دیے۔
ایک طرح سے دیکھا جائے تو نقصان صرف پاکستان کا ہوا ہے۔ یہاں سے باہر بسنےوالے پاکستانی جنہیں ملک چھوڑنے کا طعنہ دیا جاتا ہے اب ان کو کچھ مت کہئے گا۔ جس نے آنا چاہا اس کے ساتھ کیا ہوا؟ خیر اچھا ہی ہوا۔ یہاں آ جاتے تو مزید دلبرداشتہ ہوتے۔
لگتا ہے اب ہمیں بھی خوابوں میں ترمیم کرنی ہو گی۔ وہ جو پاکستان واپس آ کر پھولوں کے ہاروں کا خواب تھا اس کو محض حج تک رکھنا ہو گا۔ باقی قابلیت اور کچھ پانے کے سپنوں کو ملک کی حدود سے باہر ہی رکھنا ہو گا۔ ملک کی خدمت کا بہت شوق ہے تو وہیں سے بیٹھ کر ڈالر بھیجنے ہوں گے۔ یہاں کسی کو صلاحیتوں اور قابلیت سے تو سروکار نہیں۔
ہمیں جا کر واپس نہیں آنا۔ بس ڈالر بھیجنے ہیں۔ ان سے ڈیم بنا لیجیے گا۔


