بلاول! مایوس مت کرنا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی کے بیٹے بلاول کے نام!

آپ سندھ کی نوجوان سیاسی شخصیت ہیں، جن سے سندھ اور سندھیوں کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ یہ امیدیں آپ کی سیاسی تقریریں سن کر اُس وقت اور بھی مضبوط ہوجاتی ہیں، جب آپ خود کو شہید ذولفقار علی بھٹو کا نواسہ اور شہید بے نظیر بھٹو کا بیٹا کہہ کر متعارف کراتے ہیں۔

بلاول! سب جانتے ہیں کہ آپ حاکم علی زرداری مرحوم کے پوتے اور آصف علی زرداری کے اکلوتے فرزند بھی ہیں لیکن آپ نے اپنے خطاب میں کبھی اپنے دادا اور والد کا حوالہ نہیں دیتے۔ یہ امر دنیا کے لیے حیرانی کا باعث ہوسکتا ہے مگر سندھیوں کے لیے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔

کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ سندھ آج جیسا ہے، جہاں ہے، اس کے پیچھے آپ کے خاندان کومیراث میں منتقل ہونے والی پیپلزپارٹی کی حکومت اور اس کے رہنماؤں کا کردار ہے۔ پی پی وہ سیاسی میراث ہے جو آپ کے نانا اور آپ کی عظیم والدہ سے آپ کو ملی ہے، یعنی بھٹو خاندان سے۔

مگر اس الیکشن میں چشم فلک نے یہ افسوس ناک نظارہ بھی دیکھا کہ بھٹو کی پارٹی نے سندھ بھر میں کسی بھٹو امیدوار کو کسی بھی ایوان میں نمائندگی کرنے کے لائق نہیں سمجھا۔ ایسا ہی ہے نا بلاول؟ یا ہم کسی ایسے امیدوار کو نظرانداز کر گئے ہیں جو بھٹو تھا۔ یعنی اصلی نسلی بھٹو تھا!

بلاول! آپ کی شہید والدہ جب پہلی بار اس ملک کی وزیراعظم بنی تھیں، تب انھوں نے لاڑکانہ سے لاہور تک، کراچی سے کوئٹہ تک اور پشاور سے پوٹھوہار تک پی پی کے غریب کارکنوں کو ملازمتیں دینے کے لیے پلیسمنٹ بیورو جیسے ادارے قائم کیے تھے۔

انھوں نے اپنے کارکنوں کے مطالبات پر ان کی غربت زدہ کچی جھگیوں والے گوٹھوں میں اسکولوں کی پکی عمارتیں بنوائی تھیں اور اسپتالوں کی بنیادی سہولتیں عطا کی تھیں۔ نہ صرف اتنا بلکہ ان کی کابینہ کے وزیروں نے بھی اپنی لیڈر بی بی کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کو اہمیت دی تھی۔

بی بی شہید کی شخصیت میں عوامی خدمت کی وہ عادت، ان کے عظیم والد قائد عوام سے منتقل ہوئی تھی۔ جن کے دورحکومت میں کسان اور مزدور نے پہلی مرتبہ اپنی حلال کمائی کا سو روپے کا نوٹ دیکھا تھا! آپ کے والد اور آپ نے عوام کے لیے ایسا کچھ کیا ہے؟

بلاول! کہاجاتا ہے کی انسان کی شخصیت پر اس کے نام کا اثر ضرور پڑتا ہے۔ ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ آپ کا نام آپ کے والد نے منتخب کیا تھا یا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا یہ انتخاب تھا۔ مگر آپ کو بہرحال اس نام کے پس منظر کا لازماً پتا ہوگا۔

شہید مخدوم بلاول باغبان والے کے نامِ نامی پر آپ کو یہ نام دیا گیا ہے۔ مخدوم بلاول سندھ کے نام پر قربان ہوگئے تھے مگر انھوں نے ظالم حاکم کے سامنے ہار نہیں مانی تھی۔ انھیں جو سزا ملی تھی، وہ بھی عبرت کی خوفناک مثال تھی۔ انھیں کولہو میں زندہ پیلا گیا تھا۔

جب انھیں کولہو میں ڈالا جا رہا تھا، تب انھوں نے فرمائش کی تھی کہ انھیں پیروں کی جانب سے کولھو میں ڈالا جائے تاکہ انھیں موت کے درد کا احساس ہو! یہ بہادری اور برداشت کی انتہا تھی۔ تو بلاول! آپ کا نام، سندھ پر اپنا سر صدقہ کرنے والے اس عظیم انسان کے نام پر ہے۔

مگر یہ بتائیں کہ آپ کے کریڈٹ پر سندھ کے حوالے سے آج تک کیا کارنامہ درج ہوا ہے؟ سندھ آپ سے جان نہیں مانگتا مگر جان کی امان تو مانگ تو مانگ سکتا ہے نا؟ یہی وقت ہے اور یہی آپ کی عمر ہے کہ آپ جوانی کے جوش میں اپنے سندھ اور اس کے محروم باسیوں کے لیے کچھ کرسکتے ہیں۔

جیسے کہتے ہیں کہ جوانی دیوانی ہوتی ہے، ویسے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جوانی مصلحت اور مفاد سے ذرا فاصلے پرر ہتی ہے۔ اس عمر میں کچھ کر گزرنے، دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے اور اپنا نام امر کرنے کی خواہش آدمی کو بے چین رکھتی ہے۔ آپ کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہے بلاول؟

دنیا میں جو بھی مثبت تبدیلی اور بھلائی آتی ہے، اس کے پیچھے نوجوانوں کا کردار لازماً ہوتاہے۔ جوانی کی عمر ہوتی ہی ایسی ہے کہ آدمی چاہے تو دنیا فتح کرسکتا ہے۔ عظیم فاتحوں زندگیوں پر نظر ڈال کر دیکھ لیں۔ آپ کو پتا چلے گاکہ دنیا کو تبدیل کرنے اور اس پر اثر انداز ہونے کے جو بھی کارنامے انھوں نے انجام دیے ہیں، وہ ان کی ایامِ جوانی میں ہوچکے تھے۔

سکندراعظم، محمد بن قاسم، ظہیرالدین بابرجیسی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ بلاول!آپ سندھ میں بسنے والے 99 فیصد بدنصیب بچوں سے بہت زیادہ پڑھے لکھے ہیں، آپ کو دنیا دیکھنے کے مواقع بھی ہم سب سے زیادہ میسر ہیں۔

آپ دنیا میں جہاں بھی گئے ہوں گے، آپ نے یہ دیکھا ہوگا کہ زندہ قوموں کے لیڈر اپنے عوام اور موجودہ کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کو تعلیم، صحت، روزگار، رہائش اور دوسری بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کے لیے اپنی جان لڑادیتے ہیں۔ یہاں، ایسا کیوں نہیں ہے بلاول؟

پچھلے دنوں آپ نے سندھ کے وزیراعلیٰ کو جو ہدایات جاری کی تھیں، ان کے مطابق آپ نے انھیں چھ ماہ کا وقت دیا ہے کہ وہ اس دوران سندھ میں تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر شعبوں کے مسائل حل کریں اور عوام کو ریلیف دیں۔ لیکن بلاول! آپ نے اپنے آزمائے ہوئے وزیراعلیٰ کوکیا ایسی ٹیم بھی دی ہے جو عوام کی ہمدرد ہو اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کی نیت رکھتی ہو؟

سندھ کی کابینہ کے چہرے وہی ہیں جو پہلے تھے۔ سندھ کےانتظامی افسر شاہی کو لاٹ بھی وہی ہے جو سندھ کے وسائل لوٹتا آرہا ہے اور گردن گردن کرپشن میں دھنسا ہواہے۔ تو میرے پیارے بلاول سائیں! ایسے رہنماؤں اور ایسی افسر شاہی کے ساتھ آپ اچھائی کی امید کیسے کر سکتے ہیں؟

ہماری نہایت محترم اور پیاری بی بی کے پیارے اور راج دلارے بلاول! اس سب کے باوجود، آپ سے ہمیں بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ اللہ کے واسطے، خود کو متحرک کیجیے، مسائل کو حل کرنے کے لیے خود ہی کوشش کریں۔ سندھ کو مایوس مت کریں۔

شبیر سومرو سندھی اور اردو کے عامل صحافی، فیچر نویس اور شاعرہیں۔ ان کے رپورتاژ اور ادبی موضوعات پر کئی کتابوں کے مصنف، مولف اور مترجم ہیں۔ گذشتہ بیس برس سے اردو اخبارات کے شعبہ میگزین سے منسلک رہتے آرہے ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •