جانور راج : انقلاب آ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تیسری رات، میجر، سوتے سوتے، سکون سے فوت ہوگیا۔ اس کی نعش، پھلوں کے باغ کے پائینتی دفن کر دی گئی۔ یہ اوائلِ مارچ کے دن تھے۔ اگلے تین ماہ میں خوب خفیہ کارروائیاں جاری رہیں۔ میجر کی اس تقریر نے باڑے کے ذہین جانوروں پہ زندگی کی ایک بالکل نئی جہت وا کر دی تھی۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ جس انقلاب کی میجر نے بشارت دی تھی، کب آئے گا۔ گو یہ سوچنا کہ انقلاب ان کی زندگیوں میں ہی آ ئے گا، قرینِ قیاس تھا، لیکن انہیں صاف نظر آ رہا تھا کہ اس تبدیلی کے لئے تیار رہنا ان کا فرض ہے۔

دوسروں کی تربیت اور تنظیم کا کام، قدرتی طور پہ سؤروں کے سر پڑا، جو کہ جانوروں میں عمومی طور پہ سب سے سیانے سمجھے جاتے تھے۔ سؤروں میں سب سے نمایاں دو جوان سؤر، نپولین او ر سنو بال تھے، جنہیں جانی صاحب، بیچنے کے لئے پال رہے تھے۔ نپولین، ایک لمبا چوڑا، ذرا غصیل سا چتکبرا سؤر تھا۔ پورے باڑے میں وہ ایک ہی چتکبرہ سؤر تھا۔ زیادہ بولنے بالنے والا تو نہیں تھا لیکن اپنی دھن کا پکا تھا۔

سنوبال، نپولین کی نسبت زیادہ ہنس مکھ تھا۔ بول چال میں تیز ترکھا اور جدت پسند تھا، لیکن اس کا کردار نپولین والی گہرائی کا حامل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ باڑے پہ باقی سارے نرسؤر کاٹو مال تھے۔ ان میں ایک چربایا ہوا، کلے پہ کلا چڑھا، ٹھگنا، پھرتیلا، باریک آواز اور چمکتی آ نکھوں والا سؤر، چیخم چاخ، بڑا معروف تھا۔ وہ کمال کا مقرر تھا اور جب وہ کسی ادق موضوع پہ بحث رہا ہوتا تھاتو، ایک ادائے خاص سے دم ہلاتے ہوئے ادھر سے ادھر پھدکتا تھا اور یہ ادا، مخاطب کو قائل کر کے ہی چھوڑتی تھی۔ بقول شخصے، چیخم چاخ، سیاہ کو سفید میں بدلنے میں ماہر تھا۔

ان تینوں نے، بوڑھے میجر کی تعلیمات کو ایک مکمل نظامِ فکر میں ڈھالاجسے انہوں نے، ‘ حیوانیت ’ کا نام دیا۔ جانی صاحب کے سو جانے کے بعد، ہفتے کی کتنی ہی راتیں وہ باڑے میں خفیہ جلسے کر کے دیگر جانوروں کو، ‘ اصولِ حیوانیت‘ سمجھانے میں کالی کرتے تھے۔ ابتداء میں ان کا پالا، حماقت اور بے حسی سے پڑا۔ کچھ جانوروں نے، جانی صاحب جسے وہ آقا کہتے تھے کی وفاداری کا دم بھرا اور ایسی بے تکی سی باتیں کیں، ’جانی صاحب ہمیں کھانے کو دیتا ہے، وہ چلا گیا تو ہم فاقوں مر جائیں گے۔ ‘ اقیوں نے کچھ ایسے سوال پوچھے، ’ہمیں اس کی پروا کیوں کرنی چاہیے کہ ہمار ے مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ ‘ ا، ’اگر یہ انقلاب آ کر ہی رہنا ہے تو اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم اس کے لئے کچھ کریں یا نہ کریں‘ اور سؤروں کو انہیں یہ سمجھانے میں دانتوں پسینہ آ جاتا تھا کہ یہ بات، ’حیوانیت‘ کی روح کے خلاف ہے۔ سب سے احمق سوال، سفید بچھیری مولی کرتی تھی۔ اس نے سنوبال سے جو پہلا سوال کیا وہ یہ تھا : ’ کیا انقلاب کے بعد بھی مجھے گڑ ملتا رہے گا؟ ‘

’نہیں! ‘ سنو بال نے مضبوطی سے کہا۔ ’ ہمارے پاس، گڑ بنانے کے وسائل نہیں ہیں۔ مزید برآں تمہیں گڑ کی کوئی ضرورت نہیں۔ جی بھر کے جئی اور چارہ کھانا نا‘‘
’اور کیا مجھے تب بھی اپنی ایال میں موباف باندھنے کی اجازت ہو گی؟ ‘ مولی نے پوچھا۔
’کامریڈ! ‘ سنو بال نے کہا، ‘ یہ موباف جن پہ تم اتنا مر رہی ہو، غلامی کی علامت ہیں۔ کیا تم سمجھ ہی نہیں پا رہیں کہ آزادی، ان موبافوں سے کہیں قیمتی ہے؟ ‘
مولی مان تو گئی لیکن وہ زیادہ قائل نظر نہیں آ تی تھی۔

منوا، جانی کے پالتو کاگا کے گھڑے جھوٹوں کا سحر توڑنا، سؤروں کے لئے سب سے مشکل کام تھا۔ منوا، جو کہ جانی صاحب کا خاص پروردہ تھا، پکا مخبر اور داستان طراز تھا۔ جادو بیان خطیب تو وہ تھا ہی۔ وہ ایک ایسے پر اسرار ملک کے بارے میں جاننے کا دعویٰ کرتا تھا، جسے، ’کھیل بتاشوں کی سلطنت‘ کہا جاتا ہے اور جہاں ہر جانور مرنے کے بعد جائے گا۔ کاگا کہتا تھا، ’وہ آسمان میں بادلوں سے ذرا قریب واقع ہے۔ کھیل بتاشوں کی سلطنت میں، ہفتے کے ساتوں دن اتوار ہوگی۔ پورا سال برسیم کی فراوانی ہو گی اور کھیتوں کی مینڈھوں پہ، گڑ اور السی کی کھل کی بھیلیاں اگا کریں گی۔ ‘ جانور، منوا سے نفرت کرتے تھے کیونکہ وہ کوئی بھی کام کاج کرنے کی بجائے بس بتے ملایا کرتا تھا لیکن ان میں سے کچھ، ’کھیل بتاشوں کی سلطنت‘ میں یقین رکھتے تھے اور سوؤروں کو انہیں یہ سمجھانے میں بڑی دقت پیش آئی کہ ایسی کوئی جگہ کہیں نہیں ہے۔

ان کے سب سے جیالے، مقلدین، یکہ کھینچنے والے دونوں گھوڑے، باکسر اور کلوور تھے۔ ان دونوں کو اپنے لئے خود سے کچھ سوچنے سمجھنے میں خاصی مشکل ہوتی تھی لیکن ایک بار جب انہوں نے سؤروں کو اپنا استاد تسلیم کر لیا تو پھر انہیں جو بھی بتایا گیا انہوں نے رٹ لیا اور سادہ الفاظ میں دوسرے جانوروں تک پہنچا دیا۔ وہ کھلیان کے کسی بھی خفیہ جلسے سے کبھی غیر حاضر نہ ہوئے اور ’وحوشِ انگلستان کا ترانہ‘ گانے میں پیش پیش ہوتے تھے جو کہ ہر جلسے کے اختتام پہ گایا جاتا تھا۔

اب ہوا یہ کہ، انقلاب، اتنی آسانی سے اور اتنی جلدی آ گیا کہ کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ گزرے سالوں میں، جانی صاحب، گو کہ سخت گیر آ قا تھے، مگر ایک کامیاب کاشتکار رہے تھے۔ پر اب کچھ دنوں سے وہ بات نہیں رہی تھی۔ ایک مقدمے میں رقم ہارنے کے بعد وہ خاصے بددل اور خطرناک حد تک بلا نوش ہو گئے تھے۔ ایک وقت آیا کہ وہ، باورچی خانے میں اپنی جھولنے والی کرسی پہ بیٹھے، شراب پیتے، اخبار پڑھتے اور، گاہے بئیر میں بھیگی روٹی کے بھورے منوا کو کھلاتے کھلاتے، پورا دن تیر کر دیا کرتے تھے۔ ان کے ملازم سست الوجود اور ہڈ حرام تھے۔ کھیت جڑی بوٹیوں سے پٹے پڑے تھے، چھتیں لپائی مانگ رہی تھیں، باڑیں بندھنے والی تھیں اور جانور کم خوراکی کا شکار تھے۔

جون کا مہینہ آ گیا اور جو کی فصل کو ہاتھ لگنے والا تھا۔ یہ جاتی بہار کے ایک سینچر کی شام تھی، جب جانی صاحب، قریبی قصبے، ’ڈھپئی‘ کے ایک شراب خانے، ’ چھجو کے چوبارے‘ میں ٹھرا پی کے ایسے ٹن ہوئے کہ اتوار کی دوپہر سے پہلے واپس نہ آ پائے۔ بیلداروں نے، صبح، گائیں دوہیں اور پھر، جانوروں کو چارہ ڈالنے کی زحمت کیے بغیر، خرگوشوں کی ہانڈ پہ نکل گئے۔ جب جانی صاحب واپس آئے تو آتے ہی، بیٹھک کے صوفے پہ، ’اخبارِ جہاں‘ کا پرچہ منہ پہ ڈال کے سو گئے۔

پھر رات ہوئی اور جانور ابھی تک بھوکے کھڑے تھے۔ آخر کار وہ مزید نہ سہہ سکے۔ ایک گائے نے اپنے سینگوں سے بھنڈار کا دروازہ توڑا اور سبھی جانور، ٹوکروں میں منہ مارنے لگے۔ تب ہی جانی صاحب کی آنکھ کھلی۔ اگلے ہی لمحے، جانی اور اس کے چار بیلدار، ہاتھوں میں سانٹے لئے، بھنڈار میں تھے۔ سانٹے تابڑ توڑ برس رہے تھے۔ یہ، بھوکے جانوروں کی برداشت سے آ گے کا معاملہ تھا۔ ایک عجیب سی یک جہتی ( گو ایسی کوئی منصوبہ بندی پہلے سے نہ کی گئی تھی ) کے تحت وہ اپنے دشمنوں پہ ٹوٹ پڑے۔

جانی اور اس کے بیلداروں کو اچانک ہی ہر طرف سے ٹکریں اور دولتیاں پڑنی شروع ہو گئیں۔ صورتِ حال ان کے قابو سے بالکل باہر نکل گئی۔ انہوں نے اس سے پہلے جانوروں کو ایسے کرتے نہ دیکھاتھا ایک ایسی مخلوق کی اچانک بغاوت نے جسے وہ جیسے چاہتے، مارتے، کچلتے رہتے تھے، ان کو بالکل ہی حواس باختہ کر دیا اور انہوں نے چند ثانیوں ہی میں اپنے بچاؤ کی کوششیں ترک کیں اور سر پہ پاؤں رکھ کے بھاگے۔ ایک منٹ کے اندر اندر ہی، وہ پانچوں، کچی وٹ پہ جو آ گے پکی سڑک سے مل جاتی تھی بگٹٹ دوڑے جارہے تھے اور جانور فاتحانہ ان کا پیچھا کر رہے تھے۔

بیگم جانی نے خواب گاہ کی کھڑکی سے یہ سب ہوتے دیکھا اور جلدی سے ایک خورجی میں چند ضروری اشیاء ڈال کے ایک دوسرے راستے سے، باڑے سے فرار ہو گئیں۔ منوا، اپنے اڈے سے اچک، اونچی آواز میں کائیں کائیں کرتا، ان کے پیچھے پیچھے اڑن چھو ہو گیا۔ اس دوران، جانوروں نے جانی صاحب اور اس کے بیلداروں کو پکی سڑک تک ہنکال کے، ان کے پیچھے بڑا پھاٹک دھاڑ سے بند کر لیا۔ اور اس طرح اس سے پہلے کہ وہ کچھ جان پاتے ؛انقلاب آ گیا۔ جانی کو دفع دور کر دیا گیا اور، ’آدم جانی کا باڑہ‘ اب ان کا تھا۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج ؛ وحوشِ انگلستان کا ترانہجانور راج۔ تبدیلی کا سات نکاتی منشور
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •