کیا اس معاشرے میں عورت ہی عورت کی دشمن ہے؟


نیوز روم اینکرز کے لئے سیکھنے کی بہترین جگہ ہوتی ہے۔ یہاں پر شور شرابا تو روز مرہ کا معمول ہے۔ مگر یہ شور شرابہ ہی نیوز روم کا حسن بھی کہلاتا ہے۔ دوران ڈیوٹی نیوز روم میں میرا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ آج میں اپنی شفت ختم ہونے کے بعد بھی نیوز روم میں موجود رہی۔ چونکہ میں کافی دیر سے بیٹھی نیوز روم میں کتاب پڑھ رہی تھی اور وقت کا اندازہ نہیں ہوا اسی دوران ایک آواز سماعت میرے کانوں کی نظر ہوئی ”اسلام علیکم“۔

آواز سن کر پلٹی تو ایک صاحب جو میرے آفس کولیگ ہیں اور ایک بہت اچھے لکھاری بھی ہیں، میری نشست کے برابر میں کھڑے تھے۔ میں نے کتاب بند کرتے ہوئے ایک سنجیدہ مسکراہٹ کے ساتھ ان کے سلام کا جواب دیا۔ موصوف کی نظر میرے ہاتھ میں موجود کتاب کے ٹائٹل پر پڑی۔ ساتھ والی کرسی پر براجمان ہوتے ہی بولے۔ واہ ”سوفیز ورلڈ اٹ از آ گریٹ بک“۔ زندگی سے متلعق کئی اہم سوالات اور ان کے جواب اس کتاب میں موجود ہیں۔ اچھا ہے کہ آپ کی فلسفے میں دلچسپی ہے۔ اس طرح کی کتابوں سے دوستی اچھی ہوتی ہے۔ ”یہ ضروری ہے“۔ میں نے کتاب دوبارہ کھولتے ہوئے اشارہ کیا۔ کافی وقت سے لفظوں میں گم تھی۔ موصوف کومخاطب کرتے ہوئِے کہا کہ ابھی میں نے چیپٹر ”نیچرل فلاسفی“ شروع کیا ہے۔ جی آپ نے بلکل ٹھیک کہا ہے کتاب پڑھنا ہزار ہا فضول کاموں سے بہتر ہے۔ یہ آپ کو ارد گرد کے اثرات سے بھی دور رکھتی ہیں اور آپ کو فضول کاموں سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔

اس دوران انہوں نے شاید میرے لہجے کی سنجیدگی بھانپ لی تھی۔ کہنے لگے، میڈم کیا کوئی بات ہوئی ہے۔ آج آپ زندگی سے متعلق کچھ زیادہ ہی سنجیدہ دیکھائی دے رہی ہیں۔ میں نے کہا کوئی خاص نہیں ہے۔ کچھ دنوں سے رونما ہونے والے واقعات سے ذہنی تناؤ کا شکار ہوں۔ اس پر بات مزید آگے بڑھِی اور ہم دونوں ایک ہی انداز میں سوچنے لگے۔ موصوف نے کہا کہ ان کے خیال میں خواتین کے مسائل مردوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک لڑکی ایسے میں ماحول میں کتنے لوگوں کا مقابلہ کرتی ہے۔ اس کے ذہن میں نجی زندگی میں چلنے والے روزمراہ کے معاملات الگ گھرکیے ہوتے ہیں اور پھر اگر وہ بیٹی ہے تو وہ ماں باپ کی عزت بہن بھائی کاخیال۔ بیوی ہے تو شوہر کی عزت، ماں ہے تو بچوں کی فکر اور اگر اس کے ساتھ کسی پروفیشن میں ہے تو وہ ایک الگ مسئلہ۔ عورت حساس مزاج کی مالک ہوتی ہے اس لئے وہ اکثرمعاملات میں مرد سے زیادہ سنجیدہ رہتی ہے۔ معاشرے کی تلخ حقیقت یہ کہ کوئی کسی کو جینے نہیں دینا نہ اچھے حال میں نہ برے حال میں۔

میں نے کہا کہ آپ درست فرما رہے ہیں بلکل ایسا ہی ہے۔ اب دیکھیں انعم تنولی واقعہ جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، اس کے پیچھے بھی یہی کہانی ہے ”ڈپریشن“۔ انعم تنولی کی والدہ کے مطابق وہ نشہ کی عادی ہوگئی تھی اور اس کے دوستوں کے مطابق نشہ کرنے کی وجہ معاشرے کی تلخیاں تھیں۔ جواں سالہ لڑکی اچھے برے خواب بھی اپنی مرضی سے پورے نہیں کر سکتی۔ سوال یہ ہے کہ ہم کیوں٘ کسی کے خدا بنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیوں کسی کے پہناوے پر اسے جج کرتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں۔ جب سوچ بدبو دار ہو تو ہم لوگ ترقی کیسے کرسکیں گے“ ہم لوگ تو دوسروں کو آگے جاتا ہوا دیکھ نہیں سکتے تو دوسروں سے کیسے توقع کریں کہ وہ ہماری خوشی پر خوش ہوں؟

یہ معاشرہ جب تک حسد اور بے چینی مِیں مبتلا رہے گا، منزل حاصل نہیں کر پائے گا۔ موصوف اس بات پر ہاں میں سر ہلا کر بولے“ میڈم ہمارے ارد گرد بھی یہی سب ہو رہا ہے اور مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اس معاشرے کی ہر عورت دوسری عورت سے پریشان ہے اور اس کے خلاف خوامخواہ سازش میں ملوث رہتی ہے۔ ۔ شاید کسی حد تک مرد سپورٹ کربھی لے مگر ہم اسے ٹھرکی یا لالچی کہہ کر اس کی مدد ٹھکرا دیتے ہیں۔ اور یہ نظریہ بھی تو ہم نے خود ہی پیدا کیا ہے۔ عورت عورت کی مخالف، اس کی دشمن! یہ الفاظ شاید فلمی دنیا کے لگتے ہیں مگر ان کا حقیقت سے بڑا گہرا تعلق ہے اس کی مثال ہمیں اپنے گھروں سے ہی مل جاتی ہے۔ ساس بہو سے نفرت کرتی ہے اور بہو ساس سے، نند بھابھی کو غیر سمجھتی اور بھابھی سسرال کو گھر ہی نہیں سمجھتی۔ بات درست محسوس ہوئی۔ میں نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اب بات ساس بہو سیریز تک محدود نہیں رہی، جس شعبے میں ہم کام کررہے ہیں یہاں پر بھی یہی صورتحال ہے۔

کینہ اور بغض کو ہم نے ماڈرن کردیا ہے۔ یہاں ایک کی بات عورت دوسروں کو چائنیز وہسپر گیم کی طرح بتاتی ہے پھر اس پر اختلافات بڑھتے ہیں تو بجائے کے اسے بات چیت سے حل کیا جائے مزید پیچیدہ بنا دیا جاتا ہے اور پھر پم منافقت کو پروفیشنلزم کہتے ہین، ، حالانکہ یہ اسلامی اور معاشرتی طور پر ناقابل قبول ہے۔ اس کی مثالیں ہمیں تاریخ میں ہزاروں کی تعداد میں میسر آتی ہیں۔ مگر ہم خود کو بدلنے کا نام پھربھی نہیں لیتے۔ جب الزبتھ اول کوین آف انگلینڈ کا مقابلہ میری کوین آف سکاٹس سے تھا تو دونوں عورتوں کی آپس کی جنگ کو الگ ان کو مردوں کا الگ سامنا تھا۔ مگر یہ بات غور طلب ہے کہ جب کوین میری کو مشکل آئی تو الزبتھ ہی تھیں جنہوں نے اختلافات کے باوجود کوین میری کے بیٹے جیمز کو نہ صرف پالا بلکہ شادی نہیں کی اور پوری سلطنت اس کے سپرد کردی۔

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں پر غیرت کے نام پرقتل، عورتوں کی عزت تار تار کرنے کے واقعات اور نہ جانے کتنے ظلم ہیں جو مرد پہلے ہی عورت پر ڈھا رہا ہے۔ اس پرستم یہ کہ کچھ عورتیں بھِی عورتوں کو بے بس کرنے میں کسر اٹھا نہیں رکھتیں۔ ارد گرد کی ان چیزوں سے مایوسی ہوتی ہے۔ موصوف نے شاید میرے چہرے کے تاثرات پڑھ لئےتھے بات کو ختم کرنے کے بعد بولے کہ اس کا حل کیا لگتا ہے؟ میں نے کہا کہ اس کا حل انسان میں برداشت کی کمی اور بے صبری کو ختم کرنا ہے۔ ساتھ ہی جواباً کہا کہ دلی بات پوچھیں تو خواہش ہے کہ ” کاش میں لڑکی کی بجائے لڑکا ہوتی“۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں