کیمروں کی نہیں، کمروں کی ضرورت ہے صاحب
سابقہ حکومت بھلائے نہیں بھولتی۔ اور بھولیں بھی تو کیسے؟ کہ ہر میدان میں اتنے کار ہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں کہ گنتی ناممکن۔ حساب سے ہمارا کوئی لینا دینا ہی نہیں کہ اس لئے عدالتیں اور نیب ہی کافی ہیں۔
ہمارا کام تو فقط کچھ مسئلوں کی نشاندہی کرنا ہے جو سابقہ حکومت کے کیے گئے فیصلوں کے نتیجے میں ہم استاد بھگت رہے ہیں۔ خدا معلوم کہ خادم اعلی کو سرکاری ملازمین سے کیا پرخاش تھی کہ لٹھ لے کے پیچھے ہی پڑ گئے۔
خاص طور پہ محکمہ صحت اور تعلیم! صحت کے امین اور قوم کے معمار سب سے ذیادہ ناقابل اعتبار ٹھرے، سب سے بڑھ کے گنہگار ٹھرے۔ آئے دن چھاپے اور معطلیاں، تسلی پھر بھی نہیں ہوئی تو حاضری کے لئے بائیو میٹرک نظام لاگو کر دیا۔ چین پھر بھی نہیں آیا تو ہر جگہ کیمرے لگوا دیے۔
بائیو میٹرک حا ضری سے یہ ضرور ہوا کہ ملازم وقت پر آ کے حاضری لگا دیتے ہیں۔ اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ جسے ذاتی کام پڑے وہ پتلی گلی سے نکل جاتا ہے۔ چھٹی کے وقت آ کے پھر حاضری لگا دی۔ لیں جی ایمان داری سے ڈیوٹی کا وقت مکمل ہوا۔
کیمروں کا کیا ہے صاحب؟ ان میں یہ تھوڑی دیکھا جاتا ہے کہ کون کب آیا اور کب گیا۔ چلیں سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے گیٹ پر کیمرے ضروری ہیں کہ حادثے کے فوٹیج مل جاتی ہےہسپتالوں اور سکولوں میں ہر جگہ کیمرے فٹ کرا دیے گئے۔ مانا کہ گراؤنڈزمیں بھی ضرورت ہوتی ہےلیکن کمروں کے اندر کس مقصد کے لئے؟
جنرل ایجوکیشن میں تو مانیٹر نگ کا عتاب کافی سمجھا گیالیکن خصوصی تعلیم کے ادارےتو اور بھی ”خصوصی“ سلوک کے مستحق ٹھہرے۔ یہاں مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ ہر کلاس میں کیمرے بھی لگوا دیے گئے۔ اور تو اور سکول کی بس کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ وجہ چاہے جو بھی رہی، حقائق پہ ہمیشہ پردہ ہی رہا۔
ہم تو گنہگار ہیں لیکن جو خواتین با پردہ ہیں ان کے لئے مسائل میں اضافہ ہی ہوا۔ اب اس کے خلاف کون بولے؟ کیونکہ یہاں ”میں بولتا ہوں تو مجھ پہ الزام ہے بغاوت کا“ والی صورتحال ہے۔
خصوصی بچوں کے ساتھ کام کرنا کتنا مشکل ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یا یہاں کام کرنے والے۔ یہاں تو خصوصی استاد سب سے زیادہ ”مجرم“ ہے۔ بچوں کے لئے سکول ہیں تو ان کی ضروریات کو پورا ہی نہیں کرتے۔ کچھ سکولز کی عمارتیں تو برائے نام ہیں بس گنتی کے چند کمرے دے دیے گئے ہیں۔ وہاں بچے کیسے سمائیں گے یہ حکومت کی جانے بلا۔
بچے ویسے بھی خصوصی ہیں تو سردی، گرمی کا ان کو بھلا کیا احساس؟ ہوا کے لئے استاد کی ”ٹھنڈی آہ“ ہی کافی ہے۔ اور جو سردی ہے وہ استاد کے غصے کا آگے بھلا کیا دم رکھتی ہے؟ ہاں ہر جگہ کیمرہ ضروری ہے تا کہ ”مجرم استاد“ پہ کڑی نظر رہے۔ استاد چھ بچوں کی کلاس میں بارہ بچے بٹھا کر کیا محسوس کرتا ہے اور کلاس کیسے کنٹرول کرتا ہے یہ اس کا درد سر ہے۔ (پالیسی کے مطابق ایک کلاس میں چار سے چھ بچے بٹھائے جا سکتے ہیں)۔
اب نیا پاکستان ہے تو دل کو خوش فہمیاں بھی نئی نئی ہیں۔ نئی حکومت سے درخواست ہے کہ ہمیں ایک ”لاورث“ محکمے کی کیٹیگری سے نکال دیا جائےاور جو چیزیں ضروری ہیں ان کی مد میں بجٹ مختص کیا جائے۔ ہمیں سکولز کے لئے عمارتوں کی ضرورت ہے، ایسی عمارتیں جو ان بچوں کی ضروریات سے مطابقت رکھتی ہوں۔
ہمیں ”کیمروں“ کی نہیں ”کمروں“ کی ضرورت ہے جہاں ہم اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دے سکیں۔ باقی ایمان داری اور دیانت داری ”کیمروں“ سے نہیں سکھائی جا سکتی، یہ تو گھٹی میں ہوتی ہے، تعلیم سکھاتی ہے۔ جسے تعلیم یہ سب نہ سکھا سکے، کیمرے بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ مدنی ریاست میں کیمروں کا بھلا کیا کام؟


