کلثوم نواز ہم آپ سے شرمندہ ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملاحت و صباحت سے بھرپور چہرے والی سادہ و باوقار خاتون محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کینسر ایسے موزی مرض سے طویل اور صبر آزما جنگ لڑتے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ کلثوم نواز صاحبہ ایک شفیق خاتون، مہربان ماں، وفا شعار بیوی اور باوقار خاتون اول ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خاموش سوشل ورکر بھی تھیں۔ گھرداری میں مگن اس تعلیم یافتہ خاتون نے وقت پڑنے پر جمہوری حکومت پہ شب خون مارنے والے آمر کے خلاف ڈٹ کر مزاحمت بھی کی۔ اور اس وقت مزاحمت کی جب معدودے چند بڑے بڑے تیس مار خان سیاست دان رضاکارانہ نظربند تھے زیر زمین چلے گئے یا سمجھوتے کر کے ڈکٹیٹر کے ساتھ جا ملے۔

والد صاحب مرحوم کسی کی وفات کی خبر سنتے تو گاہے ایک آہ کے ساتھ یہ شعر پڑھتے تھے
جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا
جب احمد مرسل نا رہے، کون رہے گا

لاریب، فنا کی جھوک ہے اور جو ذی روح عدم سے وجود میں آیا ہے اس نے موت کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے۔ محترمہ لیکن اس عالم میں جہان فانی سے رخصت ہوئیں کہ ایک مضحکہ خیز اور غیر شفاف ٹرائل کے بعد شوہر، بیٹی اور داماد جیل میں تھے، بیٹے اشتہاری اور مفرور قرار پا چکے تھے، خود کومہ میں تھیں اور ان کے گھر کے سامنے ایک جماعت کے انقلابی مورچہ زن تھے جو دروازے پر پتھر ہی نہیں برساتے تھے بلکہ ان کے پوتوں، نواسوں پہ رکیک جملے بھی کستے تھے اور دشنام کے تیر بھی برساتے تھے۔ یہی نہیں کچھ زبان دراز بیمار ذہنوں نے نے خود ان کی بستر مرگ والی علالت کو بھی ڈرامہ بازی اور سیاسی ہمدردی سمیٹنے کا بہانہ قرار دیا

اس پس منظر میں محترمہ کی وفات نا صرف مسلم لیگ ن اور شریف برادران کے ووٹرز سپورٹرز کو اشکبار کرتی ہے بلکہ آئین کی بالادستی پہ یقین رکھنے والے ہر جمہوری ورکر کے دل کو بوجھل اور آزردہ کرتی ہے۔ نیا پاکستان جس میں آپ کی ایمانداری، حب الوطنی اور عقیدے کی ناپ تول تو پہلے ہی پرسیپشن کی بنیاد پر ہوتی تھی اب اس اخلاقی دیوالیہ تک آ گیا کہ بیماری کا ثبوت بھی مر کر دینا ہو گا۔

دل کرتا ہے ان سے مخاطب ہو جائے جن کے کل سیاسی شعور اور دانائی کا ماخذ محض مطالعہ الباکستان، ایک مخصوص جماعت کے جلسوں، ایسٹبلشمنٹ کے تراشے کرپشن افسانوں اور سوشل میڈیا سے ماخوذ ہے۔ عین ممکن ہے کہ ”چور“، ”غدار“ اور نا اہل خاندان کی ایک خاتون کو خراج عقیدت پیش کرتے اخبارات، ٹی وی چینلز اور اہم شخصیات کے بیانات آپ کا خون کھولا رہے ہوں۔ پٹواری قسم کے لوگوں اور ’پڑھے لکھے جاہلوں‘ کی ایک کثیر تعداد کی جانب سے اس خاتون کو اچھے الفاظ میں ہدیہ تبریک و تعزیت پیش کرنے پہ آپ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوں۔ اور ہر دوسری سوشل میڈیا پوسٹ پہ آپ کو علم جہاد بلند کرتے ہوئے ذومعنی جملوں یا واشگاف الفاظ میں ’ملک لوٹنے والوں‘ کے لئے دردناک عذاب کی وعید کے کمنٹ کرنے پڑ رہے ہوں تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔

مجھے آپ سے واقعی ہمدردی ہے اور کوئی گلہ شکوہ بھی نہیں۔ مجھے یقین ہے ہماری طرح آپ میں سے اکثر اس سارے کھیل کو بالآخر سمجھ جائیں گے۔ بس المیہ یہ ہے کہ جب تک آج کے نونہالان انقلاب ”فرشتوں“ کے مقدس کھیل کو سمجھیں گے تب تک ان کے آج کے مہاتما کرپٹ، گستاخ یا غدار قرار پا کر جیل، جلاوطن یا ’جہنم‘ واصل ہو چکے ہوں گے۔ پھر کوئی بھٹو پھانسی چڑھے گا، کوئی بے نظیر شہید کر دی جائے گی، کسی کی مریم پابند سلاسل ہوگی۔ پھر آپ ہماری جگہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہوں گے اور ایک نئی جذباتی پود نتھنوں سے انگارے اگلتی نفرت کے ساتھ چور چور غدار غدار اور گستاخ گستاخ کے نعرے لگا رہی ہوگی۔ آج تاریخ کا دھارا ہمارے نہیں آپ کے ہاتھ میں ہے۔ واقعی نیا پاکستان بنانا ہے تو آج وقت ہے ورنہ کل آپ کو بھی اپنے وقت کی کسی ایسی ہستی سے کہنا پڑے گا
کلثوم نواز ہم آپ سے شرمندہ ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •