جناب بلاول بھٹو زرداری کے نام کھلا خط


چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری میں بصد خلوص و احترام ایک حقیقی جمہوریت پسند پاکستانی ہونے کی حیثیت سے صوبہ سندھ کو در پیش چند اہم ترین مسائل آپ کے علم میں لا رہا ہوں جوآئین و قانون، حقیقی جمہوریت، قومی یکجہتی اور جمہور کی ترقی و خوشحالی میں دہائیوں سے رکاوٹ بنے چلے آرہے ہیں۔ یہ محض میری رائے نہیں بلکہ سندھ میں بسنے والے اُن کروڑوں عوام کے دلوں کی آواز ہے جو دہائیوں سے نا انصافیوں، ظلم وجبر، زیادتیوں و محرومیوں کا شکار ہیں اور شدید خواہش رکھتے ہیں کہ جو چند طاقتور خاندان جبراً اُن کے حقوق غصب کر کے اُن کا استحصال کرتے چلے آرہے ہیں سے اُن کو نجات ملے۔

یوں تو سندھ کو کئی مسائل کا سامنا ہے لیکن درج ذیل مسائل درحقیقت ” مسائل کی نرسریاں ‘‘ ہیں۔
1) کوٹہ سسٹم۔
2) بلدیاتی انتخابات اور اختیارات۔
3) اُردو زبان کے نفاذ کا معاملہ۔

چالیس برس قبل سندھ میں نافذ کیا جانے والا کوٹہ سسٹم معذور آدمی کی چھڑی ثابت ہوچکا ہے جس کی بدولت بدعنوانی، رشوت، بے روزگاری، امتحانات میں نقل کرنے کے رُجحانات میں بے تحاشا اضافہ، میرٹ کا قتلِ عام ہونے کے ساتھ اُردو اور سندھی بولنے والی آبادیوں میں نفرت کی گہری ذہنی خلیج پیدا ہوئی ہے اور یہ سب روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جن دیہی سندھی بولنے والے بھائیوں کے لئے یہ کوٹہ سسٹم نافذکیا گیا تھا تاکہ اُن کا معیارِ زندگی شہری عوام کے برابر لایا جا سکے اُن کی کروڑوں کی تعداد کو بھی اس سے فائدہ نہ پہنچ سکا اور دنیا جانتی ہے کہ خوش قسمتی کا پر نالہ گزشتہ چالیس سالوں سے زائد صرف چند وڈیروں کے خاندانوں اور ان کے مخصوص لوگوں کے آنگنوں میں ہی گررہا ہے جبکہ دوسری جانب کروڑوں مظلوم سندھی ہوں یا مہاجر باصلاحیت، ذہین، محنتی، ایماندار اور مخلص ہونے کے باوجود شدید بے حال ہیں۔

آپ کی جماعت پر چھائے چند طاقتور عناصر کی وجہ سے نہ صرف ذوالفقار علی بھٹوشہید اور بینظیر بھٹو شہید شدید بدنام ہوتے چلے آرہے ہیں بلکہ آپ کی جماعت کی جمہوریت کے لئے پچاس سالہ جدوجہد پر بھی” تمثیلی جمہوری جدوجہد‘‘کی چھاپ گہری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ذاتی مفادات کی لالچ میں ڈوبے یہ طاقتور عناصر اس قدر بے حس ہوچکے ہیں کہ یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ کوٹہ سسٹم 2013ء میں اپنی قانونی معیاد پوری ہونے پر ختم ہوچکا ہے کے باوجود الیکشن 2018ء کے لئے نگراں حکومت بننے سے قبل تک عمل کرتے رہے ہیں اور اب آگے کی تیاری ہے۔

بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کبھی بھی اپنے ادوار میں بلدیاتی انتخابات نہ کراسکی جو جمہوریت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اُمید ہے کہ مستقبل میں آپ کی قیادت میں یہ فرسودہ روایت ختم ہو گی۔ اس کے علاوہ ایک اور بڑا مسئلہ بلدیاتی اختیارات اور فنڈز کا بھی ہے۔ پی پی پی کے چند طاقتور افراد نہیں چاہتے کہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے بلدیاتی اختیارات اور فنڈز بلدیاتی حکومتوں کو منتقلکیے جائیں اسی لئے سندھ اسمبلی میں ان استحصالی عناصر نے اکثریت کا فائدہ اُٹھا کر بلدیاتی نظام سے اس کے اختیارات اور فنڈز چھین کر اسے حقیقی معنوں میں” نیم مُردہ ‘‘ کررکھاہے جو کہ انتہائی شرمناک اور سیاہ عمل ہے۔

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ بلدیات کے بیشتر اختیارات اور فنڈز وزیر اعلی اور چند پی پی پی اسمبلی اراکین کے اختیار میں ہونے کی بدولت نہ صرف بدعنوانی میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ مجموعی طور سے سندھ تباہ حال اور عوام سخت بے حال ہیں۔ یاد رہے کہ دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں سینیٹرز، قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کا کام ایوانوں میں پہنچ کر ملک و قوم کے بہترین مفاد میں دستور پر نظر رکھنا اور قانون سازی کرنا ہوتا ہے جبکہ شہر کی صفائی، گلی، کوچوں، سڑکوں کی تعمیر، ٹریفک، آمدورفت، پانی، گیس کی فراہمی، نالے بناناؤ دیگر ترقیاتی کام اور عوامی مسائل حل کرنابلدیاتی حکومتوں کی ذمہ داریوں میں شمار ہوتاہے۔ نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب دنیا عالمی گاؤں بن چکی ہے سندھ کے حکمران محض اپنے ذاتی مفادات کے لئے نادر شاہی قوانین کے تحت سفاکی سے ”جمہوریت سے بہترین انتقام ‘‘لینے میں شب وروز مگن ہیں۔

زبان اظہار کا ذریعہ ہوتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ’’قومی زبان کے بغیر کوئی قوم متحد نہیں رہ سکتی ہے‘‘۔ دنیا کا سب سے بڑا ملک سابقہ سوویت یونین جہاں پر اُس کی تمام ریاستوں کی علاقائی زبانیں تعلیمی اور سرکاری طور پر تسلیم کی جاتی تھیں کہ باوجود پورے سوویت یونین میں قومی اور سرکاری سطح پر روسی زبان رائج تھی۔ اُردو کی بھی پاکستان میں یہی حیثیت ہے۔ اُردو زبان کے بارے میں یہ تاثر غلط پایا جاتا ہے کہ یہ مہاجروں کی زبان ہے۔

اُردو زبان پاکستان اور ہندوستان کے تمام علاقوں میں صدیوں سے بولی جارہی ہے۔ اُردو زبان میں پاک و ہند کی زبانوں کے تمام الفاظ شامل ہیں جس سے اُردو زبان وجود میں آئی۔ اگر اس کو مہاجر اپنی زبان تصور کرتے ہیں تو یہ غلط ہے اور دوسرے لوگ جو اُردو کو مہاجروں کی زبان سمجھتے ہیں تو یہ بھی غلط ہے۔ درحقیقت اُردو سب کی زبان ہے۔ لہذا پاکستان کی قومی یکجہتی کے لئے اُردو زبان کا پاکستان بھر میں قومی و سرکاری سطح پر عملاً جلد از جلد رائج ہونا اشد ضروری ہے۔

بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ نے بھی پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اُردو کو قرار دیا تھا‘‘۔ 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت اُردو کو 1988 ء تک سرکاری زبان کا درجہ مل جانا چاہئیے تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ کچھ سال قبل سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے بھی یہ حکم دیا تھا کہ اُردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کیا جائے اور جب صوبہ سندھ میں 2017ء میں اُردو کو سندھ میں سرکاری سطح پر رائج کرنے کی قرار داد اسمبلی میں لائی گئی تو آپ کی جماعت نے اس کی بھر پور مخالفت کی جوکہ صرف خصوصاً اندرونِ سندھ میں اپنے ووٹ بینک کو خوش کر کے 2018ء کے عام انتخابات جیتنے کے لئے تھی اور کیونکہ آپ کی جماعت کی سندھ اسمبلی میں اکثریت تھی اس لئے قائدِ اعظمؒ کے فرمان، 1973ء کے آئین اور سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ ہوسکا جس کے باعث کروڑوں کی تعداد میں اُردو بولنے والوں کی شدید دل آزاری ہوئی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا۔

پاکستان اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے جس میں اس کو آئین و قانون کی بالادستی، حقیقی جمہوریت، قومی یکجہتی کی اشد ترین ضرورت ہے۔ 25، جولائی، 2018ء کے عام انتخابات میں بھی سندھ اسمبلی میں اکثریت کی بنیاد پر پیپلز پارٹی حکمران جماعت ہے۔ وقت آگیا ہے کہ آپ سندھ اسمبلی میں اپنے نمائندوں کو عوامی مفاد میں مخلصی اور سنجیدگی سے مذکورہ بالا مسائل کی نرسریوں کوجڑوں سے ختم کرنے کے لئے فوری قانون سازی کرنے کی ہدایت کر یں تاکہ سندھ اور اس کے عوام آئین و قانون، حقیقی جمہوریت اور قومی یکجہتی کے ثمرات سے مستفید ہوں اور ان کی بدولت پاکستان بھی مضبوط و خوشحال ہو سکے۔

Facebook Comments HS