سب زندہ ہیں صرف قائد اعظم فوت ہو گئے ہیں


پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کے فوت ہوئے، ہوئے قائدین تو ابھی تک زندہ ہیں جن کے قصیدے ان کی برسیوں اور سالگراہوں کے مواقعوں پر پڑھے جاتے ہیں اور ان جماعتوں کے زندہ و جاوید لیڈران کو بھی پیروں کی طرح پوجا جاتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ پوائنٹ اسکورنگ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کچھ بھی کرنے سے دریغ نہیں کرتیں چاہے نیا پاکستان ہو یا پرانا پاکستان۔ نئے اور پرانے کے مقابلے میں پانچ سال ہھی گزر جائیں گے مگر یہ نمائشی مقابلہ ختم نہ ہو پائے گا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح جس طرح اس ملک کو دیکھنا چاہتے تھے ہم نے شاید اس فلسفے کو انہی کے ساتھ دفنا دیا تھا۔

بابائے قوم کی تصاویر تو ہم نے اپنے دفاتر میں سجائی ہوئی ہوتیں ہیں مگر قائد اعظم کو رول ماڈل سمجھ کر ان کے نقش قدم پر چلنے والا مشکل سے ہی ملے گا۔ ہم نے قائد اعظم کی طرح شیروانی اور جناح کیپ تو پہن لی ہیں مگر ہمارے قول و فعل میں تضاد ہی تضاد ہے۔ ہم قائد اعظم کو ان کی یوم پیدائش اور یوم وفات پر ان کے مزار پر حاضری دے کر اور پھولوں کے گلدستے چڑھا کر ان کو خراج تحسین تو پیش کرتے ہیں مگر یقین مانیے کہ ہم نے شاید ہی قائد کے فرمودات پڑھے ہوں۔ ملک کا کوئی بھی اہم عہدہ پانے کے فوراً بعد مزار قائد پہنچ کر قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بیتاب نظر آتے ہیں اور قائد اعظم کے فلسفے کے مطابق ملک کو چلانے کے لیے قسم کھاتے نظر آتے ہیں مگر یقین مانیے کہ ان میں سے بیشتر لوگوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی جدوجہد کی تاریخ کا مطالعہ تو دور کی بات ان کے 14 نکات کا بھی صحیح سے پتہ نہیں ہوگا۔

ہم ایمان، اتحاد اور تنظیم کے گیت گاتے نظر آتے ہیں مگر سب کو پتہ ہے کہ ہم لسانیت اور فرقہ واریت میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہم نوجوان نسل کو قائد اعظم کی جدوجہد اور ان کی عملی زندگی کے حوالے سے پڑھانا چاہتے ہیں مگر ہماری قائد کے ان سنہری اصولوں کے مطابق کام کرنے اور ملک بنانے والی باتیں صرف اور صرف دکھاوے سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ ہم یوم آزادی کے موقع پر قائد اعظم کو خراج تحسین پیشں کرنے کے لیے پھولے نہیں سماتے مگر یہ سب کو پتہ ہے کہ ہم نے قائد اعظم کو اس لیے خراب ایمبولنس دی کہ وہ جانبر نہ سکیں۔

ہم نے ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو منفی القبات سے نوازا اور اتنخابات میں دھاندلی کر کے ان کو اس لیے ہروا دیا کیونکہ ہمیں یہ ڈر تھا کہ ایسا نہ ہو کہ قائد کی بہن اپنے بھائی کے نقش قدم پر چل پڑے۔ ہم وہ قوم ہیں جس نے قائد اعظم کے اوپر کفر کے فتوے لگائے اور آج ان کے نقش قدم پر چلنے کی بات کرتے ہیں۔ شاید قائد اعظم کو پتہ تھا کہ ہم متحدہ ہندستان میں سال ہا سال انگریزوں کی غلامی کر کے ایک غلام قوم بن چکے ہیں اس لیے وہ بار بار کہتے پائے گئے کہ تم اب آزاد قوم ہو۔ مذہبی، سیاسی، ثقافتی ہر لحاظ سے تم آزاد ہو مسجد جاؤ یا مندر یا پھر گرجا گھر تم آزاد ہو۔ مگر یہاں اقلیتیں تو دور کی بات ہم نے تو اپنے مسلمانوں پر کفر کے فتوی لگا دیے ہیں۔

قائد اعظم نے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام چیزیں واضح کر دی تھیں اور مک کے تمام اداروں کی حدود اور کام کرنے کے حوالے سے کئی تقاریر کی تھیں کہ تم قوم کے خادم ہو مگر ہم سب عوام کے آقا بن بیٹھے اور قائد اعظم کے فلسفے کے برعکس کام کیے جا رہے ہیں۔ صرف جناح کیپ اور شیروانی پہننے اور مزار قائد پر حاضری دینے سے ہم قائد کے فلسفے کے پیرو کار نہیں بن سکتے ہیں نہ ہی ہم قائد کا پاکستان بنا سکتے ہیں جس کا خواب انہوں نے دیکھا تھا۔ 12 ستمبر 1947 کو قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے موقع پر ہم نے یہ کہہ کر اپنے اپنے کام کرنا شروع کر دیے تھے کہ ”ماتم کے ہیں دن اور سوگ نشیں ہے آواز“ ہم نے شاید اس دن قائد کے ساتھ ان کے فلسفے کو بھی دفن کر دیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف تصویری نمائشوں سے نہیں بنتیں۔

Facebook Comments HS