عمران خان اور متعفن سرکاری ادارے
عمران کی آئیڈیل ریاست مدینہ ہے اور آئیڈیل ترجمان فواد چودھری۔ الیکشن سے پہلے کی سال آپ برطانیہ کی جمہوریت کی مثال دیتے رہے۔ ہالینڈ کے وزیر اعظم کو مثالی قرار دیتے رہے۔ انگلینڈ جا کر پاکستانی غریب ڈرایور کے بیٹے صادق خان کی بجائے اپنے یہودی برادر نسبتی کی انتخابی مہم چلاتے رہے۔ لیکن اب صرف مدینہ کی بات کرتے ہیں۔
یہ فیضان نظر تھا یا کہ پیرنی کی کرامت
سکھائے کس نے عمران کو آداب ہنر مندی
مدینہ کی ریاست اب ان کے لئے روز مرہ کا محاورہ بن چکی ہے۔ اسی لئے مدینہ کی ریاست کو سامنے رکھتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کو بہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ آپ کو پوری دنیا میں جو بندہ ماہر معیشت ملا وہ خیر سے ریاست مدینہ قائم کرنے والے کا سب سے بڑا دشمن قرار پایا ہے۔ آپ کے ترجمان موصوف یعنی فواد صاحب جنہیں خود دعائے قنوت تک نہیں آتی، فرماتے ہیں حکومت انتہا پسندوں یعنی مدینہ کی ریاست کے مجارٹی مسلمانوں کے سامنے گردن نہیں جھکائے گی۔ میں نے دنیا میں ایسی کوی ریاست نہیں دیکھی جو صرف اپنی اقلیتوں کو اتنی اہمیت دیتی ہو۔
عمران خان نے اس گناہ کبیرہ سے بچنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بقول شخصے یو ٹرن لے لیا ہے۔ خان ویسے بھی دو چیزوں کے ماسٹر ہیں۔ یو ٹرن لینے اور بھولنے کے۔ ان کے بھلکڑ پن کی تصدیق یوں بھی ہوتی ہے کہ اپنا ووٹ ڈالنے گئے تو شناختی کارڈ گھر بھول آئے۔ قومی اسمبلی کے لئے فوٹو بنواتے وقت واسکٹ گھر بھول آئے۔ اگرچہ یہ بھی ان کا قصور نہیں کہ گھر سے نکلتے وقت بیگم کو یہ چیزیں یاد سے ساتھ رکھنی ہوتی ہیں۔ بیگم کا بھی قصور نہیں وہ بھی اللہ لوک ہیں عبادت میں مصروف رہتی ہوں گی یا پھر استخاروں میں۔ بیگم صاحبہ کا کام بھی تو بڑھ گیا ہے۔ خان صاحب کی نئی نئی حکومت بنی ہے۔ نئے فیصلے کرنے ہیں۔ ہر فیصلے سے پہلے استخارہ کرنا پڑتا ہے۔
ہر حکمران کی کوی نہ کوی ایسی خوبی ہوتی ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے، جیسے عدل جہاںگیری جیسے میاں صاحب کی خوش خوراکی۔ ایسے ہی عمران خان کا یو ٹرن مشہور ہو گیا ہے۔ آپ نے اپنی پہلی ہی تقریر میں فرمایا، میں حلقے کھولنے سے نہیں گھبراتا۔ اپوزیشن جتنے چاہے حلقے کھلوالے۔ استخارے نے بتایا لاہور والا حلقہ کھل گیا تو افسانے بنیں گے۔ خان صاحب زندگی بھر افسانے بنواتے رہے کسی سے نہیں ڈرے لیکن اب کی بار پیرنی کا حکم تھا۔ بابر اعوان کو حکم دیا حلقہ نہیں کھولنے دینا۔ اب دو عدالتوں نے جب ان کے خلاف فیصلہ دے دیا تو سپریم کورٹ سے درخواست کی گی۔ ادھر پیرنی کی دعا اور ادھر چیف صاحب۔ تمام حلقے بند۔ اب کوی حلقہ کھلوا کر دکھائیں۔
عمران خان کو بھولنے کی اس عادت نے کافی نقصان پںہچایا ہے۔ پہلی بار جب وہ ریحام خان کو انٹرویو دینے گئے تھے تو عینک نہیں لے کے گئے۔ غلطی ہو گی۔ عینک کے بغیر ریحام کے خدوخال بہت اچھے لگے حالاںکہ وہ دھندلاے ہوئے تھے۔ آپ کو پتہ ہے نکھری نکھری تصویر آرٹ اور دھندلائی تصویر فائن آرٹ بن جاتی ہے۔ خان صاحب فاین آرٹ کے ہمیشہ سے مداح رہے ہیں۔ گھر آکر آپ نے جب عینک لگا کر ریحام کو دیکھا بلکہ کی بار دیکھا تو اس کے اصلی خدوخال جانچنے کا موقع ملا۔ غلطی کا احساس ہوا تو یو ٹرن لے لیا۔ جمائما کو البتہ جب ملے تھے تب ان کی نظر کمزور نہیں تھی اس لئے غلطی نہیں کی۔ بشریٰ بی بی کے ساتھ تو روحانی تعلق تھا عینک لگانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ اب چونکہ امور مملکت چلانے کے لئے اکثر عینک لگانی پڑتی ہے لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ خاتون اول کو آپ نے عینک لگا کہ دیکھنے کی زحمت گورا نہیں کی جب کبھی عینک لگا کر دیکھ لیا تو نہ جانے کیا ہو۔
عمران خان کو ابھی تک فوج کے علاوہ کوی ایسا ادارہ نظر نہیں آیا جو صحیح کام کر رہا ہو۔ حالانکہ نواز شریف اپنے آخری دنوں میں کہتے تھے کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو چکی ہے۔ سٹاک ایکسچینج نے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ریلوے اپنے پاوں پر کھڑا ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف سے ہم نے چھٹکارا پا لیا ہے۔ اس سے پہلے کی حکومتوں کا بھی اقتدار میں آتے سارے ادارے متعفن ملتے اور جاتے ترقی کے آسمان پر چمکتے دمکتے نظر آتے تھے۔
پاکستان میں اقتدار میں آنے والے حکمرانوں کی مثال جاٹ کی اس لڑکی جیسی ہے جو موچی کے گھر بیاہی گی تھی۔ پہلی بار جب سسرال سے میکے آئی تو ماں سے کہنے لگی ؛ تم لوگوں نے مجھے کہاں پھنسا دیا ہے۔ پورے گھر میں ہر طرف بدبو پھیلی ہوئی ہے۔ میرا تو یہاں دم گھٹتا ہے۔ ماں نے اسے کہا تم اپنے کمرے میں رہا کرو اور اس کی خوب صفائی کیا کرو۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ سال کے بعد گھر آئی تو ماں کو بتایا اب میرے کمرے سے تو بدبو نہیں آتی البتہ کبھی کمرے کی کھڑکی کھلی رہ جائے تو پھر وہی بو آتی ہے۔ اس لڑکی نے چار پانچ سال کے بعد ماں کو بتایا کہ میری محنت رنگ لائی ہے۔ میں نے موچی کے گھر کی بو اپنی محنت سے ختم کر دی ہے۔ یہ سارے واقعات سن کر پڑوسن نے بھی اپنی بیٹی کا رشتہ موچی کے دوسرے بیٹے سے کردیا۔ شادی کے بعد پہلی بار گھر آتے ہی اس نے اپنی ماں کو بتایا۔ میرے سسرال کے گھر اتنی بدبو ہے کہ سانس لینا بھی دشوار ہے۔
خان صاحب بھی اگلے برسوں میں پاکستان کی اتنی صفائی کر دیں گے کہ انہیں پاکستان کا ہر ادارہ صاف ستھرا دکھائی دے گا تعفن سے پاک۔ ہاں اگلی حکومت کو اگر اس میں گند نظر آئے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔


