مجھے یہیں ماردو میں ہیجڑا ہوں


گذشتہ دنوں ’شائننگ انڈیا میں ہجوم گردی‘ کے زیرعنوان میں نے ایک تحریر لکھی۔ سچ کہوں تو بہت اچھا لگتا ہے دوسروں پر انگلیاں اٹھانا، باتیں بنانا اور چوٹ کرنا۔ پھر موضوع انڈیا ہو تو تنقید کرنے کا لطف ہی دوبالا بلکہ سہ بالا ہوجاتا ہے۔ بھارت کی سڑکوں پر مذہبی انتہاپسندی کی آڑ میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں لکھتے ہوئے میرے اندر ایک انجانا سا سکون اتر تا رہا اور میں سوچتی رہی کہ ہمارے دیس کی سڑکیں ان تماشوں سے کس قدر محفوظ ہیں۔ لوگ کتنے باشعور اور قانون کتنا مستعد ہے۔

خود کو مزید تسکین دینے کے لیے بھارت اور پاکستان کا انتہائی جانب دارانہ تقابل کرتی رہی۔ قلم چلاتی رہی۔ خوش ہوتی رہی۔ پاکستانیوں کے منفی رویے ذہن میں آتے بھی تو کنی کتراتی، نظریں چراتی اور خود کو بہلاتی۔ بھلا جرم کہاں نہیں ہوتے! دنیا کے پُرامن ترین ملکوں میں بھی جیلوں کا باقاعدہ نظام موجود ہے، ظاہر ہے فرشتے تو کہیں نہیں بستے ناں۔ لیکن بھارت میں تو بھیا حد ہی ہو گئی ہے؟ ایک طرف تو خلا میں پہنچنے کی باتیں اور دوسری طرف انسانیت کی پستی اور شعور کی گراوٹ کا یہ عالم کہ آن کی آن میں انسانی خون سے سڑکیں رنگ دی جاتی ہیں۔ انسانیت کی اتنی تذلیل! توبہ۔ شکر ہے اقبال نے وقت پر خواب دیکھ لیا اور قائداعظم اچھے طالب علموں کی طرح پڑھائی کر کے جلدی جلدی وکیل بن گئے، تو ہماری تقدیر بدل گئی۔ خواب کی تکمیل میں لاکھوں لوگ کٹے مرے بھی تو کیا ہو ا؟ بدلے میں ایک آزاد وطن بھی تو پالیا۔

یوں اب ہم آزاد ہیں۔ غیروں کی غلامی سے آزاد ہونے کا جشن اس قوم نے کچھ ایسے منایا کہ ریاستی قوانین کی پاس داری اور انسانی اقدار کو پیروں تلے کچل ڈالا۔ مذہبی آزادی کیا ملی ہم تو ہر معاملے میں مادرپدر آزاد ہوگئے۔ اس آزادی نے ہماری آنکھوں پر وہ چربی چڑھائی کہ ہم نے ہر اس فرد سے زندہ رہنے کا حق چھیننا چاہا جو ہم سے کسی بھی طرح مختلف تھا۔ سندھی مہاجر لڑ گئے، شیعہ سنی کٹ گئے، سارے صوبے بٹ گئے، جس سے ذرا سا بھی خطرہ محسوس ہوا اسی کی پشت پر کرارا وار کرڈالا۔ رفتہ رفتہ خون ایسا منہ کو لگا کہ جو بے ضرر تھے ان کو بھی نہ چھوڑا گیا۔ سڑکوں پہ رولا گیا، ہوس کی کسوٹی پر انہیں تولا گیا۔

کچھ سمجھ میں آیا کس کی بات ہو رہی ہے؟ نہیں؟ ارے بابا وہی جنہیں میں اور آپ ہیجڑے کے نام سے پکارتے ہیں۔ بچے جن کو دیکھ کر پتھر مارتے ہیں اور نوجوان آنکھیں۔ وہی ہیجڑے، جن کے گریبانوں پر مرد ٹھونگیں مارتے ہیں اور منہہ پر عورتیں دروازے۔ اللہ معلوم یہ کیسے انسان ہیں جو گالیاں کھا کر بھی بدمزہ نہیں ہوتے۔ یہی چاہتے ہیں کہ کسی کے گھر میں غم نہ آئے۔ بس خوشی کے شادیانے بجیں۔ سہرے کے پھول کھلیں۔ ڈھیر ساری اولادیں ہوں۔ نت نئی رسمیں جنم لیں۔ خوشی کے سارے موقعوں پر یہ مہمانوں سے پہلے ہمارے دروازوں پر موجود ہوتے ہیں۔ ناچتے گاتے ہیں۔ دل بہلاتے ہیں۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ ہنستے ہنساتے ہیں مگر ان کی اپنی زندگی کیا ہے؟ درد سے بھرا ایک راگ، ایک المیہ، ایک ٹھوکر اور ایک بددعا۔ میرے نزدیک آنسوؤں اور دکھوں پر کمال ضبط انہیں کم از کم ہیجڑا ثابت نہیں کرتا۔

ہیجڑے تو وہ ہیں جو ان کے ادھورے جسموں اور ان سے جڑی مجبوریوں کا بے دردی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ مکمل مرد جو بظاہر تو جھوٹی عزت اور وقار کے ہنڈولوں میں جھولے جھولتے ہیں لیکن خواجہ سراؤں کے ساتھ دل لگی کے شوق میں موقع پاتے ہی سارا بھرم گروی رکھوا کر جانور بن جاتے ہیں۔ حیوانیت کے آخری گڑھوں میں گر جاتے ہیں۔ انہیں اپنے اشاروں پر نچاتے ہیں۔ ٖغیراخلاقی حدوں کی بھٹی سے گزار کر اپنے نفس کی تسکین کرتے ہیں۔ انکار پر ان کا ریپ کرتے ہیں اور کوئی زیادہ ہی جِھک جِھک کرے تو اس کا قضیہ ہی نمٹا دیتے ہیں۔

یہ تماشے دن کے اجالے میں ہوں یا رات کی تاریکی میں، ہم اس وقت تک لاعلم رہتے ہیں جب تک کوئی سانحہ وقت کے کواڑ پر دھڑ دھڑ دستک نہ دے۔ آہیں چیخیں بن کر ہوا کے بازو پر اڑان نہ بھریں۔ کل پھر یہ دستک زور زور سے سنائی دی۔ کل پھر ہوا کی لہروں پہ کسی مظلوم کی چیخوں نے گردش کی۔ کل پھر یہاں ایک خواجہ سرا سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا گیا۔ کل پھر انسانیت کا سر شرم سے جھکا۔ کل پھر قانون کی بالا دستی پر سوالات اٹھے۔ اور کہیں دور، بہت دور ایک نطفہ ماں کے پیٹ میں لرز کے رویا اور بولا، ماں مجھے یہیں ماردو میں خواجہ سرا ہوں۔

اب کی بار قومی شعور نے اپنی گرتی سطح کا بھانڈا پھوڑنے کے لیے ہرے بھرے پنجاب کے خوب صورت شہر ساہیوال کا انتخاب کیا، جہاں چند آوارہ مزاجوں نے ثابت کیا کہ اس آزاد ریاست میں وہ خود کو جذبۂ ترحم سے بھی آزاد کر وا چکے ہیں۔ مقتول خواجہ سرا کا جنسی عمل سے انکار ان کے من میں ایسی آگ لگا گیا جس نے خواجہ سرا کو بیچ سڑک پر راکھ بنا ڈالا۔ اپنے لیے جو ایسے حساس دل کہ ذرا سا انکار برداشت نہ کرسکے وہ اس غریب کے معاملے میں ایسے سفاک کیسے ہوگئے کہ مٹی کا تیل ڈالتے اور ماچس دکھاتے وقت ہاتھ کانپے نہ روح۔ بھڑ بھڑ جلتے انسانی وجود کی فلک شگاف چیخوں سے احساسات سلگے نہ ضمیر۔

اپنا وجود تسلیم کروانے کے لیے اس ملک میں خواجہ سراؤں کی جدوجہد کی ایک طویل داستان ہے۔ پاکستانی ریاست نے تو دنیا میں اپنا روشن چہرہ دکھانے کے لیے خواجہ سراؤں کے حقوق کی آواز پر کان دھر کے قوانین سازی کی ابتدا کردی ہے۔ اب خواجہ سراؤں کو پہچان ملی ہے، پاکستانی پاسپورٹ جاری ہونے لگے ہیں، ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا، مردم شماری میں ان کو بھی شمار کیا گیا، لیکن عوامی سطح پر یہ اب بھی ایک جوکر سے زیادہ کچھ تسلیم نہ کیے جا سکے۔ قانون بے شک بدلا مگر خواجہ سراؤں کے لیے معاشرتی رویے صرف اور صرف بگڑے ہیں۔ ریاست نے انہیں شناختی کارڈ جاری کردیے لیکن انہیں شناخت کون دے گا؟ اس معاشرتی بے حسی کا علاج کون کرے گا جس میں جنسی تشدد کا شکار خواجہ سرا اسپتال کی راہداری میں بے بس اور لاچار صرف اسی فیصلے کے انتظار میں مارا جاتا ہے کہ اس کا بستر مردانہ وارڈ میں لگانا مناسب ہے یا زنانہ وارڈ میں؟ اس معاملے میں سب سے زیادہ برا حال صوبہ خیبر پختون خواہ کا ہے جہاں ایک سال میں57 خواجہ سرا قتل کر دیے گئے۔ ان میں سے اکثر واقعات میں قانون کے رکھوالوں نے ایف آئی آر کاٹنے کی بھی زحمت نہ کی اور چیخنے والوں کو دباؤ میں لے کر معاملہ رفع دفع کروادیا۔

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے پاکستانی پارلیمان اور سینیٹ نے قانون سازی تو کردی لیکن عام افراد کو ان قوانین کی پاس داری کا پابند کب کیا جائے گا؟ خواجہ سراؤں کو نارمل زندگی کے دھارے میں کب شامل کیا جائے گا؟ کاش یہ آنکھیں وہ روشن دن طلوع ہوتا دیکھ سکیں جب کسی خواجہ سرا کے پیدا ہونے پر نہ سر جھکیں نہ ان کے مرنے پر جنازے چھپیں۔

Facebook Comments HS