27 واں خواب نامہ۔۔۔ زندگی: مٹھی میں بند ریت
13 مئی 2018
یا درویش سلام نیم شب
رابعہ کا ذہن و دل مسلسل تخلیق کی جدائی میں اداس سے ہیں، لیکن اس کے آس پاس کوئی نہیں جانتا، وہ کس درد میں ہے۔ وہ کس کرب میں ہے، اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا۔ وہ بھی اب درویش کی طرح کئی سمندر پار کئی آسمانوں پار کبھی نہ لوٹنے کے لیے چلی جانا چاہتی ہے۔ وہ جینا چاہتی اپنے ساتھ، اپنے لیے، وہ اڑنا چاہتی ہے، اپنے ساتھ، اپنے لیے، وہ مسکرانا چاہتی ہے، اپنے ساتھ، اپنے لیے۔ رابعہ کے پاس وہ سب کچھ ہے، جس کی بہت سی لڑکیاں خواہش کر سکتی ہیں۔ رابعہ کے پاس بس وہ نہیں ہے جس کی وہ خود خواہش کرتی ہے۔
وہ اپنے خواب، اپنی خواہش میں زندگی کے چند برس، فقط چند برس سانس لینا چاہتی ہے۔ اپنے لیے سونا اور اٹھنا چاہتی ہے۔ دریاوں، جھیلوں کنارے تنِ تنہا بیٹھ کر کتابیں پڑھنا چاہتی ہے۔ آزادی سے مووی دیکھ کر بہت دیر تک کسی بالکونی، کسی کمرے کی کھڑکی میں بیٹھ کر اسے ایک کافی کے مگ کے ساتھ محسوس کرنا چاہتی ہے۔ وہ اس لمحے اکثریتی طبقے سے آدم بیزاری محسوس کر رہی ہے۔
اسے اس کیفیت میں یہ خط کسی اور دنیا کے سفر پہ لے جاتے ہیں؛ وہ خود مستی میں کبھی کبھی خود کو چاند سے بھی بہت آگے تک سفر کرتا محسوس کرتی ہے۔ آسمانو ں سے پار اُڑتے ہوئے۔ اور یہی بے معنی اور ان دیکھا بے۔ یقین کا تصور اس کی زندگی کی سانسوں کو جوڑے ہوئے ہے۔ ورنہ یا تو وہ آج کسی پاگل خانے میں ہوتی یا منوں مٹی تلے سو رہی ہوتی۔ کتنے ہی ایسے پل اس پہ کتنے کرب سے بہت فاخرانہ گزر بھی گئے۔ اب وہ زندگی کو خیر باد کہہ چکی تھی۔ مگر نجانے کس مصلحت نے اسے کیسے اور کیوں کر بچا رکھا، جب کہ دوسرا سفر اس کے لیے زیادہ آسان ہے؛ کیوں کہ یہاں وہ مس فٹ ہوتے ہوئے ان وانٹڈ بھی ہوتی چلی جا رہی ہے۔ گھر سے سماج تک کے سارے رستے ان تصورات تخلیق سے یک سر دُور ہیں۔
رابعہ زندگی کو، اپنی زندگی کو سمجھ نہیں سکی۔ اس کے اُتار چڑھاؤ کے نارمل نہ ہونے کا بھید نہیں پا سکی۔ رابعہ جاننا چاہتی ہے درویش کی نظر میں کام یاب ادیب کی تعریف کیا ہے؟ درویش ہی نہیں رابعہ کو بھی ایک پر سکون مسرت ہے کہ وہ کسی ایسے انسان کے ساتھ تخلیق کی مسافر بنی ہے، جس کے اپنے نظریات و افکار ہیں۔ وہ لکیر کا فقیر نہیں اور نا ہی مصلحت پسند ہے۔ انسان ہے اس لیے کہیں کہیں سنبھلا سنبھلا محسوس ہوتا ہے۔ یہ اس کی خوبی ہے، ورنہ مرد ہی تو نہیں سنبھلتا۔ کیوں کہ اس میں مردانگی کے نام کا غیر فطری و غیر انسانی جنگلی پن موجود ہے۔ جو اُس کے اپنے خیال میں اس کی خوبی ہوتا ہے۔ عورت اس کی اس خامی کو بھی خوبی میں شمار کر تے ہوئے اسے انکریج کرتی ہے۔ خصوصا جب عورت ماں یا محبوبہ ہوتی ہے۔ شاید اس لیے کہ اس کا مفاد وابستہ ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک نفیس، نستعلیق اور سلجھی عورت کبھی بھی اس رویے کو پسند نہیں کرتی۔ کنارا کر لیتی ہے۔ اس کے رستہ بدل جانے کو مرد اپنی توہین کے زمرے میں لے کر انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے اور اسے تسخیر کرنے کے تمام ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اسے ہرانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔
شکر ہے درویش ایک انسان ہے۔ انسان نہ ہوتا تو رابعہ اس کے ساتھ تخلیق کے اس حسین آرٹ کو کبھی بھی جاری نہ رکھتی۔ جیسا کہ اسے شروع کے دس بارہ خطوط تک گمان تھا کہ شاید یہ تخلیقی سفر مزید آگے نہ چل سکے۔ کیوں کہ رابعہ نے ایشائی معاشرے میں جب بھی کسی کے ساتھ کام شروع کیا، وہ کبھی بھی تکمیل کے مراحل طے نہ کر سکا۔ لہذا اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ جب بھی کام کرے گی، اکیلے کام کرے گی۔ ورنہ مندر کی چابی گم ہو جاتی ہے۔ یا درویش واقعات سنانے کے لیے جس ذہنی اور جسمانی فوکس کی رابعہ کو ضرورت ہے، ابھی وہ موجود ہی نہیں ہے۔ وہ جلد بازی سے کام لے کر زندگی اور تخلیق کے حسن کو پامال نہیں کرتی۔ کیوں کہ وہ حسن پرست نا سہی حسن پسند ضرور ہے۔ اسے حسن متاثر کرتا ہے۔ چاہے وہ ظاہری ہو، ، چاہے باطنی۔ اس کا تو خیال ہے کہ ظاہری حسن بھی باطن کا آئنہ ہے۔
درویش کا تجربہ جو رابعہ سے کہیں زیادہ وسعت کا حامل ہے، کیا کہتا ہے؟ کہ کیا باطنی حسن، ظاہری حسن کا آئنہ ہے؟ یا پھر ظاہری حسن (سر تا پا body language) باطنی حسن کی تصویر ہے؟ رابعہ بہت عرصے سے اس مشاہدے میں مگن ہے۔ رابعہ کو کبھی یہ خیال تھا کہ وہ کسی سے اتنا بھرپور تخلیقی مکالمہ کرے اور یہ مکالمہ دو متضاد جینڈرز کے بنا ممکن بھی نہیں تھا، مگر جس سماج کی وہ باسی ہے وہاں علمی و تحقیقی و تخلیقی و سائنسی و نفسیاتی سب کے اختتام مرد و زن کی سوچ پہ ہو جاتے ہیں۔ عورت کے دل کی گھنٹی بجے نہ بجے، مردانہ جبلت کی گھنٹیاں بج اْٹھتی ہیں۔ شایدوہ اتنی لوز فٹ ہے۔ یوں علم تفکر فکر رسا، غور و فکر سب ڈسچارج ہو جاتے ہیں اور اتنے کم زور مادے ہوتے ہیں، کہ کسی کوکھ میں تخلیق انگڑائی بھی نہیں لیتی۔ اخلاق و اخلاص بھی کم زور اور منتشر، توجہ بھی منتشر۔
درویش اور رابعہ کی خوش نصیبی دونوں شعور کی اس منزل پہ ہیں جہاں علم و طالب علمی حسن ہے۔ جس سے تخلیق پانیوں کی طرح خود بخود رستہ بناتی چلی جا رہی ہے۔ دونوں اپنے کام کے ساتھ مخلص ہیں اور اس سے بڑا اخلاص کوئی نہیں، سچ نہیں؛ کہ یہ چھبسواں خط بھی لکھا جا رہا ہے۔
یا درویش، رابعہ سانس روکے ایک رات میں سانس لینے کی کو شش میں ہے۔ ہوا کسی کی یاد میں یا کسی معراج میں تھم سی گئی ہے۔ ایک خامشی نے رات کو اپنا اسیر کیا ہوا ہے اور لگتا ہے کل ایک خوف ناک گرم دن طلوع ہو گا۔ مہینا نیا ہو گا۔ مگر زندگی پرانی اور ایک لمحے مزید آگے بڑھ چکی ہوگی۔
آج رابعہ کو یوں لگا جیسے زندگی مٹھی میں بند ریت کی طرح نا معلوم طور پہ سلپ ہو گئی ہے اور چند ذرے ہی بچے ہیں، جنھیں وہ تھام تو نہیں سکتی، انھیں بھی ہاتھو ں سے نکل جانا ہے۔ سب خواب آنکھو ں اور دل میں بسے شہر محبت سمیت ساتھ چلے جائیں گے اور وہ ریتلی خشک مٹی میں دائیں کروٹ سو جائے گی۔
زندگی اک بھید ہے جو نا کسی پہ کھلا ہے، نا کھلے گا۔ بھید بھری زندگی سونا چاہتی ہے؛ دعا کیجیے گا، وہ کل بھی سو نہیں سکی۔ اس کے اندر کوئی اور زندگی مضطرب تھی۔ ساتویں آسمان سے اوپر والی کسی گھنٹی کی آواز اسے سنائی دے رہی تھی۔ شب و صبح بخیر اے سات سمندر پار درویش۔


