بے غیرت تصنیف حیدر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دہلی آنے کے بعد میرے اندر کے اس عجیب و غریب بے غیرت شخص کو لڑکیوں کی صحبت نے ایڑ لگا دی۔ میں پہلے جو کچھ بھی کرتا تھا، اس کا گواہ خود کو بھی نہیں بناتا تھا۔ مگر کسی لڑکی نے جب پہلی بار کھل کر بغیر کسی احتیاط کے میرے بدن کو چھوا تو اچانک اسی روز ایک نئے تصنیف کا جنم بھی ہوا۔ یہ تصنیف میرے لیے ویسا ہی روپ رکھتا تھا، جیسا آپکے کاندھوں پر کراما کاتبین کا مقام ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ ان کے لکھے کو سننے کے لیے آپ کو حشر تک کا انتظار کرنا پڑے گا، میرے اندر کا تصنیف مجھ سے سب کچھ یہیں اگلوا لیتا ہے۔

خیر، اس بے غیرتی کے تیسرے دور میں میں نے کمال قسم کی بے ایمانیاں کی ہیں۔ جن میں اول تو یہ ہے کہ جب دوردرشن اردو کے بہت سے پروگرام نکلے ، تو لوگوں نے اردو لکھنے والوں کی ایک بھیڑ کو اپنے آس پاس جمع کرلیا۔ یہاں تک کہ جسے اردو کے بارے میں صرف اتنا پتہ تھا کہ اس کے نام کا مطلب لشکر ہے اور وہ خالص مسلمانوں کی زبان ہے، اس کے بھی وارے نیارے ہوگئے۔

ایسے میں پہلی بار کسی پروڈیوسر نے مجھے مشورہ دیا کہ اس کے الگ الگ دو پروگراموں کے لیے میں ایک ہی سکرپٹ لکھوں اور بس ان میں تھوڑا ساپھیر بدل کردوں کیونکہ دوردرشن کی ریویو کمیٹی میں اس کے دوست ہیں اور پھر کوئی بھی پروگرام سرکاری ادارے میں بہت غور سے نہیں دیکھا جاتا ، اس لیے کیا ہی اچھا ہو کہ میں ایک ہی سکرپٹ پر کام کروں ، ایک ہی سکرپٹ کے پیسے لوں اور دوپروگراموں کے تیار ہونے کا راستہ نکل آئے۔

میں نے نہ صرف اس کی بات مانی، بلکہ اسی کی سکرپٹ کو سات آٹھ طریقوں سے لکھ لکھ کر اگلے کئی پروڈیوسروں کو بھی وہی سکرپٹ بیچ دی۔ اس معاملے میں بھی کمال یہ ہوا کہ ایک دو بدنصیبوں کو چھوڑ کر باقی سبھی کی سکرپٹس پاس بھی ہوگئیں، ان پر پروگرام بھی بن گئے اور پروڈیوسروں کی جیب بھی گرم ہوگئی۔ پھر تو یہ قصہ میرے لیے عام ہوگیا، میں سمجھ گیا تھا کہ سسٹم کوئی ایسی ہی چیز ہے، جسے صرف پنے کالے کرنے سے دلچسپی ہے، تھوک اور سیاہی کے رنگ میں فرق کرنے کا اس میں تمیز نہیں، چنانچہ میں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

اگلی بے غیرتی تو ان سب سے بڑھ کر ہے، اور وہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سوچنے اور ممنوعہ مصنفین کی کتابیں پڑھنے سے میرے اندر کا کافر دھیرے دھیرے مذہب کی کھوکھلی دیوار سے سر مارنے لگا۔ اور پھر ایک دن جب گھر میں میں نے مذہبی بحث چھیڑی تو دوسروں کے ساتھ خود مجھ پر بھی یہ انکشاف ہوا کہ میں تو سالا بڑا کڑوا کافر ہوں۔ اس وقت تک جب تک مجھے اتھیسٹ کی سپیلنگ بھی نہیں پتہ تھی، میں مکمل ناستک بن چکا تھا۔

اسی دوران جن لڑکیوں سے میرا معاشقہ چلا، ان کے ساتھ جنسی رشتتوں کی خالص لذت حاصل کرنے میں اس کفر نے مجھے کس قدر لذت پہنچائی ہے، میں آپ کو اس کا اندازہ نہیں کروا سکتا۔ پہلے تو حال یہ تھا کہ جنسی عمل بھی کورے کچے گھوڑے کی طرح چھپتا چھپاتا چلتا تھا، دماغ میں احساس گناہ ہر وقت آندھی بن کر جھکڑیں مارتا اور دل خود پر ان باتوں کے لیے لعنت بھیجتا جن میں زیادہ سے زیادہ لطف کی گنجائش تھی۔ خیر، میں نے ان سب واہموں کو کفر کا دروازہ کھلتے ہی شہادت کی انگلی کی ایک ہلکی سی ضرب سے اڑادیا۔ وقت آگے بڑھا تو اس کفر کی بے غیرت چاندنی میں نہانے کی وجہ سے میں دن رات بے باک ہی ہوتا گیا۔

میں نے مذہب کے خلاف لکھا، ایسی ایسی باتیں لکھیں کہ میرے خاندان والوں سے لے کر باہر تک بہت سے لوگ بیری ہونے پر تل گئے اور پھر ایک دن مجھے میرے ایک عزیز صحافی کا فون آیا کہ بھائی، آپ کو پتہ نہیں، مگر چند کٹر قسم کے مسلمان اس وقت آپ کے ایسے دشمن ہیں کہ آپ کے قتل کی سازش بھی کرسکتے ہیں۔ اس لیے اگر اپنی جان سے ذرا سی بھی محبت ہے تو اسلام کا پیچھا چھوڑ کر کچھ اور کام کیجیے، میں نے اپنے کفر کے ساتھ بھی بے غیرتی کا نہایت سلوک روارکھتے ہوئے مذہب پر بات ہی کرنا چھوڑ دی۔ بس کبھی کبھار اپنے بہت قریبی دوستوں کی محفل میں جلے دل کے پھپھولے پھوڑ لیا کرتا ۔

اسی دوران میرے فیس بک کور فوٹوز کا چرچا بھی ہوتا رہا تھا۔ بہت سے لوگوں کو اعتراض تھا کہ میں محرم سے لے کر ذی قعد تک ایسی ایسی ننگی تصویریں کیوں شیئر کرتا ہوں۔ ایک دفعہ ایک دوست نے کہا کہ تصنیف میاں ! آپ پر کسی دن کوئی عورت ضرور جنسی ہراسمنٹ کا الزام لگادے گی۔ میں نے کہا کہ ایسا اس لیے ناممکن ہے کہ کیونکہ میں ایسی ہی خواتین سے جنسی قسم کی گفتگو کرتا ہوں، جنہیں اس قسم کی گفتگو میں خود بھی دلچسپی ہو۔

خیر، میں نے بدنامی و بے غیرتی کی مکھیاں کبھی نہیں اڑائیں۔ میں تو ان کے لیے برسات کا سا درجہ رکھتا ہوں۔ ابھی کل مجھ سے اردو کے ایک اہم ترین معاصر شاعرنے پوچھا کہ میاں تصنیف! ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ فراڈ کے بدلے حاصل ہونے والی رقم کا کیا کیا تو میں نے کتابوں کی ایک تصویر انہیں بھیج کر ساتھ میں لکھ دیا کہ بھیا! لعنت ہو ایسی زندگی پر کہ میری دھوکا دھڑی سے حاصل کی جانے والی رقم بھی اسی سیاہ و سفید دریا میں غرق ہوجاتی ہے۔

اب بتائیے مجھ سے زیادہ بے غیرت آدمی بھی دیکھا ہے کہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •