بے غیرت تصنیف حیدر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی دو دن بھی نہیں گزرے کہ مجھ پر ایک نئی بدنامی کا دور آیا۔ مگر اس بدنامی کے لیے جن صاحب نے بھی چھوٹی موٹی کہانی لکھی، وہ میری بے غیرتی کی توصیف میں بے حد ادھوری ہے۔ مجھے اسے پڑھ کر خود ہی مزا نہیں آیا تو دوسروں کو کیا خاک آیا ہوگا۔ برائی تو ایسی ہونی چاہیے کہ پڑھنے والا تحریر کے ایک ایک رونگٹے سے نفرت کرے۔ پیراگراف کی کلائیاں مروڑے، بیچ بیچ میں ابکائیاں لے اور آخر میں تھک کر تحریر کو ادھورا ہی چھوڑ مرے۔

میرے بارے میں ایسی تحریر میرے علاوہ کوئی اور نہیں لکھ سکتا۔ کیونکہ میں ایک نہیں دو تصنیف حیدر ہوں۔ پہلا وہ جو حرامزدگیاں کرتا ہے اور دوسرا وہ جو اس کی کمینگیوں کو بیان کرنے کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ میری ماں اچھی خاصی نمازی ہے، پھر بھی پتہ نہیں میں کس لمحے کی انتہائی بے غیرتی کا تخم ہوں، جس نے عریانیت میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی ہے۔ سو آئیے میں آپ کو خود اپنی بے غیرتی کی روداد سناتا ہوں اور اگر اسے پڑھ کر آپ کو مجھ سے نفرت ہوگئی تو جانیے کہ میری تپیسا ٹھکانے لگی۔

میری بے غیرتی کی کہانی اس دن سے شروع ہوتی ہے، جب میں اپنے چچا کے گھر سے باقی بھائی بہنوں کےساتھ ٹی وی دیکھ کر اپنے گھر لوٹا۔ غصے میں لال بھبھوکا میرے والد نے ہم بھائی بہنوں کو قطار میں کھڑا کیا اور کہنے لگے ۔ ‘منع کیا تھا ٹی وی دیکھنے کے لیے کہیں جانے سے۔ اب سزا یہ ہے کہ اپنی ہتھیلی پر تھوک کر اسے چاٹو۔ ‘میرے دیگر بھائی بہن پس و پیش میں مبتلا تھے، میں نے ایک دفعہ ان کی طرف بے دھیانی سے دیکھا، ان کے چہرے سے شرمندگی اور خوف کے سیلاب پھوٹے پڑرہے تھے۔ گویا ہم لوگ ٹی وی نہ دیکھ کر آئے ہوں، ابرہہ کے تعمیر کلیسا کی حمایت والے جلوس سے لوٹے ہوں۔ ابھی وہ اسی حالت میں تھے کہ میں نے ہتھیلی پر تھوک کر فورا اسے زبان سے چاٹ لیا۔ ابا نے ایک نظر مجھے دیکھا، پھر نہ جانے کیا سوچ کر اٹھے اور کمرے میں گھس گئے۔ پھر کبھی انہوں نے مجھے یا میرے کسی بھائی بہن کو چچا کے یہاں جانے سے نہیں روکا۔

سودا سلف لانے کے لیے بچپن میں ہی ہم لوگوں میں ہوڑ مچی رہتی تھی۔ میں ،میرا چھوٹا بھائی اور چچازاد بھائی، تینوں سامان لانے جاتے، پیسے بچاتے اور الٹا سیدھا حساب دے کر شام کو غوثیہ مسجد کے باہر موجود چوک کے رگڑے والے چاچا کے ٹھیلے پر اس قلیل حرام کمائی سے خوب لطف اندوز ہوتے۔ مسجد اپنی تمام تر خوبیوں اور جلالی وظیفوں کے ساتھ ہم پر خدائی لعنت کے ہتڑ برساتی رہتی اور ہم مزے مزے سے چچا کی دیگچی میں سے نکلے ہوئے گرم گرم حلیم نما رگڑے کو آنکھوں سے ہی کھانا شروع کردیتے۔

ایک واقعہ اور یاد آتا ہے۔ بچپن میں اتفاق سے مذہبی کتابیں پڑھتے پڑھتے میں نمازی ہوگیا تھا۔ ایک دفعہ عصر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ اچانک پھوپھی جان تشریف لائیں،انہوں نے امی سے کہا کہ بھئی نجیبہ گھر پر اکیلی ہے، تم تصنیف کوذرا دیر وہاں بھیج دو، میں تم سے کچھ کام کی باتیں کرنے آئی ہوں۔ نجیبہ کے ذکر پر اس کی گلابی کھال کا لطیف پیرایہ میری آنکھوں میں جگمگ کرنے لگا۔ سبحان رب العظیم میں اتنی طاقت نہ رہی کہ اپنے گھٹنوں پر کھڑے رہ پاتا، چنانچہ اس ڈر سے کہ میرے تنے ہوئے عضو نحیف کو کوئی دوسرا نہ دیکھ لے، جھٹ سے سجدے میں جاگرا اور سلام پھیرتے ہی رانوں پر ہاتھ دھرے نجیبہ کی جانب دوڑ لگادی۔

وہاں پہنچا تو اس کے ساتھ بالکل تازہ جوان جسموں والا وصل شروع ہوا، ہم دونوں کب ہانپتے کانپتے باتھ روم تک پہنچ گئے، پتہ ہی نہ چلا ، ابھی ہم مصروف کار ہی تھے کہ پھوپھی کے گھر پر کہیں سے بہن آدھمکی۔ پھوپھی کے گھرکا دروازہ اور کھڑکی بالکل آس پاس تھے، گھر ایک چال میں تھا، چنانچہ پردہ ہٹاتے ہی اندر باتھ روم تک کا منظر صاف طور پر دیکھا جاسکتا تھا۔ پتہ نہیں کب بہن نے شرارت میں پردہ کھینچ دیا، شاید وہ کچھ بھانپ گئی تھی۔

کچھ دیکھتے ہی اس نے دروازے پر ضربوں کی یلغار کردی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وقت کے عنابی اور گودے دار تربوز پر کسی نے اچانک چھری چلا دی ہو۔ میں آدھی فتح کے غم سے نڈھال باہر نکل آیا اور گھر کی راہ لی۔

میری بے غیرتی کا دوسرا دور چوریوں کے ساتھ شروع ہوا۔ حالات کچھ ایسے بگڑے تھے کہ ہم لوگوں کو پھوپھی کے گھر پر رہنے آنا پڑا۔ اس وقت مسیں پھوٹ رہی تھیں۔ سکول چھوٹ چکا تھا اور میرے اور نجیبہ دونوں کے ہوش کے ناخن لینے کا وقت آپہنچا تھا۔ ہم ڈرے سہمے رہتے تھے، جیسے کوئی کسی بھی وقت ہماری چوری پکڑلے گا، اس لیے محتاط رہنے لگے۔ لیکن پھر مجھے پیسوں کی ضرورت پڑی، نہیں اس لیے نہیں کہ نجیبہ کو تحفے دینے تھے۔ ایسی کوئی بات نہیں۔

بات یہ تھی کہ میں اپنے پھوپھی اور چچا زاد بھائیوں کے ساتھ بندر(ساحل سمندر) کی سیر کو جایا کرتا تھا۔ وہاں مختلف قسم کے میلے ٹھیلے لگتے تھے۔ سرو کے درختوں والے جھنڈ سے خاص طور پر دوپہری کو باہر نکلنے والے جوڑوں کو جب نیبو پانی کی سخت ضرورت ہوتی تو ہم انہیں حسرت کی نگاہوں سے تکا کرتے تھے۔ اس وقت ایسی کسی لڑکی کا انتظام تو مشکل تھا جو ہمارے ساتھ سرو کے درختوں کی چھوٹی سی سیر لگا سکے، مگر نیبو پانی کا انتظام تو ضرور ہوسکتا تھا۔

چنانچہ میں نے پہلی دفعہ رات کو سوتے ہوئے اپنے پھوپھا کی جیب سے کچھ رقم اڑائی۔ وہ بھی ایسے کہ دروازے کے دوسری جانب ان کا شرٹ لٹکا رہا کرتا تھا، دروازے سے منسلک لمبی پتلی کھونٹی پر، جس میں بہت سے دوسرے کپڑے بھی ہوتے تھے، پھوپھا کے پتلون کو اور پھر اس کی جیب کو دو انگلیوں کی مدد سے تلاش کرنا اور ایسے وقت میں جب پورا گھر نیند کے خراٹوں اور خواب کی تلچھٹوں سے چرچٹ کررہا ہو، بڑا زبردست منظر ہوا کرتا تھا۔ ایسا اڈونچر میں نے پھر کبھی محسوس نہیں کیا۔

میں ایک دو بار تو کامیاب ہوگیا، مگر تیسری بار پکڑا گیا۔ رنگے ہاتھوں نہیں، پھوپھا نے دیکھ لیا تھا، مگر دوسرے دن براہ راست مجھ سے بات کرنے کے بجائےانہوں نے ابا سے شکایت کی۔ مار پڑی، تو تو میں ہوئی اور ایک دفعہ تو میں گھر بھی چھوڑ کر نکلا۔ مگر آخر کو اس دھندے کے لیے خود کو نامناسب خیال کرتے ہوئے میں نے اسے ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسی طرح کا ایک واقعہ آموں کی سننے لائق چوری کا ہے۔ پھوپھا اسی زمانے میں ممبئی سے ملحقہ ایک علاقے واشی میں آموں کے کسی کاروبار میں قسمت آزمارہے تھے۔ طرح طرح کے آم وہ کارٹنوں میں بھر کر گھر لاتے اور اپنے بستر کے نیچے صفوں کی صفیں کھپادیتے۔ میں اور میرا چچا زاد بھائی، دن میں موقع نکال کر ایک دو دفعہ بستر کے نیچے ہاتھ پہنچاتے اور جنوں کی سی لمبی قلانچ کی طرح جو آم ہاتھ لگتا ، اسے خدا کی دی ہوئی نعمت کے طور پر قبول کرکے چھپ چھپا کرکھالیتے، کبھی واڑی میں، کبھی جھاڑیوں میں تو کبھی باتھ روم میں۔ اس چوری میں ہماری مشاقی کا عالم کچھ ایسا تھا کہ پکڑے کبھی نہیں گئے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •