زندہ سانپ کھانے کے بعد کیا ماہیپال سنگھ بچ سکا؟


گاﺅں والوں کی جانب سے جوش دلانے پر آدمی نے زندہ سانپ کھالیا، پھر کیا ہوا؟ جان کر ہی آپ کانپ اُٹھیں گے

 

 

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 40 سالہ ماہی پال سنگھ نشے کی زیادتی کے باعث اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو رہا تھا اور سڑک پر دندناتا پھر رہا تھا۔ اسی دوران اسے سڑک کنارے ایک چھوٹا سانپ نظر آیا تو اُسے اٹھا لیا۔ وہ کبھی سانپ کو ہوا میں اچھالتا اور کبھی ادھر سے اُدھر پھینکنے لگتا۔ اسی دوران وہاں موجود کچھ بے حس لوگ اُسے سانپ کے ساتھ مختلف قسم کے کرتب کرنے پر اُکسانے لگے۔ کسی کے کہنے پر اُس نے سانپ کو اپنے سر پر رکھا لیکن پھر کسی نے کہا کہ وہ اتنا بہادر ہے تو اسے اپنے منہ میں رکھ کر دکھائے۔ ماہی پال تو نشے میں دھت ہو کر عقل سے پوری طرح عاری ہو چکا تھا۔ اُس نے یہ چیلنج بھی قبول کیا اور سانپ کو اپنے منہ میں ڈال لیا، مگر اگلے ہی لمحے یہ سانپ اس کے گلے سے اترتا ہوا پیٹ میں چلا گیا۔

زندہ سانپ کو کھاتے ہی اس کی طبیعت بری طرح بگڑنے لگی۔ وہ مسلسل تڑپتا رہا اور بار بار قے کرتا رہا مگر سانپ باہر نہ آیا۔ اُسے ہسپتال لیجایا گیا مگر ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود چار گھنٹے بعد اُس کی موت ہو گئی۔ بدقسمت شخص نے سوگواران میں بیوہ اور چار بچے چھوڑے ہیں، جن میں سے ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں۔

Facebook Comments HS