سماج میں عدم برداشت کا خطرناک رجحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشرے کی عمارت اخلاقیات، برداشت، رواداری اور محبت کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے اور جب یہ خصوصیات سماج سے رخصت ہوجائیں تو وہ تباہی کی طرف تیزی سے گامزن ہوجاتا ہے۔ یہی گمبھیر صورت حال ہمارے معاشرے کو بھی درپیش ہے، جہاں عدم برداشت کا رجحان اس سُرعت سے فروغ پارہا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ اس کے باعث تشدد پسندانہ سرگرمیاں بھی سامنے آرہی ہیں، لوگوں میں ذرا بھی برداشت نہیں، محض چھوٹی چھوٹی باتوں پر تشدد سے بھی گریز نہیں کرتے۔

عدم برداشت اور متشددانہ طرز عمل کے فروغ کی بدترین مثال، لاہور میں گزشتہ روز ہونے والا ایک واقعہ بھی ہے، جس میں کپڑا چوری کے الزام میں ناصرف دو خواتین پر بدترین تشدد کیا گیا، بلکہ اُن کو مغوی تک بنالیاگیا، اطلاعات کے مطابق جلو موڑ کے علاقے میں جی ٹی روڈ مارکیٹ کے دُکان داروں نے چوری کے الزام میں دو خواتین کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ قانون کی دھجیاں اُڑا دی گئیں۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی منظرعام پر آگئی جس میں ملزم بے بس اور مجبور خواتین پر ڈنڈوں، گھونسوں اور تھپڑوں کا آزادانہ استعمال کررہے ہیں۔ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، عورتوں پر سرعام اتنا بہیمانہ تشدد ہمارے سماج پہ بدنما داغ کی مانند ہے، جو کبھی مٹ نہیں سکے گا۔

مذکورہ بالا واقعات ہمارے سماجی رویوں میں در آئی عدم برداشت اور تشدد کی روش کی بھرپور عکاسی کرنے کے لیے کافی ہیں۔ بلاشبہ اخلاقی انحطاط کا یہ عالم، لمحۂ فکریہ ہونے کے ساتھ تشویش ناک بھی ہے۔ ہمارے مہذب لوگ ان تمام واقعات پر صحیح، غلط کی تمیز کرنے کی صلاحیت بخوبی رکھتے ہیں، اور غلط کو ناصرف غلط کہتے بلکہ اس کی بھرپور مذمت بھی کرتے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب وہ خود کسی ایسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ بھی برداشت کا مظاہرہ نہیں کرپاتے۔ یہ معاشرتی دوعملی کیوں؟ یہ سوال جواب کا متقاضی ہے۔

دوسری طرف سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم لوگوں میں سے برداشت کیوں ختم ہوتی جارہی ہے۔ اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی جائے تو یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ ہمارے عوام کی اکثریت کو گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ اُن کی زیست مسائل اور مشکلات سے عبارت ہے، جن میں کمی کی کوئی سبیل دِکھائی نہیں دیتی، وقت گزرنے کے ساتھ مصائب بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ ان مستقل پریشانیوں کا سامنا کرتے کرتے ہمارے شہریوں کی اکثریت سخت اذیت کی کیفیت میں مبتلا ہوچکی ہے، لوگوں کے ذہنوں پر اس صورت حال نے انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں، تنک مزاجی اُن کا خاصہ بن چکی ہے، عوام کی اکثریت نفسیاتی عوارض سے دوچار ہوچکی ہے، تبھی تو اُنہوں نے اخلاقی اقدار کو بالائے طاق رکھ دیا ہے، اُن میں عدم برداشت کی روش انتہائی خطرناک انداز میں تیزی سے فروغ پارہی ہے جب کہ وہ بعض حالتوں میں تشدد پر بھی اُتر آتے ہیں۔ یہ سنگین مسئلہ ہے، جس میں بہتری کے لیے حکومتی کوششیں ڈھونڈے سے بھی نظر نہیں آتیں۔

بلاشبہ تمام مسائل کا حل ہوتا ہے، کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو لاینحل ہو۔ اس لحاظ سے عدم برداشت کے رجحان پر بھی قابو پانا ممکن ہے، لیکن یہ کسی ایک کے کرنے سے نہیں ہوسکتا، اس کے لیے اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں شاید سنہرا ماضی لوٹ آئے کہ جب ہمارا سماج اعلیٰ اخلاقی اقدار، محبت، برداشت، رواداری کی خصوصیات سے مزّین تھا۔ لوگ ایک دوسرے کا ازحد احترام کرتے تھے۔ ایک دوسرے کا خیال رکھا جاتا تھا۔ لڑائی جھگڑوں کا تصور ہی نہ تھا۔ چوری، ڈکیتی، قتل ایسے جرائم سے ہمارا سماج مبّرا تھا۔ وہ سنہرا دور واپس آسکتا ہے، اس کے لیے ہر مکتب فکر کے افراد کو ٹھنڈے دل سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے، سب سے پہلے اس دوعملی رویے کو بھی ترک کرنا ہوگا کہ دوسرا عدم برداشت کا مظاہرہ کرے اور تشدد پر اُتر آئے تو ہم اس کو لعن طعن کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں دِکھاتے اور جب خود ایسا کر گزرتے ہیں تو اس کے لیے طرح طرح کے جواز گھڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ حقیقت ہی ہے کہ ہم اگر اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرلیں تو صورت حال خاصی بہتر ہوسکتی ہے۔ صرف برداشت پیدا کرنے سے ہی معاشرے کا امن و چین لوٹ سکتا ہے۔ انسان ہونے کے ناتے کسی پر بھی تشدد کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ یہ ہر لحاظ سے قابل مذمت امر ہے۔ لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ تشدد اور عدم برداشت کے رویوں سے جان چھڑائی جائے۔ اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دیں۔ ایک دوسرے کا احترام کیا جائے۔ انسانیت کا پرچار کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •