کیا پاکستان میں بچوں کو جینے کا حق نہیں؟

پچھلے کچھ دنوں سے یہ سوال ذہن میں مسلسل گردش کررہا ہے۔ دل و دماغ ماؤف ہوگئے ہیں کہ یہاں حالات، اطفال کے لیے ہرگز ہرگز مناسب و موافق قرار نہیں دیے جاسکتے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اُن سے جینے کا حق دانستہ چھینا جارہا ہے۔ بچّوں کے معاملے میں انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی…

Read more

بجلی کی فراہمی کا بوسیدہ نظام، نجات کب ملے گی

بارش کو رحمت گردانا جاتا ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ناقص حکومتی انتظامات کی وجہ سے یہ وطن عزیز کے عوام کے لیے ہمیشہ ہی زحمت کا باعث ثابت ہوتی ہے۔ عیدالاضحیٰ سے قبل ملک بھر میں خوب بارشیں ہوئیں، اس بار تو مینہ اس شدّت سے برسا کہ نتیجتاً ملک بھر…

Read more

کھِیلوں کے ہیروز کی نا قدری، آخر کب تک؟

کھیل کوئی بھی ہو، اُس میں اپنی عمدہ کارکردگی سے جو کھلاڑی ملک و قوم کا نام روشن کرتا ہے، سبز ہلالی پرچم کی سر بلندی کی وجہ بنتا ہے، وہ بے شک و شبہ ہمارا ہیرو ہی ہے۔ خواہ وہ ہاکی سے متعلق ہو، اسکواش، اسنوکر، بیڈمنٹن، فٹ بال، کرکٹ یا کسی اور کھیل سے وابستہ۔ بد قسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں کھیلوں میں بھی دُہرا معیار رائج ہے، جس سے سال ہا سال سے ہمارے ”ہیروز“ کا بد ترین استحصال ہو رہا ہے۔گزشتہ دنوں اسنوکر کے سابق عالمی چیمپئن محمد آصف کا ایک انٹرویو نظر سے گزرا، جس میں اُنہوں نے نا صرف حکومتی بے حسی اور عدم توجہی کا تذکرہ کیا، بلکہ اپنے دُکھ کھل کے بیان کر ڈالے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کی نظر میں کرکٹ ہی صرف گیم ہے اور ہمارے کھیل کو شاید گیم ہی نہیں سمجھا جاتا۔ 2012 میں عالمی چیمپئن بنا، اب تک چھے عالمی اور ایشین ٹائٹلز اپنے نام کر کے دُنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم لہرا چکا ہوں، ان کامیابیوں کے بعد قوم سے مجھے جتنی محبت اور پذیرائی ملی، وہ میری زندگی کا اثاثہ ہے۔

Read more

نوجوان ہمارا حقیقی سرمایہ ہیں

کسی بھی ملک کی ترقی میں نوجوان نسل جو کردار ادا کرسکتی ہے، وہ کوئی اور نہیں کرسکتا۔ اس لحاظ سے یہ ہماری خوش قسمتی ہی ہے کہ وطن عزیز کی آبادی کا زیادہ تر حصّہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کی کُل آبادی کا نصف کے قریب نوجوان ہیں۔…

Read more

دارالصحت نہیں دارالمفلوج

ملک عزیز میں مسیحاؤں اور نجی اسپتالوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بدقسمتی سے وہ وہ داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ جن کو اگر مہذب اقوام کے سامنے بیان کیا جائے تو وہ ان مسیحاؤں اور اسپتالوں کو چنگیز خان و ہلاکو خان سے بھی زیادہ سفّاک اور بے رحم قرار دینے میں ذرا بھی تامل نہیں کریں گے۔ ان نامی گرامی نجی اسپتالوں اور نام نہاد مسیحاؤں کا مطمح نظر محض دولت کمانا اور تجوریاں بھرنا ہوتا ہے۔ مریضوں اور اُن کے اہل خانہ پر اپنی مرضی مسلط کرنا ان کی اوّلین ترجیح ہوتی ہے۔اُن کی معائنہ فیس ہی غریبوں کی روز کی آمدنی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور لیبارٹری ٹیسٹ اور دیگر سہولتوں کے نرخ تو اللہ اللہ۔ ایک دن میں ہی وہ اپنے اسپتال میں داخل مریضوں اور اُن کے اہل خانہ کا لمبے چوڑے بل بناکے بھرکس نکال دیتے ہیں۔

Read more

پاکستان کرکٹ: تھالی میں رکھ کر جیت پیش کرنے کی روش

قومی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق مایہ ناز بلے باز رہے ہیں۔ کئی ناکامیوں کو اُنہوں نے اپنی عمدہ کارکردگی کی بدولت جیت میں تبدیل کیا ہے۔ خصوصاً 1992 ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں اُن کی جارحانہ اننگز 27 سال بعد بھی شائقین کے دل و دماغ میں آج بھی محفوظ ہے۔ ایک روزہ…

Read more

صحافی چنے بیچیں یا پکوڑے…؟

بحران ہم سے ایسے چمٹے ہوئے ہیں کہ اﷲ کی پناہ... گویا ہمارے ملک میں بحرانوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ ہر تھوڑے وقت یا عرصے بعد کوئی نیا بحران اژدھے کی مانند منہ کھولے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ توانائی، آبی، معیشت کے بحرانوں سے وطن عزیز اور اُس کے عوام خاصے عرصے سے…

Read more

درندوں سے بیٹیوں کی حفاظت؟

گزرے وقتوں میں ہمارے معاشرے کی خوبصورتی سب پر عیاں تھی، اخلاقی اقدار اس کا خاصہ تھیں۔ زمانہ کمرشلائزیشن کی حشر سامانیوں سے محفوظ تھا۔ سائنس و ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی نہیں کی تھی۔ لوگ سادہ تھے اور اُن کی نظروں میں انسانیت کی قدر تھی، خاندانی اور محلے داری نظام مضبوط جڑیں رکھتا تھا،…

Read more

ڈرامہ عشق بے پناہ کے ڈائیلاگ پر ہنگامہ

ایک دور تھا کہ پاکستانی ڈراموں کو اعلیٰ معیار، عمدہ کہانیوں اور معاشرتی مسائل کا خوبصورتی سے احاطہ کرنے پر ناصرف وطن عزیز بلکہ بھارت تک میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور اُن کا طوطی سارے جہاں میں بولتا تھا۔ ان ڈراموں کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ…

Read more

سماج میں عدم برداشت کا خطرناک رجحان

معاشرے کی عمارت اخلاقیات، برداشت، رواداری اور محبت کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے اور جب یہ خصوصیات سماج سے رخصت ہوجائیں تو وہ تباہی کی طرف تیزی سے گامزن ہوجاتا ہے۔ یہی گمبھیر صورت حال ہمارے معاشرے کو بھی درپیش ہے، جہاں عدم برداشت کا رجحان اس سُرعت سے فروغ پارہا ہے کہ جس…

Read more