کھیل کوئی بھی ہو، اُس میں اپنی عمدہ کارکردگی سے جو کھلاڑی ملک و قوم کا نام روشن کرتا ہے، سبز ہلالی پرچم کی سر بلندی کی وجہ بنتا ہے، وہ بے شک و شبہ ہمارا ہیرو ہی ہے۔ خواہ وہ ہاکی سے متعلق ہو، اسکواش، اسنوکر، بیڈمنٹن، فٹ بال، کرکٹ یا کسی اور کھیل سے وابستہ۔ بد قسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں کھیلوں میں بھی دُہرا معیار رائج ہے، جس سے سال ہا سال سے ہمارے ”ہیروز“ کا بد ترین استحصال ہو رہا ہے۔گزشتہ دنوں اسنوکر کے سابق عالمی چیمپئن محمد آصف کا ایک انٹرویو نظر سے گزرا، جس میں اُنہوں نے نا صرف حکومتی بے حسی اور عدم توجہی کا تذکرہ کیا، بلکہ اپنے دُکھ کھل کے بیان کر ڈالے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کی نظر میں کرکٹ ہی صرف گیم ہے اور ہمارے کھیل کو شاید گیم ہی نہیں سمجھا جاتا۔ 2012 میں عالمی چیمپئن بنا، اب تک چھے عالمی اور ایشین ٹائٹلز اپنے نام کر کے دُنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم لہرا چکا ہوں، ان کامیابیوں کے بعد قوم سے مجھے جتنی محبت اور پذیرائی ملی، وہ میری زندگی کا اثاثہ ہے۔
Read more