ہمیں تم سے پیار ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواد احمد کا شمار ملک کے معروف گلوکاروں میں ہوتا ہے، منفرد آواز اور خوبصورت موسیقی کا بہترین امتزاج سننے والوں کو بہت بھلا لگتا ہے۔ جواد احمد کا ایک نغمہ تم جیتو یا ہارو سنو ہمیں تم سے پیار ہے بہت دلفریب ہے، ویسے تو یہ نغمہ کھلاڑیوں کے لئے، ان کی حوصلہ افزائی کے لئے گایا گیا ہے لیکن اگر اس کو والدین اور اولاد کے تعلق کے زاویے سے دیکھا جائے تو اس میں تمام والدین کے لیے ایک بہت خوبصورت سبق ہے۔

اولاد چاہے عمر کے کسی بھی حصے میں ہو ان کے لیے اس بات کی بہت اہمیت ہوتی ہے کہ ان کے والدین ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، وہ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، اور ان کی کامیابی پر کتنے خوش یا ان کی ناکامی پر کتنے غیر مطمئن ہیں۔ بڑی عمر کے افراد چونکہ اپنے احساسات اور جذبات کو قابو کرنا جانتے ہیں اس لیے ان کی اس سوچ کا برملا اظہار نہیں ہوتا مگر آپ نے دیکھا ہوگا کہ بچے جب بھی کوئی اچھا کام کرتے ہیں یا کوئی چھوٹی سے چھوٹی کامیابی بھی حاصل کرتے ہیں تو وہ فوراً اپنے والدین سے اس کی داد وصول کرنا چاہتے ہیں۔

کبھی وہ بہت جوش و خروش سے اپنےکیے گئے کسی بھی کام کو بہت بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں یا پھر کوئی بھی ایسی بات جس سے ان کی قابلیت ظاہر ہوتی ہو اپنے والدین کو بار بار بتاتے ہیں تاکہ ان کے والدین ان سے خوش ہوں اور ان پر فخر کریں۔ چھوٹی عمر کا بچہ تو اگر ایک چھلانگ بھی لگائے یا کاغذ پر رنگین پینسلوں سے آڑی ترچھی لکیریں ہی لگائے تو اپنے والدین کو اپنی کامیابی فخریہ بتاتا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ بچہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ کیا اس لئے کہ وہ اپنی تعریف سننا چاہتا ہے؟ نہیں۔ بلکہ اس لئے کہ بچے کی نظر میں ماں باپ سے زیادہ اہم اور معتبر کچھ بھی نہیں ہے، جب بچہ اپنی کامیابی اپنے والدین کے ساتھ شیئر کرتا ہے تو اسے اپنے اوپر اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی قابل ہے اور جب والدین بچے کی تعریف کرتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو بچے میں اطمینان اور خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔

اسی طرح سے جب اولاد کچھ غلط کر بیٹھے تو خوف کا شکار ہوتی ہے، یہ ڈر مار یا ڈانٹ کا نہیں ہوتا بلکہ اس بات کا ہوتا ہے کہ ماں باپ اس کے بارے میں کیا سوچیں گے، کیونکہ بچہ ہمیشہ ماں باپ کے لئے فخر کا باعث بننا چاہتا ہے وہ یہ بات برداشت نہیں کرسکتا کہ اس کے والدین اس کے حوالے سے شرمندہ یا پریشان ہو ں۔ ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خود سے قریب کریں، جتنا ہوسکے ان کے ساتھ وقت گزاریں، اور بالکل ایک دوست کی طرح ان کے ساتھ اپنا تعلق گہرا کریں۔ مثبت انداز میں بچے کی تعریف کرنے سے اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اپنے اندر مزید بہتری لانے کی کوشش کرتا ہے۔

بچے کی غلطیوں کو یکسر نظر انداز کر دینا، یا پھر معمولی سی غلطی پر بھی مار پیٹ کرنا نہایت غلط رویہ ہے۔ بچے کی غلطی پر اس کی اصلاح کرنی چاہئیے اور نرمی سے سمجھانا چاہیے۔ والدین ہونے کے ناطے یہ بات اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بچے سے غلطی ہو سکتی ہے اور بار بار ہو سکتی ہے۔ اپنے بچے کو اتنا اعتماد ضرور دلائیے کہ وہ آپ کے سامنے اپنی غلطی قبول کرنے کا حوصلہ رکھے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اس بات کا بھی مکمل اطمینان ہو کہ آپ اس کا مضبوط سہارا ہیں اور کسی بھی حال میں آپ اسے تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ یاد رکھئے اولاد کے خوش و خرم اور کامیاب و کامران ہونے میں والدین کی شفقت اور محبت کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ اس ساری بات کو اگر صرف دو جملوں میں لکھ دیا جائے تو وہ بس یہی ہے کہ،
تم جیتو یا ہارو سنو،
ہمیں تم سے پیار ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •