شرجیل میمن کا حساب اور چیف جسٹس کو چکر


یہ لطیفہ تو غالباً سنا ہوگا سب نے کہ ایک بادشاہ کا ہرن کھو جاتا ہے اور تقریباً ہر ملک کی پولیس تلاش کرنے میں ناکام رہی تھی لیکن پاکستانی پولیس صبح جنگل میں داخل ہوتی ہے اور شام میں کامیاب واپس آتی ہے ان کے آگے ایک شیر یہ جملہ بار بار دہراتا آرہا ہوتا ہے ”ہاں ہاں میں ہرن ہوں۔ ہاں بھائی میں ہرن ہوں۔ ہاں ہاں بھائی قسم لے لو میں ہرن ہوں۔ “

اس کے مقابلے میں دوسرا لطیفہ زیادہ جاندار معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک سچا واقعہ ہے۔ کچے کے علاقے کا ایک ڈاکو پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔ پولیس کے پاس پکی اطلاعات تھیں کہ اسی نے فلاں چوہدری کی بھینس چُرائی ہے۔ اُس ڈاکو کی دو دن خوب خاطر تواضع کی دوسرے دن شام میں اُس نے کہا اچھا بتاتا ہوں۔

ایس ایچ او نے حوالدار کو اشارہ کیا تواضع میں کچھ وقفہ ڈالا گیا۔ ڈاکو نے پانی مانگا۔ پانی پیش کیا گیا۔ پانی پی کر موصوف نے گلاس زمین پر دے مارا اور گلاس کرچی کرچی ہو گیا۔ گلاس توڑنے کے بعد وہ ڈاکو ایس ایچ او سے مخاطب ہوا ” وہ بھینس تو بڑی دور کی بات ہے تم یہ گلاس مجھ سے منوا لو کہ میں نے توڑا ہے تو میں اپنے باپ کا نہیں۔ “ وہ پولیس والے ایک دوسرے کا منہ ہی تکتے رہ گئے۔

کچھ ایسی ہی صورت حال اب سے چند روز قبل چیف جسٹس صاحب کی تھی جو اپنے ہاتھ سے پکڑی ہوئی شراب کی بوتلیں ثابت نہیں کر سکے۔ ایک میں زیتون کا تیل تھا اور دوسری میں شہد۔ پھر اس کمال بات یہ تھی کہ ان کا جس لیبارٹری سے ٹیسٹ کروایا گیا وہاں متعلقہ ساز و سامان ہی موجود نہ تھا اور پتھالوجسٹ پوچھنے پر بتاتا ہے کہ اُس نے چکھ کر یہ اندازہ لگایا اور رپورٹ بنا دی کہ ان بوتلوں میں شراب نہیں ہے۔

لیکن سائیں لوگ اس قدر گھبرا گئے کہ سارے کارڈ ایک ساتھ ہی کھیل گئے۔ ایک طرف تو شراب ثابت نہ ہوئی دوسری طرف کیس ملازمین پر ڈال دیا گیا اب جان نچھاور کرنے والا نوکر طبقہ تو اپنے مالکوں کےکیے ہوئے قتل اپنے سر لے لیتے ہیں یہ تو پھر دو بوتلیں تھیں۔ علاوہ ازیں شرجیل میمن صاحب نے خود کو ٹیسٹ کے لئے بھی پیش کردیا اور بلڈ ٹیسٹ شراب جیسی گھٹیا چیز سے پاک ثابت ہوا۔

یہ تو پھر میرے ایک وکیل دوست نے بتایا کہ جتنی بھی شراب پی ہو ایک امرود کھالیں یا ایک پورا لیموں اُس کے بعد جہاں بھی ٹیسٹ کروا لیں نہیں نکلے گا۔ اس بات پر مجھے علی امین گنڈا پوری کا شہد بھی یاد آگیا جس کے بعد وہ بازو ننگا کر کرکے کہتا رہا میرا ٹیسٹ کروا لو میں تیار ہوں لیکن اس صورت میں اگر پیشاب ٹیسٹ کروایا جائے تو ہر چیز سامنے آجائے بہرحال یہ ڈرامہ یہاں تک چلا دوسری طرف چیف صاحب نے انور مجید کے بیٹے کا پوچھ لیا کیونکہ چیف جسٹس صاحب ہسپتال کا دورہ نہیں کرنے آئے تھے درحقیقت سب جیل پر چھاپہ مارنے آئے تھے۔

اور یہ دو حضرات میڈیکلی غیر موزوں ہونے کی بنیاد پر یہاں ڈیرے جمائے ہوئےتھے۔ شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی دو بوتلوں کا ڈرامہ چلا تو دوسری جانب انور مجید کے بیٹے کہانی بھی خوب جچی۔ چونکہ وہ صاحب سرے سے موجود ہی نہیں تھے یا واللہ اعلم میڈیکل آفیسر اس کے بارے میں سوال پر آئیں بائیں شائیں کرنے لگی۔ آخر کار وہ چیف صاحب کو ایک کمرے میں لے گئی جہاں ایک شخص کا ایم آر آئی ہو رہا تھا اُس کا سر مشین میں اور دھڑ باہر تھا اس کے بارے بتایا گیا کہ یہ انور مجید کے صاحبزادے جس پر چیف صاحب خفیف سی مسکراہٹ دے کر باہر نکل آئے۔

شاید ان کا مقصد سرزنش یا مزید سزا دینا نہ ہو فقط احساس دلانا ہو لیکن ان واقعات سے اندازہ لگائیں کہ ایک طرف اس ملک کے ایک سپریم ادارے کا سربراہ ہے اور دوسری طرف کوئی عام لوگ نہیں ہیں ایک نام نہاد سیاستدان عوام کا خدمتگار تو دوسرا اس ملک کی ایک بڑی کاروباری شخصیت۔ لیکن یہ کر کیا رہے ہیں یہ کوئی تھیٹر ہے کوئی اسٹیج ہے کوئی مذاق چل رہا ہے؟ ایک لمحے کو سوچیں دنیا میں ہماری کیا مثال جا رہی ہے ہماری قوم کا تاثر کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمارے وزیراعظم کو بھی کپڑے تک اتارنے پڑ جاتے ہیں ایک امیگریشن کے لئے۔

ان سب باتوں کو بھی چھوڑ دیں کیا یہ لوگ آخرت کو بھول چکے ہیں کچھ تو ضمیر کی مدھم سی آواز کانوں میں پڑتی ہوگی چاہے مردہ سہی ضمیر موجود تو ہوگا۔ اس پیرائے میں میں شہباز شریف کی ہمت کا معترف ہوگیا ہوں واقعی بڑے جگرے والا انسان ہے ورنہ ہم جیسے اگر یہ جملہ کسی سے کہیں تو ہمیں اپنے کرتوت یاد آجاتے ہیں کہ یہ کیسے کہیں کسی کو کہ ” اللہ کو تو سب نے حساب دینا ہے ناں“

Facebook Comments HS