نئے پاکستان کے وزیرِ اعظم کا بچت پلان اور دورہ کراچی
نیا پاکستان بننے کے بعد جب وزیرِ اعظم نے اپنی رہائش گاہ میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ اسی وزیرِ اعظم ہاؤس میں پُرانے پاکستان کے وزیرِاعظم بھی رہتے رہے ہیں اور اس گھر کا خرچہ بہت زیادہ ہے۔ اس گھر میں بہت زیادہ کمرے ہونے کی وجہ سے بجلی کا بل بھی بہت زیادہ آتا ہے۔ یہ سن کر وزیر اعظم نے پی ایم کے ملٹری سیکریٹری کا گھر اپنے لئے پسند کر لیا کیونکہ یہ گھر پرائم منسٹر ہاؤس کا حصہ نہیں تھا تاہم پرائم منسٹر ہاؤس اس گھر کا حصہ تھا۔
یہاں رہنے میں بچت کے علاوہ یہ فائدہ بھی تھا کہ پرانے پاکستان کا کوئی جاہل ان پر الزام نہیں لگا سکے گا کہ اتنے بڑے محل میں رہ کر قومی دولت ضائع کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کو جب پرائم منسٹر ہاؤس میں گھومنے پھرنے کا موقع ملا تو انہوں نے دیکھا کہ یہاں اسی اور نوے کی دہائی کی کئی پرانی گاڑیاں بھی موجود تھیں چوں کہ وہ ہر پرانی چیز کو نا پسند کرتے ہیں اور نئی چیزوں کو پسند کرتے ہیں لہٰذا انہوں نے ان گاڑیوں کی نیلامی کا حکم دے دیا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ نیلامی بہت شفاف ہونی چاہیے تا کہ غلطی سے کوئی نئی گاڑی نیلام نہ ہو جائے۔
اس طرف سے اطمینان ہُوا تو انہوں پرائم منسٹر ہاؤس کا تفصیلی دورہ کیا۔ ایک حصے میں انہیں آٹھ عدد بھینسیں نظر آئیں جو دنیا و مافیہا سے بے خبر جگالی کرنے میں مصروٖف تھیں۔ جس پر وہ بہت برہم ہوئے اور غصے سے کہا کہ یہ بھینسیں یہاں کیا کر رہی ہیں؟ ”شاید دنیا کی بے ثباتی پر غور کر رہی ہیں“ ان بھینسوں کی خدمت پر معمور چار ملازموں میں سے ایک نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
انہیں مزید یہ بتایا گیا کہ یہ نیلی بار کی بہترین بھینسیں ہیں اور ہر بھینس دس بارہ کلو دودھ روزانہ دیتی ہے۔ ان کا دودھ سابقہ وزیراعظم پیتے رہے ہیں۔ یہ سن وزیر اعظم سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ ایک طرف بے چارے عوام گٹر کے گندے پانی اور کیمیکل ملا دودھ پینے پر مجبور ہیں اور یہاں یہ عیاشی ہوتی رہی۔ انہوں نے حکم دیا کہ فی الفور یہ بھینسیں بھی نیلام کر دی جائیں اور ان سے حاصل ہونے والی رقم ڈیم فنڈ میں جمع کرا دی جائے۔
وزیر خارجہ خصوصی طیارے میں کابل کے دورے پر روانہ ہوئے تو وزیرعظم نی سوچا کہ وہ بھی کراچی کا دورہ کر لیں۔ ان کے لئے چارٹرڈ طیارے کا بندوبست کیا گیا مگر انہوں نے اس کے ذریعے جانے سے صاف انکار کر دیا انہوں نے اپنی بچت پالیسی یاد کراتے ہوئے دورہ ارینج کرنے والوں کو ڈانٹا اور کہا کہ شیخ رشید کی چلائی ہوئی کسی ٹرین کی اکانومی کلاس میں بیٹھ کر چلا جاؤں گا لیکن وہ بھی ضد کے پکے تھے انہوں نے وزیرِ اعظم سے کہا کہ ٹرین اسلام آباد سے کراچی دو سے تین دن میں پہنچے گی جبکہ چارٹرڈ طیارہ آپ کو دو تین گھنٹے میں پہنچا دے گا اس طرح آپ وقت کی بچت کر سکیں گے۔ بچت کا سن کر انہوں نے ہاں کر دی۔ یعنی طیارے سے جانے کے لئے ہاں کر دی۔
ان کا خیال تھا کہ کراچی ائیر پورٹ پر ان کے لئے اوبر ٹیکسی کا اہتمام کیا گیا ہو گا لیکن ائیر پورٹ پر اترتے ہی ان کی امیدوں پرپانی پڑ گیا۔ کیونکہ وہاں ابھی پرانا پاکستان تھا اوران کے استقبال کے لئے آنے والے وزیرِاعلیٰ مراد علی شاہ بچت کے اصولوں سے قطعی بے بہرہ تھے۔ انہوں نے وزیرِاعظم کےلئے ہیلی کاپٹر کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ وزیر اعظم نے مراد علی شاہ سے تو کچھ نہ کہا ان کے ساتھ آنے والے گورنر عمران اسماعیل کے کان میں کہا کہ اپنی سائیکل مستعار دو تاکہ میں یہاں سے تو نکلوں۔
گورنر شرمندہ سے ہو کر بولے۔ ”معاف کیجئے گا یہاں پرانے پاکستان میں، میں بھی پروٹو کول والی گاڑی میں بیٹھ کر آیا ہوں“ مراد علی شاہ نے غالباً ان کی کھسر پھسر سن لی تھی اسی لئے انہوں نے اپنا موبائل نکال کر وزیرِاعظم کو فواد چودھری کا مشہور بیان سنوایا کہ ہیلی کاپٹر کا سفر پچپن روپے فی کلو میٹر پڑتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پرانے پاکستان میں بھی ہیلی کاپٹر سستا پڑتا ہے اور عوام بھی تنگ نہیں ہوتے۔
تب وزیر اعظم کی جان میں جان آئی اور وہ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر مزار قائد پہنچے اور فاتحہ خوانی کے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہی لیاقت علی خان اور محترمہ فاطمہ جناح کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لئے چلے گئے۔ ان کے آنے اور جانے کا لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اور نادرا کے برطرف ملازمین کو علم نہ ہو سکا اور وہ مزار قائد کے باہر نعرے ہی لگاتے رہ گئے در اصل وہ نادان ابھی تک پرانے پاکستان میں ہی رہ رہے تھے ان کا خیال تھا کہ جب پروٹو کول والی گاڑیاں نظرآئیں گی تو وزیراعظم کو روک کر اپنے مطالبات پیش کریں گے لیکن وزیراعظم نے ان تک یہ خاموش پیغام پہنچا دیا کہ وہ اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سو جائیں لیکن سونے سے پہلے ان آنسووں کو جمع کر کے ڈیم میں ڈال دیں تاکہ ان کے قیمتی آنسو ضائع نہ ہوں۔


