افسانہ: محبت سانس لینے دو
”کبھی کبھی میرا اس محبت سے دم گھٹنے لگتا ہے“ سائیکاٹرسٹ کا آخری جملہ میرے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا کیونکہ میں اس محبت میں شدت اختیار کرتا جا رہا تھا مجھے احساس ہی نہ رہا کہ انسان خود سے بھی تو محبت کرتا ہے میں جس محبت کو دوسرے لیے آکسیجن سمجھ رہا ہوں وہ اس کے لیے کاربن مونو آکسائیڈ بھی تو ہو سکتی ہے اور اب جو باتیں سامنے آ رہی تھیں ان سے یہ سب
Read more

