ایم اے قوی صاحب کے کاندھوں پر ڈرنے کے لیے کوئی بوجھ نہیں تھا


میں نے انہیں بتایا کہ میری ہمدردیاں بھی پرویز مشرف کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اوراگرمیں چاہوں تو کچھ دور جا کر ان کا انتظار کرسکتا ہوں یا وہ کچھ قدم ہٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مجھے ان سے اتفاق کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

میں نے کہا کہ میں ان کے ساتھ ہی کھڑا رہوں گا کیونکہ کسی حد تک تو جمہوریت کی بحالی میں بھی چاہتا ہوں۔ ہم دونوں کا مکالمہ پاکستان کی تاریخ کے بارے میں ہورہا تھا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے چند واقعات کے بارے میں بتایا جن کا مشاہدہ انہوں نے ہجرت کے بعد کراچی میں کیا تھا۔ وہ بیچ میں یہ بھی بولے کہ اس بات کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے کہ پاکستانی جوانگلستان میں رہتے ہیں ان میں سے بہت سارے انتہائی مشکل زندگی گزاررہے ہیں، وہ لوگ برطانوی شہریت کے باوجود پاکستان سے شدید محبت کرتے ہیں اور پاکستان کے بارے میں پریشان بھی رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہر جمعہ کو جمعہ کی نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ وہ اپنے سچے خیالات کی حمایت میں ہائی کمیشن کے سامنے کھڑے ہوکر مظاہرہ کریں۔ اس عمل سے ان کا ضمیر زیادہ مطمئن ہوتا ہے۔

وہ جمعہ مظاہرے کے اس عمل کو ہر جمعہ کو دہراتے رہے اور اس کا خاتمہ اس دن ہوا جس دن مشرف کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور پاکستان میں جمہوریت بحال کردی گئی۔ قوی صاحب کی شخصیت ایسی ہی تھی، ایسا ہی ان کا دماغ تھا اور اس قسم کے ضمیر کا بوجھ تھا ان کی شخصیت پر۔ وہ کسی کی پرواہکیے بغیر جو مناسب تھا وہ کرتے تھے، انہیں کسی قسم کے صلہ کی پروا تھی نہ ہی شہرت کی۔ سب سے اچھی بات یہ تھی کہ ان میں زبردست قسم کی رواداری تھی۔ وہ کسی کے دشمن نہیں تھے اور اختلافات کے باوجود انسانی رابطوں اور رشتوں کا احترام کرتے تھے۔

دو بجے کے قریب وہ مجھے ایک بنگالی ریسٹورنٹ میں لے گئے۔ مجھے اس ریسٹورنٹ کا نام یاد نہیں ہے لیکن یہ یاد ہے کہ اس ریسٹورنٹ کا عملہ انہیں جانتا تھا اورانہوں نے بتایا کہ یہ جگہ ان کی پسندیدہ جگہ ہے۔ وہاں انہوں نے بہت ہی زیادہ مزیدار کھانا کھلایا جسے وہاں کے عملے نے بڑی عزت سے ہمارے لیے پیش کیا۔ ریسٹورنٹ میں بنگالی ویٹروں سے قوی صاحب کا سلوک بہت دوستانہ تھا۔ وہ ان سے ان کے بچوں کی تعلیم وغیرہ کے بارے میں پوچھتے رہے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ برصغیر سے تعلق رکھنے والے لوگ اس ملک میں بھی اپنے بچوں کی تعلیم سے محروم رکھتے ہیں یہ بدقسمتی نہیں تو کیا ہے۔ قوی صاحب نے کے کھانے کے دوران پاکستان اور مشرقی وسطیٰ میں اپنی گزاری ہوئی زندگی کے بارے میں بتایا۔ وہ پاکستان میں آنے کے بعد سے مسلسل جدوجہد کررہے تھے اور اپنی جدوجہد سے مطمئن بھی تھے۔

سالوں پہلے وہ سیلز مین کی حیثیت سے اندرون سندھ جاتے تھے اور کنڈیارو شہر میں ہی ٹھہرتے تھے۔ مجھے حیرت ہوئی جب انہوں نے بتایا کہ سکھر کے قریب کنڈیارو شہر میں وہ رہ چکے ہیں۔ کنڈیارو کا ذکر اس وقت آیا جب میں نے بتایا کہ میں ہر سال کنڈیارو میں ایک گائنی کا سرجیکل کیمپ کرتا ہوں۔ انہوں نے مجھے یہ بتا کر حیران کردیا کہ کنڈیارو میں ایک بہت قدیم لائبریری بھی ہے جس کے بارے میں مجھے کچھ پتہ نہیں تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ اپنے اگلے کیمپ میں میں ضرور اس لائبریری کو دیکھنے جاؤں گا۔ بعد میں میں نے وہ لائبریری دیکھی، جس سے متاثر بھی ہوا اور اس کی حالتِ زار پر متفکر بھی ہوا۔ پاکستان میں عام طورپر لائبریریوں کا برا حال ہے۔ پڑھنے لکھنے سے لوگوں کی دلچسپی بہت کم ہے اورحکومتوں کو اس کی فکر بھی نہیں ہے۔ یہی غنیمت تھا کہ ابھی تک وہ لائبریری برقرار تھی شاید کبھی ان نادر کتابوں کو محفوظ کیا جاسکے

ان سے یہ پہلی ملاقات ایک زبردست علمی تجربہ تھا ہم لوگ شاید چار گھنٹوں تک بیٹھے باتیں کرتے رہے تھے۔ وہ ایک پڑھے لکھے روشن خیال انسان ثابت ہوئے تھے جن کا خیال تھا کہ انسان کو اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے کبھی بھی جھوٹ کا ساتھ نہیں دینا چاہیے اورہمیشہ لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ ان کے انتقال کے بعد اب مجھے اندازہ ہوا کہ ان کی زندگی میں کوئی بھی تضاد نہیں تھا۔ جیسے وہ سوچتے تھے ویسا ہی کرتے تھے۔ جیسے وہ اندر تھے ویسے ہی باہر سے بھی تھے۔ کسی کی بھی کسی بھی قسم کی مدد کرنے کو تیار رہتے تھے۔ ان کا خاص شوق تعلیم تھا، بچوں کی تعلیم پاکستان سے لے کر فلسطین تک کراچی کی لڑکیاں ہوں یا اندرون سندھ کی طالبات ملتان کے بچے ہوں کہ فلسطین کے بچے، جہاں ان کوموقع ملا انہوں نے تعلیم کے لیے ان کی مدد کی۔ وہ خاموشی سے اپنے اصولوں پرقائم رہے۔ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی اپنی تشہیر کی۔

بہت دنوں کے بعد ایک دن ان کا فون آیا کہ کیا میں ملتان یا اس کے آس پاس تو نہیں جانے والا ہوں۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ ان کا فون اس وقت آیا ہے جب کہ اگلے ہفتے میں ملتان ہی جارہا ہوں۔

انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں ملتان کے نشتر میڈیکل کالج کے دو طالب علموں سے ضرور ملاقات کروں جو وہاں چوتھے اور دوسرے سال کے طالب علم ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ان سے ا ن کے تعلیمی حالات کا پتہ کروں۔ وہ گاؤں کے رہنے والے انتہائی غریب مگر ذہین طالب علم تھے۔ ان کو تشویش تھی کہ شاید ان دیہاتی لڑکوں کو کالج میں کچھ مسائل کا سامنا ہے اگر ہے تو ان کی مدد کرنی چاہیے۔

ان دونوں سے ملنے کے بعد میں نے قوی صاحب کو آگاہ کیا کہ وہ دونوں بہت اچھے طالب علم ہیں، ذہین ہیں اور ان میں آج کل کے میڈیکل کے طلبا کے مقابلے میں کافی انسانیت بھی ہے۔ میرا خیال تھا کہ وہ بہت اچھے ڈاکٹر ثابت ہوں گے۔ انہوں نے مجھے نہیں بتایا کہ وہ ان دونوں طالب علموں اوران جیسے کچھ اورطالب علموں کی فیس سے لے کر کتابوں اور رہنے سہنے اورکپڑوں تک کے انتظام کررہے تھے۔ مجھے بھی صرف اس لیے پتہ لگ گیا کہ میرے ذریعے سے انہوں نے ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ انہیں اس بات کی فکر تھی کہ مالی بدحالی کی وجہ سے یہ دونوں بچے کسی احساس کمتری کا شکار تو نہیں ہوگئے ہیں، اسی لیے وہ چاہتے تھے کہ میں ان سے مل لوں اور اگر کوئی مسئلہ ہے تو ان کی مدد کروں۔

جب قوی صاحب کوپتہ چلا کہ کوہی گوٹھ وومن ہسپتال میں مڈوائفری اسکول کے ساتھ ہسپتالوں میں کام کرنے والی مڈوائفوں کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیا گیا ہے تو انہوں نے ہم لوگوں کی مدد کرنے کا پروگرام بنالیا اور سلامی صاحب کے ذریعے مجھ سے پوچھا کہ وہ ہمارے کیسے کام آسکتے ہیں۔

میں نے اسکول کے پرنسپل اسٹفن ریاض سے مشورہ کرنے کے بعد انہیں لائبریری کی ضرورت سے آگاہ کیا۔ جو پاکستان نرسنگ کونسل کی معیار کے مطابق ہونی چاہئیں۔ قوی صاحب نے ایک خطیر رقم خرچ کرکے ہر وہ کتاب مہیا کردی جو پرنسپل اسٹفن صاحب کے لسٹ میں تھی۔ اس قسم کی امداد زندگیوں کو بدل کر رکھ دیتی ہے، ذہنوں کی جِلا اور دماغوں کو روشن کرکے خوابوں کو جگاتی ہے، مستقبل کو درخشاں کردیتی ہے۔ نہ جانے کتنی نرسوں اورمڈوائفوں نے ان کتابوں سے استفادہ کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔

قوی صاحب ساری زندگی اسی قسم کی سرگرمیوں میں ملوث رہے، اپنی زندگی بھر کی بچت و اثاثہ اور حکومت برطانیہ سے ملنے والی پنشن اس قسم کے بظاہر چھوٹے کاموں پرخرچ کرتے رہے لیکن دیکھا جائے تو یہی چھوٹے کام ہی تو بڑے کام ہیں۔ بچوں کی تعلیم سے بڑا کام کیا ہوسکتا ہے۔

ایک انسانیت پرست اورامن کے خوگر کی حیثیت سے وہ مستقلاً فلسطین کے مختلف شہروں اورقصبوں میں جاتے رہے، انہوں نے فلسطینی بچوں کی تعلیم پھیلانے کا بیڑا اٹھایا ہوا تھا، وہ فلسطینیوں کی آزادی کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ وہ ظلم کے خلاف لڑنے والے کمزور سے بہادر انسان تھے، وہ برطانیہ اور یورپ کے مختلف شہروں میں فلسطینیوں کی حمایت میں ہونے والے جلسوں میں تقریریں کرتے رہے، مظاہروں میں آگے آگے رہے، اخبارات میں مضامین لکھتے رہے اور فلسطین کے مسئلے پر دوکتابیں بھی لکھیں تاکہ یورپ کے لوگ یہودیوں اور صیہونیوں میں فرق کرسکیں۔ وہ ساری زندگی سوشل میڈیا پر بے خوف لڑتے رہے۔ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے اور اپنے جیسے عام آدمیوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہونے سے کبھی نہیں چوکے۔

اپنی اس ای میل میں انہوں نے لکھا کہ وہ فلسطین سے لندن برطانیہ کے اہم الیکشن میں ووٹ دینے جارہے ہیں۔ (قوی صاحب برطانیہ کی لیبر پارٹی کے باضابطہ ممبر تھے) وہ شدید بیمار تھے مگر ان کی نظر میں یہ ایک اہم کام تھا۔ وہ اپنے کینسر کے ڈاکٹر سے ملیں اورووٹ بھی ڈالیں۔ کینسر کے ڈاکٹر نے انہیں بری خبر سنائی تھی۔ مگر وہ رکے نہیں انہیں علاج کی محدودیت کا اندازہ تھا وہ اپنے پلان کے مطابق پانچ دن لندن میں گزار کر واپس فلسطین چلے گئے جہاں وہ فلسطینی بچوں کے لیے ایک بہت اہم منصوبے پر کام کررہے تھے۔ میں اب ان کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرا دل بھر آتا ہے۔ پھیپھڑوں کا سرطان ایک تکلیف دہ بیماری ہے، سانس کی تکلیف پھر دوسرے پھیپھڑے میں انفیکشن ساتھ میں شدید بخار۔ بڑی ہمت چاہیے اس حالت میں گھنٹوں سفر کرنے کے لیے۔ کتنے عظیم انسان تھے وہ کتنا بڑا دل تھا ان کا کتنا خوش قسمت تھا میں کہ ان سے ملا۔ انہیں جانا ایک ایسے بے لوث انسان کو جس کے لیے سرحدیں، قومیتیں، رنگ اور نسل کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3