ایم اے قوی صاحب کے کاندھوں پر ڈرنے کے لیے کوئی بوجھ نہیں تھا
قوی صاحب کی میل پڑھنے کے بعد میں نے سلامی کو فون کیا تو انہوں نے بتایا خاندان میں کسی کوبھی ان کی بیماری کی خبر نہیں تھی۔ انہوں نے اسے خفیہ رکھا ہوا تھا۔ سلامی نے بتایا کہ گزشتہ تین مہینوں میں وہ اورقوی صاحب بہت زیادہ ایک دوسرے سے رابطے میں تھے کیونکہ قوی صاحب اپنے والدین کے بارے میں کتاب لکھ رہے تھے، ان کی کوشش تھی کہ یہ کام جلداز جلد ہوجائے۔ سلامی کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ یکایک وہ ہر کام میں جلدی کیوں کررہے ہیں لیکن اس میل کے بعد صورتحال واضح ہوگئی تھی، وہ چاہتے تھے کہ کتاب ان کے جانے سے قبل تیار ہوجائے۔ سلامی نے بڑی اداسی سے بتایا تھا کہ کتاب اب چھپنے کے لیے بالکل تیار ہے۔
میں نے سلامی کو ان سے اپنی ملاقات کی تفصیل بتائی اور ان میلز کے بارے میں بتایا جو وہ مجھے بھیجتے رہے تھے۔ میں نے کہا تھا کہ میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے ایک بھرپور زندگی گزاری، ایک ایسی زندگی جو وہ خود گزارنا چاہتے تھے، ایک صاف ستھری یقین اورایمانداری کے ساتھ۔ ان کا بہت بڑا دل تھا۔
سلامی نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا تھا، میں صرف ان کے لیے دعا ہی کرسکتا ہوں کہ ان کا خاتمہ بغیر کسی تکلیف کے آسانی سے ہوجائے۔ کسی کو نہیں پتہ ہے کہ وہ کہاں ہیں ان کے پاس خاندان کا کوئی بھی فرد نہیں ہے۔ میں بس امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے دوستوں کے درمیان ہوں، اللہ ان کی مشکل آسان کرے۔ سلامی نے بتایا کہ آج وہ اور خاندان کے تمام لوگ جہاں بھی ہیں جیسے بھی ہیں ان کی وجہ ے ہیں، وہ ہمیشہ ہم سب کو دیتے رہے کسی سے کچھ بھی لیے بغیر۔ فون کے دوسرے سرے پر سلامی کی دلی کیفیت کا میں بہت اچھا اندازہ کرسکتا تھا۔ میری بھی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔ میں نے بڑی مشکل سے سلامی سے کہا تھا کہ وہ اپنا خیال رکھیں اورمیں کہہ بھی کیا سکتا تھا، اس کے بعد فون منقطع ہوگیا۔
چند ہفتے بے چینی سے گزرگئے تھے۔ 27 اگست 2017ء کو ڈاکٹر مزیں قمشی ایک فلسطینی عیسائی جو فلسطین میں نیچرل ہسٹری ہنری میوزیم کے سربراہ اور سیاسی و سماجی طور پر فعال فلسطینی ہیں ان کی بیوی جے سیکا فلسطینی عورتوں کے حقوق کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ قوی صاحب کام کررہے تھے۔ ان کی میل سلامی نے وصول کی تھی جس میں مزین قمشی نے لکھا تھا ایم اے قوی (مظلوم فلسطینیوں اور مجبور عوام کے دوست) کا انتقال آج 27 اگست 2017ء کو وومن یونین البیت گیسٹ ہاؤس میں ہوگیا، موت کے وقت وہ پرسکون اوراپنے دوستوں کے درمیان تھے۔ انہیں ان کی وصیت کے مطابق بیت اللحم کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا ان کی نماز جنازہ مسجد عمر خطاب میں ادا کی جائے گی جب کہ ان کی یاد میں جلسہ فلسطین میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں منعقد کیا جائے گا۔
اگست 2018ء میں ان کو گئے ہوئے ایک پورا سال گزرگیا۔ عزیز دوست عرفان خان صاحب نے ان کے بھیجے ہوئے کئی میل مجھے بھیجے۔ جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ 17سالوں میں وہ برطانیہ فلسطین مسلسل آتے جاتے رہے۔ فلسطین میں طالب علموں، مزدوروں، باخبر شہریوں، فلسطین میں رہنے والے عیسائیوں اور اسرائیل میں باضمیر یہودیوں کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کے لیے۔ اسرائیل کے خلاف آواز بلندکرتے رہے۔ انہیں نہ نام کی خواہش تھی اورنہ ہی یہ تمنا کہ ان کی تعریف و توصیف کی جائے۔ تین دفعہ میں نے ڈاکٹر مزین قمشی سے فون پر بات کی۔ تینوں دفعہ ایسا لگا جیسے وہ ابھی تک اپنے نقصان کا مداوا نہیں کرسکے ہیں۔ ان کی بھرائی ہوئی آواز میں بہت دکھ تھے۔
اچھے، ایماندار اور عملی انسان ایسے ہی ہوتے ہیں دوسروں کے دلوں میں گھر کرلیتے ہیں اور ایک دن اطمینان وسکون کے ساتھ موت کو گلے لگالیتے ہیں کیونکہ ان کے کاندھوں پر ڈرنے کے لیے کوئی بوجھ نہیں ہوتا ہے۔
ایم اے قوی صاحب بھی ایک ایسے ہی انسان تھے۔

