پاکپتن کیس: آئی جی کی رپورٹ مسترد، وزیراعلیٰ پنجاب کی پیشی
سپریم کورٹ نے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ از خود نوٹس کیس میں آئی جی پنجاب کلیم امام کی انکوائری رپورٹ کو ردی کا ٹکڑا قرار دے کرمسترد کر دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور احسن گجر طلبی پر عدالت میں پیش ہوگئے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کی رپورٹ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس سربراہ کو اپنی اتھارٹی کی کوئی پرواہ نہیں، اعتماد کر کے کتنی اہم انکوائری سپرد کی تھی، رپورٹ میں سب اچھا کہا گیا، اگر آپ کی بدنیتی پر مبنی رپورٹ کا لکھ دیا تو پولیس فورس میں نہیں رہیں گے، پولیس کو آزاد کرنا چاہتے ہیں، احسن گجر کی جرات کیسے ہوئی کہ آئی جی سے تبادلے کا کہتا ؟ وزیراعلی نے کس حیثیت سے پولیس افسران کو طلب کیا ؟ اور اپنے سامنے انہیں ذلیل کروایا۔
کلیم امام نے کہا کہ انہوں نے ڈی پی او کا تبادلہ نہیں کیا، احسن گجر بچوں کا گارڈین ہے، اس لڑکی کے لئے دکھی تھا، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس کے لئے سب دکھی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا ان بچوں کا باپ فوت ہوگیا ہے ؟ احسن جمیل کے پاس کوئی گارڈین سرٹیفیکٹ دیکھا ؟ سیکرٹری اسٹیلشمنٹ کو بلاتے ہیں کیا آپ کہیں سے بھی آئی جی لگنے کے قابل ہیں، واقعہ کی انکوائری کسی اور کو دیتے ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، احسن گجر سمیت تمام فریق آج ہی عدالت پیش ہوں، مقدمے کی مزید سماعت دو بجے ہوگی۔ عدالت کی جانب سے طلبی پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور احسن جمیل گجر عدالت میں پیش ہو گئے۔ عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں احسن گجر کا کہنا تھا کہ ا نکی وجہ سے وزیراعلیٰ کلئے کوئی پریشانی نہیں بنی، وہ ایک سائل کی حیثیت سے وزیراعلیٰ کے پاس گئے تھے۔
یاد رہے ضلع پاکپتن کے ڈی پی او کو ہٹانے کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ میں انکوائری آفیسر آئی جی پو لیس پنجاب کلیم امام نے معاملے کے تمام کرداروں کو کلین چٹ دیتے ہوئے کسی پر بھی ذمہ داری عائد نہیں کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعلٰی نے پولیس افسروں کو ایک بڑے کے طور پر طلب کیا تا کہ قبائلی روایت کے تحت معاملہ حل ہو، اس دوران پولیس افسر ہراساں نہیں ہوئے اور نہ ہی کسی دبائو کا احساس ہوا۔
انکوائری رپورٹ میں تمام حالات و واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے ، 24 اگست کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے متعلقہ پولیس افسروں کو آئی جی پنجاب کے علم میں لائے بغیر رات 10 بجے طلب کیا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ آئندہ وزیراعلیٰ کسی بھی پولیس افسر کو براہ راست دفترنہ بلائیں اور آئی جی کی ہدایت کے بغیر افسر کو وزیراعلیٰ، وزرا، دیگر سرکاری دفاتر میں جانیکی اجازت نہ ہو۔
بشکریہ دنیا۔

