منظور پشتین کیوں نامنظور ہے؟


اگر آپ منظور پشتین سے نفرت کرتے ہیں تو یقیناً آپ کو یہ پتہ ہو گا کہ اس کی عمر چوبیس سال سے بھی کم ہے۔ اس نے دو برس پہلے ہی ویٹرنری سائنس میں ڈاکٹری کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ یہ وزیرستان کے دور افتادہ علاقے میں ایک سکول ماسٹر کے ہاں پیدا ہوا۔ وزیرستان میں پرویز مشرف کے فوجی آپریشن کے نتیجے میں گیارہ سال کا منظور اپنے آئی ڈی پی ماں باپ کے ہمراہ ڈیرہ اسمیعل خان آیا اور شہر کے باہرسرکاری جھونپڑی میں رہائش اختیار کی۔ اس کے بعد اس کا خاندان چار دفعہ وزیرستان گیا اور چاروں دفعہ مختلف فوجی آپریشنز کی وجہ سے واپس ڈیرہ اسمیعل خان آتا رہا۔ ارے واہ آپ تو بہت کچھ جانتے ہیں اس کے بارے میں۔ چلیں آپ کے جنرل نالج کا تھوڑا سا امتحان اور لیتے ہیں۔

بنوں زیادہ پرانا شہر نہیں ہے۔ جب فرنگی وزیرستان کو فتح کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے بنوں میں ڈیرے ڈال دیے۔ بہت کم پشتونوں کو پتہ ہے کہ بنوں کا پرانا نام ایڈورڈزآباد ہے۔ سرہربرٹ ایڈورڈز بنوں کے ڈی سی رہ چکے ہیں۔ وہ انگریز فوج کے افسر تھے۔ انہوں نے ہی اس شہر کی بنیاد رکھی۔ لیکن یہاں چونکہ بنوسی لوگوں کی زیادہ آبادی تھی تو بیسویں صدی میں اس کا نام بنوں رکھ دیا گیا۔ سر جیمز ایبٹ ان کے ہم عصر تھے جن کے نام پے ایبٹ آباد ہے۔ سر ایڈورڈ ہی ایڈورڈز کالج کے بانی ہیں۔ انہیں پٹھانوں سے بڑا پیار تھا۔

اتن سیکھی، روانی سے پشتو بولتے تھے اور زندگی کا بیشتر حصہ یہاں گزار دیا۔ بنوں کو چند اچھے سکو ل دیے، سڑکیں بنائیں۔ نہریں کھدوائیں اور لوگوں کو کاشتکاری سکھائی۔ وول کی ملیں لگ گئی اور پورے برصغیر میں بنوں کی کھدر کا چرچہ ہونے لگا۔ اس کیمغربی سرحد تقریباً پینتیس کلو میٹر تک شمالی وزیرستان سے کندھے سے کندھا ملا کر چلتی ہے۔ سر ایڈورڈز کے بعد سے یہ شہر ہمیشہ قبائلی مہاجرین کی ہر دل عزیر منزل مقصود رہا ہے۔ وجہ تعلیم، روزگار، صحت کی سہولیات اور اپنے آبائی علاقوں سے قربت ہے۔

منظور پشتین کا پلار (پشتو میں باپ کو کہتے ہیں) سکول ماسٹر تھا لیکن وہ اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا۔ بطور پاکستانی ہمیں معلوم ہے ایک بے گھرپرائمری سکول کا ماسٹر کتنا مالدار ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ ہر قیمت پے منظور کو پڑھانا چاہتا تھا۔ وزیرستان مسلسل حالت جنگ میں تھا۔ لیکن اس سکول ماسٹر کے دل میں اتنی روشنی تھی کہ اس نے قرضہ لے کر منظور کو بنوں پڑھنے بھیج دیا۔ قرضے چڑھتے رہے، منظور پڑھتا رہا اور بلآخر گومل یونیورسٹی جا پہنچا۔

جنگ رک چکی تھی لیکن منظور کے رشتہ دار اب بھی علاقے میں بچھی ہوئی بارودی سرنگوں کی زد میں آجاتے تھے۔ کئی جان دے بیٹھے اور بہت سے آپاہج ہو چکے تھے۔ بیس سال کی عمر میں جب لاہور کے لڑکے اچھرے والی نہر پے ون ویلنگ کرتے ہیں اور چودہ اگست پے موٹر بائک کا سلنسر نکال کر آزادی کا جشن مناتے ہیں، منظور پشتین اپنی یونیورسٹی میں ایک گمنام تحریک کی بنیاد رکھتا ہے جسے محسود تحفظ موومنٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد طالبان کی طرف سے علاقے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی طرف مقتدر حلقوں کی توجہ مبذول کروانا تھا۔

نقارخانے میں طوطی کی کون سنتا۔ لیکن یہ خاموش نہیں بیٹھا۔ اسے یقین تھا اوپر بیٹھا خدا نہ صرف اسے سن رہا ہے بلکہ دیکھ بھی رہا ہے۔ یہ بارودی سرنگوں اور ان میں آپاہج اور ہلاک ہو جانے والے بدقسمتوں کی تصویریں قومی اور بین القوامی اخبارات کو بھیجتا رہا۔ اکا دکا کے علاوہ کبھی کسی اخبار نے بھی دھیان دینا مناسب نہیں سمجھا۔ ایک دن منظور اپنے گاؤں سے ڈیرہ اسمعیل خان جا رہا تھا کہ راستے میں ایک غریب چرواہے سے ملاقات ہوئی جس کے سر پے سرخ رنگ کی میلی مزاری ٹوپی تھی۔ چرواہے نے اپنی مفلسی کا نقشہ کھینچا اور منظور کو بتایا، ”دیکھو لڑکے اس جنگ نے سب کچھ چھین لیا ہے، میں تو تمہارے جیسی ٹوپی بھی نہیں لے سکتا“ منظور نے چرواہے کو اپنی نئی محسود ٹوپی دے دی اور اس سے پرانی سرخ مزاری ٹوپی لے لی اور اسے امید دلائی کہ خوشحالی بھی آنے والی ہے۔

آج اس بات کو چار برس بیت گئے ہیں، منظور اپنی روایتی ٹوپی چھوڑ کے اس چرواہے کے ڈیزائن والی ٹوپی پہنتا ہے اور وزیرستا ن کی خوشحالی کی بات کرتا ہے۔

یہ قبائلی علاقوں کے مسئلے کو اس طرح سمجھتا اور سمجھاتا ہے کہ آپ دنگ رہ جائیں۔ آپ پانچ منٹ اسے سن لیں، آپ وزیرستان کے مسئلے کا حل خود ڈھونڈ لیں گے۔ یہ ہر بات کے لئے ٹھوس ثبوت استعمال کرتا ہے۔ وہ بھلے کرنل امام کے بیانات ہوں یا جنرل حمید گل کی باتیں ہوں یا پرویز مشرف کے بے باک انٹرویوز ہوں۔ یہ کوئی بھی بات محض تکے یا اندازے کی بنیاد پے نہیں کرتا۔ اور یہی بات ہمارے ایک مخصوص طبقے کو پسند نہیں۔ بونوں کے دیس میں ایک قدآور شخص کی آمد قدرت کی کوئی چال لگتی ہے۔

ذرا رکیئے، اگر لاہور کینٹ یا ملیر کینٹ میں داخل ہوتے ہوئے کوئی فوجی بھائی ہمیں تلاشی کے لئے روکے تو ہم کیا چاہیں گے؟ بس وہی منظور چاہتا ہے۔ اگر ہمارے گاؤں میں بارودی سرنگیں بچھی ہوں تو ہم کتنی دیر خاموش رہیں گے؟ ہمارے آدھے تھانے جھوٹی ایف آئی آرز سے بھرے ہوئے ہیں، منظور ایک سچی ایف آئی آر ہاتھ میں لے کر پھر رہا ہے۔ ہم آئے روز دیکھتے ہیں اگر کوئی اغوا ہوجائے، لاپتہ ہو جائے تو مساجد میں کتنے اعلانات ہوتے ہیں اور کتنی سڑکیں بند ہوتیں ہیں۔ منظور ساڑھے آٹھ ہزار لوگوں کی فہرست ہاتھ میں لئے ریاست کی چوکھٹ پر سوالی کھڑا ہے۔

اس نے کوئی سڑک بلاک نہیں کی۔ وہ صرف یہ کہہ رہا ہے کہ اگر ان ساڑھے آٹھ ہزار لوگوں میں سے اگر زیادہ لوگ یا تمام بھی دہشت گردوں کے ساتھ مل گئے ہیں تو انہیں جیل میں بند کیا جائے اور عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ ہم حکمرانوں کو سڑکوں، ہسپتالوں اور سکولوں کا طعنہ دیتے ہیں۔ منظور یہ سب کچھ نہیں مانگ رہا۔ وہ صرف اپنے گھر میں عزت مانگ رہا ہے۔ وہ روزگار نہیں مانگ رہا۔ وہ صاف پانی نہیں مانگ رہا۔ وہ کوئی بھی ایسی چیز نہیں مانگ رہا جس کی بولی لگتی ہو جو بازار سے ملتی ہو یا جس کے لئے آئی ایم ایف کے سامنے جھولی پھیلانی پڑے۔

کیسی ستم ظریفی ہے کہ ریاست عزت کے بھکاری کو دھتکار رہی ہے اور چھین کر اترانےوالوں سے نظریں ملانے سے بھی کترا رہی ہے۔ بغیر اجازت چار مہینے ملک کے دارالخلافے میں دھرنے دینے والے والوں اور حکومت وقت کے سینے پر مونگ دلنے والوں نے منظور پشتین پر نہ صرف صوابی میں بغیر اجازت کے جلسے کی ایف آئی آر کاٹی ہے بلکہ اسے اشتہاری بھی قرار دے دیا ہے۔ یہی نہیں صاحب، پھر ٹی وی پے محرم کی سیکورٹی کے پیش نظر چلائے جانے والے پنجاب حکومت کے اشتہار میں اسے دہشت گرد دکھایا گیا ہے۔

حیرت بالا ئے حیرت ہے کہ ریاست ایک نہتے نوجوان کی ٹوٹی پھوٹی اردو سے خوف زدہ ہے۔ آپ سارا انٹریٹ کھنگال لیں، جاسوسی کے گھوڑے دوڑا لیں آپ کو منظور کے کندھے پر بندوق نظر نہیں آئے گی۔ اس کی پیشانی پے سلوٹ تک نظر نہیں آئے گی۔ اس کے پاس صرف شعور ہے اور حق گویائی کا حوصلہ ہے۔ بہادر لوگوں سے ہماری اشرافیہ ہمیشہ ڈرتی آئی ہے۔ کسی فلسفی کی مشہور کہاوت ہے کہ جمہوریت امیروں کی ایجاد ہے تا کہ غریب انہیں قتل نہ کریں۔ محسود تحفظ موومنٹ کو پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم ) بننے میں چار سال لگے، کیا پتہ اگر یہ اس امتحان میں کامیاب ہو جائے تو یہی پشتون تحفظ موومنٹ پاکستان تحفظ موومنٹ بن جائے۔ اور پھر یہ اربوں ڈالر کے دھندے، یہ قوم کے رگوں سے قطرہ قطرہ نچوڑ کر بنائی گئی جائیدادیں، غنڈہ گردی، یرغملالی ہتھکنڈے اور فرعونیت خاک میں مل جائے۔ یہ منظور اس لئے نامنظور ہے۔

Facebook Comments HS