فحش ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کیوں کر


’’کہا جاتا ہے کہ علامہ اقبال نے قوم کے دانشوروں کے ذہنی حصار پر افسوس کرتے ہوئے ایک لطیف اِشارہ کیا تھا ”آہ! بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار“۔ اقبال نے جس ذہنی حصار اور اخلاقی پستی کا ذکر کیا ہے، وہ تقریباً ہر زمانے میں موجود رہی ہے۔ انسانی نفسیات اس بات کا تقاضا بھی کرتی ہے کہ انسان جنس مخالف کی طرف مائل ہو۔ دور حاضر کی ذہنی پستی اور اخلاقی زوال کو دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جو خود کو اہل ایمان کہتے ہیں وہ بھی اس سے مبرا نہیں ہیں۔ جب سے بزم اردو (یہ انٹر نیٹ پربزم اردو ڈاٹ نیٹ کے نام سے فیس بک کی طرح ایک اردو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ہے) کی شروعات ہوئی ہے، میں نے گوگل اینالیٹکس دیکھنا شروع کیا ہے؛ گوگل اینالیٹکس کی مدد سے آپ یہ جان سکتے ہیں کہ آپ کی ویب سائٹ پر ٹریفک کہاں سے آ رہی ہے اور کون سا لفظ لوگوں کو آپ کی ویب سائٹ پر لانے میں معاون بن رہا ہے۔
وہ وقت میرے لیے انتہائی حیرت و تعجب کا تھا جب میں نے یہ محسوس کیا کہ نئے وزیٹرز میں تقریباً 40 فی صد وہ وزیٹر ہوتے ہیں، جو صرف اور صرف تلذذ کی تلاش میں ویب سائٹ کی خاک چھانتے ہیں۔ فحش سائٹس بنانے والوں نے جنس کے بھوکے نیٹیزن (شہر کا باسی سٹی زن، بعینہ اسی طرح انٹر نیٹ کا باسی نیٹی زن) کی ان سائٹس تک رسائی اس قدر آسان بنا دی ہے، کہ انگریزی الفا بیٹ کا محض ایک حرف سرچ انجن میں داخل کرتے ہی سیکڑوں سائٹس کے پتے آن کی آن میں نظر کے سامنے ظاہر ہو جاتے ہیں۔
میرا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ کسی شخص کے ذہن اور مزاج، وجدان، فکر اور قلبی میلانات پر لسانی و تہذیبی اثرات کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔ بزم اردو کی تشکیل کے پیچھے یہی مقاصد کار فرما تھے، کہ جدید نسل کا ناتا زبان و صلح ادب سے جوڑا جائے اور مشرقی اقدار کے تحفظ کا دفاع اس انداز میں کیا جائے کہ جدید ذہن بھی اسے قبول کریں۔
لیکن ستم بالائے ستم یہ کہ سیکس کے یہ متلاشی انگریزی الفاظ کو ذریع نہیں بناتے بلکہ اردو کلیدی الفاظ (کی ورڈز) تلاش کرتے ہوئے بزم تک پہنچتے ہیں۔ مجھے حیا مانع ہے کہ میں سرچ کیے جانے والے ان حروف، الفاظ، یا فقروں کو یہاں تحریر کروں۔ تلاش کیے جانے والے فقروں اور الفاظ میں بنیادی جنسی سوالات کے علاوہ، اس قدر غلاظت بھری باتیں ہوتی ہیں، جنھیں دیکھ کر ایک سلیم الفطرت شخص کو اس ذہنی پستی پر حیرت ہوتی ہے کہ یہ انسان اور خاص طور پرمشرق کا رہنے والا، خدا اور یومِ جزا پر ایمان رکھنے والا انسان بھی قعر مذلت میں اس قدر گر سکتا ہے؟
چوں کہ بزم کے ”کی ورڈز“ میں تصاویر، وِڈیوز موجود ہیں نیز فورم اور بلاگ بزم اردو میں کچھ قلم کاروں کی ایسی تحریریں بھی، جن میں وہ کی ورڈز یا کلیدی الفاظ شامل ہیں۔ اس لیے گوگل ان ہوس کے بھوکے لوگوں کا رُخ بزم کی طرف موڑ دیتا ہے۔ جب ہماری ادبی ویب سائٹ کا یہ احوال ہے، تو جو ویب سائٹس خالص فحش مواد فراہم کرتی ہیں، ان پر ان جنس کے بھوکے افراد کی آمد و رفت کتنی ہوتی ہوگی‘‘؟
مندرجہ بالا تجزیہ، میرے ایک عزیز دوست اور بزم اردو کے منتظم ڈاکٹر سیف قاضی کا ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر سیف قاضی پیشہ ورانہ لحاظ سے ایک ہومیو پیتھی ڈاکٹر ہیں لیکن ان میں اردو کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے اور اسی محبت نے انھیں اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اردو حلقے کے لیے فیس بک کا متبادل کوئی سوشل نیٹ ورک بصورت سائٹ یا فورم بنائیں، ”بزم اردو“ ان کی اسی محنت اور محبت کا ثمرہ ہے، جہاں آج اندرونِ ملک و بیرون ملک ہزاروں کی تعداد میں محبان اردو خوشہ چینی میں مصروف ہیں۔
اللہ تعالی نے فرمایا ”اور تم زنا کے قریب بھی مت جاؤ۔ بلاشبہ وہ ایک بے حیائی کا کام ہے اور برا راستہ ہے۔“ (بنی اسرائیل 32)۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے، جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے کہ زنا کے قریب جانے سے مراد وہ تمام راستے اور ذرائع ہیں جو زنا کے قریب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں لہٰذا ان ذرائع کا استعمال بھی حرام ہے جو زنا سے قریب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، ”پس آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے۔ اور ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا ہے۔ اور پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا چلنا ہے۔ اور ہونٹ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا بوسہ لینا ہے۔ اور دل گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے اور اس کی خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔ “(مسند احمد :جلد2، ص 343’موسسۃ قرطبہ القاھرہ)
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام صحیح معنوں میں حکومتوں کے کرنے کا ہے کہ وہ اس طرح کی چیزوں پر لگام ڈالے اور ایسا سسٹم بنائے کہ ایسی سائٹس کھل ہی نہ سکیں لیکن ہماری حکومت بار بار یاد دلانے کے باوجود اس کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ نے بھی انٹرنیٹ پر پیش کی جا نے والی فحش سائٹس پر پابندی لگانے کے حوالے سے مرکزی حکومت کو چار ہفتے کا نوٹس جاری کیا تھا۔
خبروں کے مطابق کیرالا کے کملیش واسوان نامی ایک شخص کی درخواست کے پیش نظر سپریم کورٹ نے انٹرنیٹ پر فحش ویب سائٹس کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ لیکن ابھی تک اس کا کوئی حل نہیں نکلا۔ حیرت ہے کہ ہماری ملیّ تنظیمیں بھی اس جانب دھیان نہیں دیتیں، انھیں تو صرف مذہبی بیان جاری کرنا آتا ہے۔ انھیں دہشت گردی، کرپشن اور اسی طرح کی چیزوں پر بیان بازی سے فرصت نہیں ملتی۔
معاشرے میں شیطانیت کی حد تک پھیلتی ہوئی گم راہی، ہم جنس پرستی، زنا، عصمت دری، لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ سب اسی کے نتائج ہیں۔ جس طرح دہشت گردی، بد عنوانی اور بے ایمانی جیسی معاشرے کے لیے خطرناک ہیں۔ ٹھیک اسی طرح فحش سائٹس بھی سماج کے لیے انتہائی خطرناک اور ناسور کے مانند ہیں، جو میٹھے زہر کی طرح انسان کو تباہ کر دیتی ہیں۔ چاہے وہ کسی بھی زبان یا لنگویج میں ہوں۔بلکہ یہ تو جنگ کا ایک حصہ ہے جسے سائبر وار کے نام سے جانا جاتا ہے اور کہیں نہ کہیں ہمارے بچے یہ دیکھ کر اخلاقی باختگی کے جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم نے تہیہ کر لیا ہے کہ عملی طور پر اس کی انسدادی تدابیر کے لیے کچھ نہیں کریں گے۔
والدین، ملیّ تنظیمیں اور این جی اوز کو اس جانب دھیان دینا چاہیے اور اس طرح کی چیزوں کو بلاک کیےجانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی اس بات کی تربیت دینی چاہیے کہ وہ کس طرح کی چیزیں دیکھیں اور کن سائٹس سے پرہیز کریں۔ کچھ سال قبل ملیشیا نے اس طرح کی برائیوں سے بچنے اور مسلمانوں کو انٹرنیٹ پر بڑھتے ہوئے فحش مواد سے روکنے کے لیے دُنیا کا اولین ’حلال‘ سرچ انجن شروع کیا تھا، اس طرح کی سائٹوں کو بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ بعض جگہوں پر فیس بک اور یو ٹیوب پر بھی پابندی ہے۔
خود ہندوستان کی معروف دانش گاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں صرف اکیڈمک سائٹس ہی کھلتی ہیں بعض پرائیویٹ اور سرکاری اداروں میں بھی ایسا ہو رہا ہے لیکن اس سے کام نہیں بنے گا؛ کلی طور پر اس کے تدارک کے لیے اقدامات کرنے پڑیں گے۔تبھی بچوں کو اس بات سے روکا جا سکتا ہے کہ ایسے سائٹس تک ان کی رسائی نہ ہو۔
جنتا کی ذمہ داری ہے کہ سرکار سے مطالبہ کریں، ایسی سائٹس پر پابندی لگائی جائے۔ خبروں کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے 556 سائٹس کو بند کر نے کا فیصلہ لے لیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے اہلِ اردو کو چاہیے کہ وہ بھی اس طرح کی گندگی سے حکومت کو واقف کرائیں، تا کہ اس پر بھی نکیل ڈالی جا سکے۔ انسان آیندہ نسلوں کا مقروض ہوتا ہے، اس کی ذمہ داری ہے کہ آیندہ نسل کے مستقبل کی راہیں ہم وار کر کے جائے۔

اسی بارے میں

پاکستانی فیس بک پر کیا تلاش کرتے رہتے ہیں؟

Facebook Comments HS

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah