لوکل اور برانڈڈ شراب


عقل یہ کہتی ہے کہ شاید ہر انسانی معاشرے میں دو قسم کے شرابی پائے جاتے ہیں۔ ان کی تعداد بتانے سے ہر انسان قاصر ہے کیونکہ مردم شماری کرتے وقت اس سوال کو نہیں پوچھا جاتا۔

ایک طبقہ وہ ہے جو حرام لوکل یعنی سستی شراب پینے والا ہے، دوسری جانب ایک طبقہ وہ ہے جو حرام برانڈڈ یعنی کہ مہنگی شراب پینے والا ہے۔ کہنے کو شاید یہ دو باتیں ہیں مگر اس کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے۔

کیونکہ حرام لوکل شراب پینے والے اکثر وہ شرابی ہوتے جن کا تعلق نچلے درجے کے مزدور پیشہ طبقے سے ہوتا ہے۔ یہ اکثر سادہ لباس میں ملبوس کسی غریب خانے میں شراب پی کر لطف اندوز ہوتے ہیں، یہ طبقہ اپنی پیاس مٹانے کے بعد بھوک مٹانے کے لیے کسی ڈھابے کی طرف رخ کرکے مرغی کا سالن یا دال روٹی کھا کر صبر شکر کر لیتا ہے۔ اس ڈھابے کے مالک کو معلوم ہوتا ہے کہ اس پاس کھانا کھانے والے مہمانوں کا تعلق غریب طبقے سے ہے اس لیے وہ اپنے ڈھابے میں کام کرنے والے ملازمین کو ایک لائحہ عمل بنا کر دے دیتا ہے کہ اگر کسی غریب سے پانی پیتے ہوئے غلطی یا مدہوشی میں گلاس گر جائے تو اس مہمان کو ذلیل کرنے بعد گلاس کی رقم لازمی وصول کرلے۔

مگر دوسری جانب حرام برانڈڈ شراب پینے والے ہیں جو اپنی لاکھوں روپے والی گاڑی میں سفر کرتے ہوئے اعلیٰ درجے کے ریسٹورنٹ اور فائیو سٹار ہوٹل کا رخ کرتے ہیں، یہ طبقہ اپنے جسم پر اوڑھنے کے لیے حلال برانڈڈ کپڑوں کا استعمال کرتے ہیں۔ پیاس مٹانے کے بعد بھوک مٹانے کے لیے اعلیٰ جگہ کا انتخاب کرکے بہترین کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ان ریسٹورنٹ اور ہوٹلوں کے ملازمین کو تعلیمی اداروں میں باقاعدہ طور پر تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔ اور سمجھایا جاتا ہے کہ گاہک ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے، ایسے ہوٹل اور ریسٹورنٹ کے مالکان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس آنے والے مہمانوں کا تعلق امیر طبقے سے ہے اس لیے وہ اپنے ملازمیں کو ترغیب دیتا ہے کہ تمام مہمانوں سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آئے۔ اگر مہمان کو کھانا پسند نا آئے اور وہ مہمان غصہ میں گلاس اٹھا کر زمین پر مار دے تو ہمارا ملازم صبر کا دامن ہاتھو میں رکھے اور ضرورت پڑنے پر مہمان سے معذرت بھی کرلے۔

یہ فرق صرف امیر اور غریب شرابی کا نہیں ہے بلکہ یہ فرق امیر اور غریب غیر شرابی کا بھی ہے۔ اور نا ہی یہ فرق کسی ہوٹل، ڈھابے یا ریسٹورنٹ تک محدود ہے، بلکہ ہر قسم کے مراحل میں امیر اور غریب کا واضح طور پر فرق دیکھا جاسکتا ہے اگر آپ دیکھنا چاہیں۔
عزیز میاں : ‏پلائے جب کوئی معشوق اپنے ہاتھوں سے، شراب پھر نہیں رہتی حرام پی لیجے۔

Facebook Comments HS