ناول ٹوٹی ہوئ دیوار ۔۔ تیسری قسط
ثانیہ نے ڈاکٹر واحدی کو بائی فار ناؤ ٹائپ کیا اور پھر رائٹ کلک سے فیس بُک سے ہی سائن آوٹ کردیا۔ وہ کچھ دیر یوں ہی خالی آنکھوں سے کمپیوٹر کے آئیکانز کو تکتی رہی جیسے کچھ سوچ رہی ہو اور پھر کسی خیال سے کیمرے کے ائیکون کو کلک کیا اور خود کوا سکرین پر دیکھنے لگی ۔ اُسے یونیورسٹی سے آئے ہوئے دو تین گھنٹوں سے زائد ہوچکے تھے۔ ڈنر کے بعد ایک دو گھنٹے تک تو وہ یونیورسٹی کے کچھ اسا ئنمنٹ دیکھتی رہی مگر پھر تھک گئی اور فیس بک پر ڈاکٹر واحدی سے باتیں کرنے لگی ۔ گھر آنے کے بعد سے نہ تو وہ فریش ہوئی تھی اور نہ ہی اُس نے کپڑے بدلے تھے۔ البتہ اُس کے بال ابھی تک سنورے ہوئے تھے اور صبح کی لگائی ہوئی آی لا ئنر سے اُس کی آنکھیں خاصی جازب نظر ہورہیں تھی ۔ بس چہرے پر تھوڑی سی تھکن تھی جو اُس کے سارے دن کے بھاگ دوڑ کی چغلی کھا رہی تھی۔ ثانیہ نے خود کو کمپیو ٹر کے کیمرے میں دیکھتے ہوئے پاس ہی پڑے ہوئے اپنے بیگ کو کھولا اور اُس میں سے ٹٹول کر لپ اسٹک نکا لی ، اُسے انگلی پر پھیرا اور پھر انگلی سے لپ اسٹک کو ہونٹوں پر ملنے لگی پھر اسکرین کے قریب آکر ہونٹوں کو دیکھا مگر کچھ سوچ کر بیگ سے لپ اسٹک پینسل نکالی اور اُس سے ہونٹوں کے کنارے بنا نے لگی۔ اس کے بعد اُس نے فیس پاوڈر بیگ سے نکالا اُس کے کئی ایک پف اپنے چہرے پر لگائے ۔ جب وہ اپنے چہرے سے مطمئن ہو گئی تو پھر کیمرے کے سامنے ٹیڑھا ہو کر کئی زاویوں سے اپنے تین چار سیلفی پوز بنا ئے پھر اُس میں سے ایک پوز کو سلیکٹ کیا، اسکائپ کے سیل فون میسج باکس پر جاکر اُسے اٹیچ کیا اور ‘مس یو’ انگریزی میں ٹائپ کرکے دلیپ کو بھیج دیا۔ کچھ ہی لمحوں میں اُسے دلیپ کا جواب اپنے سیل فون کے اسکرین پر موصول ہوا ‘می ٹو’ ، اس سے پہلے کہ ثا نیہ آگے لکھتی فورا ہی دلیپ کا دوسرا میسج آگیا ‘ لو کنگ گورجیس ‘ ثانیہ نے جواب میں لکھا : ‘ ملنے کو جی چاہ رہا ہے’ فورا ہی دلیپ کا جواب آیا ‘آجاؤ نہ پھر ،ملتے ہیں ڈکسی والے ۲۴ آورز اسٹار بکس پر’ اور مما کو کیا کہوں’ ثانیہ نے لکھا ۔ ‘ ابھی تک سو ئی نہیں کیا ؟’ دلیپ کا سوالیہ میسج جواب میں آیا ‘ یار پپا گھر میں نہیں ہیں ، کسی فرینڈ کے یہاں ہیں اگر مما سو رہی ہوں تو پھر میں آدھے گھنٹے میں اسٹار بکس پہنچتی ہوں ‘ ثانیہ نے جواب میں لکھا اور بائی کہہ کر اسکایپ اور فیس بک دونوں سے سائن آوٹ کر دیا۔
آدھے گھنٹے کے بعد ثانیہ اور دلیپ ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے اسٹار بکس رسٹورنٹ کے ایک کونے میں آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے کی نظروں میں نظریں ڈال کر دھیمے دھیمے کافی کی چسکیاں لے رہے تھے۔ کچھ دیر بعد ثانیہ نے آنکھوں کی پتلیاں سمیٹ کر دلیپ کو پیار سے گھورا اور کہا، ” اچھا اب کہو ، کیا ہے جواب تمھارے پاس میرے سوال کا؟”
”میرا تو وہی جواب ہے جو میں نے صبح یونیورسٹی میں کہا تھا کلاس میں ۔۔۔ یار تیرے کو یاد نہیں میں نے کیا لکھا تھا پیپر پر ؟” دلیپ نے بھی اُسی محبت سے ثانیہ کی کنجی آنکھوں میں جھانک کر کہا ۔
”کیسے کیسے ؟ اب نا تم مجھے ا پنی ڈاکٹری کی سائنس سے سمجھاؤ گے ، مجھے سب پتہ ہے۔ ” ثانیہ نے کس قدر ٹھنک کر کہا
”ہاں آں بالکل ویسے ہی جیسے تو مجھے اکثر اپنی نفسیات کی سائنس سے سمجھاتی ہے ۔ ” دلیپ نے ثانیہ کے ہی لہجے میں مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔
”اچھا کہو نا پھر ۔۔زرا سا ڈیٹیل میں ۔۔۔ ! ” ثانیہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں اور انگو ٹھوں کو جوڑ کر رنگ بنا کرنچاتے ہوئے کچھ اس ادا سے کہا کہ دلیپ کی ہنسی چھوٹ گئی ، ”اچھا تو پھر سن۔۔۔ ‘ ‘ دلیپ نے بھی کسی پرو فیسر کی طرح جیب سے پین نکالا اور سامنے پڑے ہوئے اسٹار بکس کے نیپکن کو سیدھا کر کے اُس پر پین سے تین چار چھوٹے بڑے دائرے بنائے اور کہا ، ‘ ‘یہ رہے کینڈا کے برفیلے بادل ۔ ” اور پھر آٹھ دس چھوٹے چھوٹے سے مخروطی دائرے قطاروں کی صورت بنائے اور کہا، ” اور یہ رہی ان سے گرتی ہوئی ٹورنٹو میں برف کی بارش جو میرے اور تیرے سر وں پر گر رہی تھی، جب میری اور تیری پہلی ملاقات ہوئی تھی، یونیورسٹی کی اوپر ائر لابی میں ۔۔ یہ رہی تواور یہ ہوں میں ۔۔۔’ ‘کہہ کر دلیپ نے دو انسانوں کے اسکیچ بھی بنادیے اور پھر کہا، ” یاد آیا ۔۔۔؟ ” ثانیہ نے اسکیچ کو بڑے اشتیاق سے دیکھا، پھر اُس کی نظریں دلیپ کی طرف اُٹھ گئیں، ‘ ‘کچھ کچھ۔۔۔ ”
”اچھا اب دیکھ میری جان ۔۔۔ ” دلیپ نے مخصوص پنجابی لہجے میں جان کو زرا سا لمبا کھینچتے ہوئے کہا۔
ثانیہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھی پر اپنی ٹھوڑی رکھ کر ٹشو پیپر کودیکھتے ہوئے ایک ادا سے کہا ، ‘ ‘دکھاؤ ۔۔۔ ‘ ‘
”جب میری اور تیری انکھیا ں پہلی بار آپس میں ملیں، تو لو جی میرے او رتیرے دماغ مہاراج کو آنکھوں نے کچھ اسپیشل میسج کیا ۔” یہ کہہ کر اُس نے انسانوں کے اسکیچ کے سروں میں ایک ایک آپٹک لوپ بنادیا جو دائروں کی صورت آنکھوں سے نکل کر دماغ کے اندر جارہے تھے ۔
”اور وہ اسپیشل اسپیشل میسج کیا تھا۔۔۔؟ ” ثانیہ نے اپنی ایک آنکھ بھینچی اور دوسری آنکھ سے دلیپ کو ایسے دیکھا جیسے اُسے آنکھ مار رہی ہو ۔
”تو جانتی ہے یار میسج کیا تھا، اب ا تنا بھی نا بن ۔۔ ‘دلیپ نے دونوں اسکیچ کی آنکھوں کے سامنے لو کیو پڈ کے سائن بنائے اور مذاحیہ انداز میں کہا ‘ یہ ہے وہ اسپیشل میسج جو انکھیوں سے نکلتا ہے اور پیچھے دماغ مہاراج میں جاکر اثر کر تا ہے اور اُن سے کہتا ہے ‘اوے بھائی کوئی گڑ بڑ ہوگئی ہے ،یہ کڑا اور کڑی کی آنکھیں ایک دوجے کے پیار میں آپس میں ٹکرا گئی ہیں’۔پہلے پہلے تو دماغ مہاراج جی گھبرا سے جاتے ہیں کہ اوئے یہ کوئی لڑائی مار کٹائی کا چکر شکر ہے ؟ مگر پھر فوراٌ ہی انہیں احساس ہوجاتا ہے کہ یہ وہ لڑائی نہیں ہے جس میں کوئی خون خرابہ ہوتا ہے بلکہ اس والی لڑائی میں تو بس پیار ہی پیار ہے، امن ہی امن ہے اور سکون ہی سکون ، بس جی پھر دیکھتے ہی دیکھتے برین مہاراج سے ایک کے بعد ایک لاکھوں کرو ڑوں نیورو ٹرانسمیٹرز نکلنے شروع ہوجاتے ہیں جیسے ڈوپامین، سرو ٹو نین اور نو ر ایپی نیفرین ۔’ ‘ یہ کہہ کر دلیپ نے پین کی نوک سے دونوں اسکیچ کے سروں میں بہت سارے نکتے بنانے شروع کر دیے اور پھر کہا ، ‘ ‘ اوئے۔۔۔ پھر چاہے کتنی ہی ٹورنٹو میں برف باری ہو یا آسمان سے اولے پڑھ رہے ہوں، یہ ہارمون اُڑتے ہوئے جاکر سوئٹ گلینڈزپر اثر کر تے ہیں اور کڑے کڑی کو پسینہ پسینہ کر دیتے ہیں ۔ پھر چاہے یہ بستر پر آرام نال لیٹے ہوئے ہو ،یہ دل پر اثر کرکے اُس کی ایسی رفتار بڑھا دیتے ہیں جیسے بندہ ٹریڈ مل پر دوڑ رہا ہو ، پھر چاہے بندہ کتنا ہی مزیدار اٹالین یا چا ئنیزز فوڈ کے رسٹورنٹ میں بیٹھا ہو ، بھوک شوک اُڑ جاتی ہے ،پھر چاہے آسمان پر کتنے ہی بادل آئے ہوئے ہو پر وہ نیلا نیلا ہی دکھائی دیتا ہے اور کڑے اور کڑی کا دل کرتا ہے کہ راتوں کو اُٹھ کر چاند کو دیکھے یا تاروں کو گننا شروع کردے ۔۔ ایک دو تین چار۔ ۔۔ ‘ ‘
”اوہ مسٹر ۔ ۔۔ایکسیوز می ۔ ” اس سے پہلے کہ دلیپ کی گنتی چار سے آگے بڑھتی ثانیہ نے ایک ادا سے کہا ، ‘ ‘ مستقبل کے ڈاکٹر صاحب، یہ سب آپ کو پتہ ہے نا ؟ڈپرشن کے سائنز ہیں ۔ ویسے بائی دی وے جناب ، نفسیات میں ایک اور بیماری بھی ہوتی ہے اُسے ہم لوگ شیز و فیرینیا کہتے ہیں کہیں آپ ان دونوں کو ملا کر ایک نیا چورن تو نہیں بنارہے ہو ۔۔’ سائکولو جی آف لو ۔’ ‘ یہ کہہ کر ثانیہ نے ٹشو پیپر کو میز سے اُٹھایا ، مٹھی میں لیا اور پھر اُس کو اچھی طرح سے دونوں ہاتھوں میں مسل کر ایک کاغذ کی گولی بنائی اور پھر ایک ادا سے اپنی ایک آنکھ بند کر کے دوسری آنکھ سے کونے میں رکھے ہوئے ڈسٹ بن کا نشانہ لیااور اُس کی طرف اُچھال دیا۔
” ویسے اس میں کچھ رول سیکس ہارمونزکا بھی ہوتا ہے۔۔۔ ” دلیپ نے شرارتی انداز میں اپنی آنکھیں بھینچ کر ثانیہ سے کہا
”اچھا۔۔۔” ثانیہ نے اسی طرح شرارتی انداز میں اچھا کو تھوڑا لمبا کھیچ کر کہا ، ”مگر پروفیسر صاحب کیا اس سارے پروسس میں کچھ فرق پڑتا ہے جب منڈی پاکستانی اردو بولنے والی احمدی مسلم فیملی سے ہو اور منڈا ہندو ستانی پنجابی بولنے والی سکھ فیملی کا ہو ؟ ”
”کینیڈا میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے بچے ،مگر ہندوستان اور پاکستان میں بڑا فرق پڑتا ہے ۔ ” دلیپ نے ایسے منہ بنایا جیسے مار پڑنے والی ہو ۔
پہلے تو ثانیہ بے ساختہ ہنس پڑی مگر پھر کچھ ہی دیر میں اُس کی ساری ہنسی غائب ہوگئی اور پھر اُس کا چہرہ یکا یک سنجیدہ سا ہوگیا اور وہ آہستہ سے بڑبڑائی، ” پڑتا ہے۔۔۔ ادھر کینیڈا میں بھی بہت فرق پڑتا ہے۔ ”
دلیپ نے ثانیہ کو جو یوں سیریس ہوتے ہوئے دیکھا تو آہستہ آہستہ اُس کے لبوں کی مسکراہٹ بھی دور ہوتی چلی گئی۔پھر اُس نے اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر ثانیہ کے دونوں ہاتھوں کو
تھام لیا اور آہستہ سے کہا ، ” یہ جو ڈوپامین ہے نا ثانیہ جی، جو انکھیوں کے ملنے سے دماغ مہاراج جی سے نکلتا ہے یہ زندگی کو بچانے والا ہارمون ہے، جب یہ بچاتا ہے نا تو پھر یہ دھرم شرم وطن بطن کچھ بھی نہیں دیکھتا ، یہ پھر آخری سانس تک لڑتا ہے ۔ یہ بڑا ہی طاقتور ہارمون ہے ثانیہ جی ، اور تمھیں پتہ ہے یہ جو زندگی ہے نا بس یہ محبت سے ہی پیدا ہوتی ہے اور اس محبت کے پیچھے وہی ڈوپامین ہے ، مجھے تجھ سے محبت ہے یار اور میں تیرے بنا زندگی نہیں گزار سکتا ۔ ” یہ کہہ کر اُس نے ثانیہ کے ہاتھوں کو پیار سے اپنی طرف کھینچ لیا۔کچھ لمحات تک تو دونوں چپ چاپ ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پیار سے تکتے رہے مگر پھر ایک دوسرے کے او ر قریب آگئے اور پھر آہستہ سے اپنی آنکھیں بند کرلی اور ایک دوسرے کے پیار میں کھو گئے ۔
کافی ہاوس کے باہر برف کی صورت پیار کی بارش ہو رہی تھی ۔ ان کے آسمان سے زمین تک گرنے کے درمیان دور دور تک کہیں بھی رنگ مذہب یا نسل کے نام کی کوئی رکاوٹ نہیں تھی ۔دورکہیں برف کے بادلوں سے اٹے ہوئے آسمانوں کے اوپر ایک نیلا شفاف آسمان اور بھی تھا جو اُجلے اُجلے تاروں سے بھرا ہوا تھا جن کے اجالوں میں کوئی سایہ نہ تھا ۔ سخت برفیلی سردی کے موسم میں بھی ثانیہ اور دلیپ کے بدن پسینہ پسینہ ہور ہے تھے اور دل کی دھڑکن تیز اور تیز ہورہی تھی۔ کیا یہ سب کچھ صرف ڈوپامین اور سروٹینین کا اثر ہے یا کچھ آنکھوں سے اوجھل بھی ہے ؟ ثانیہ نے کنکھیوں سے کافی ہاوس سے جھانک کر اُس اوجھل کو جاننے کی
ایک بار اور کوشش کی مگر چاروں جانب محبت کے تیز طوفان کو پاکر پیار سے دلیپ کے سینے سے لپٹ گئی اور پھر اپنی آنکھیں دھیمے سے بند کرلیں ۔
ناول ٹوٹی ہوئ دیوار ۔۔ چوتھی قسط اگلےہفتے


