مفلس رہنما اور غریب اقوام کے لیے نوبل ایوارڈز

یہ نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ خود نوبل انعام کی ساکھ کے لیے بھی انتہائی شرم کی بات ہے کہ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ’رہنما‘ کو امن کے نوبل پیس ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کی۔ کیا یہ ایک جملہ ہماری اخلاقی گراوٹ اور دیوالیہ پن کا ثبوت نہیں؟ دراصل، یہ اس قوم کی اخلاقی پستی کو ظاہر کرتا ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ اس کی اقدار مذہب اور مشرقی شائستگی سے جنم لیتی ہیں۔ آخر

Read more

کیا اسی کا نام سیاسی، سماجی اور اخلاقی شعور ہے؟

اگر آج کارل مارکس زندہ ہوتا، تو شاید وہ ”سرمایہ“ کے بجائے سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام پر ایک اور شاہکار تصنیف رقم کر رہا ہوتا۔ دیکھ لو یہ نظام خود اپنی جڑیں کاٹ چکا ہے، اقتصادی طور پر اپنی ریڑھ کی ہڈی توڑ چکا ہے۔ گلوبلائزیشن کی تھوڑی سی امپلیمینٹیشن نے ہی انہی کی بنیادیں ہلا ڈالیں۔ جب باقی دنیا نے ان کی مین پاور کی قلت سے اقتصادی فائدہ اٹھایا، تو ان کے ’پڑھے لکھے عقل مند‘ لوگوں

Read more

’نئی محبتیں‘ سے ’جھرجھری‘ تک: ڈاکٹر خالد سہیل کی ایک جراتمندانہ تخلیقی پرواز

ڈاکٹر خالد سہیل نے جب میرے افسانچے ’نئی محبتیں‘ پر محترمہ بانو صائمہ کے ایماندارانہ تاثر پر اپنا تفصیلی تجزیہ دیا تو مجھے لگا کہ ادبی تہذیبی روایت کے مطابق اپنی تخلیق پر کیے جانے والے تجزیوں اور تنقید کو پورے صبر و تحمل سے پڑھوں اور حتی المکان اس سے کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کروں۔ اب جبکہ وہ موضوع کم و بیش اپنے منطقی انجام پر پہنچ چکا ہے تو میں یہاں اس کے حوالے سے اس بات

Read more

سالک۔ پیراڈوکسیکل سے میٹافوریکل سفر

آنکھ کھلی تو بیڈروم کا اندھیرا سیل فون کی اسکرین کے روشن ہونے کی وجہ سے ایک کونے میں سمٹتا چلا گیا، ڈاکٹر خالد سہیل کا نام اسکرین کے مرکز میں چمک رہا تھا۔ میں نے سیل فون کان پر لگا کر تشویش سے کہا ہیلو، خیریت تو ہے نا ڈاکٹر صاحب، اس وقت؟ ڈاکٹر صاحب عموماً رات کے پچھلے پہر کال نہیں کرتے تھے ؛ حضور والا آپ کے والد محترم رات میرے خواب میں آئے تھے اور آپ

Read more

خواب سے خواب تک (آٹوبائیوگرافک افسانچہ)

آنکھ کھلی تو بیڈروم کا اندھیرا سیل فون کی اسکرین کے روشن ہونے کی وجہ سے ایک کونے میں سمٹتا چلا گیا، ڈاکٹر خالد سہیل کا نام اسکرین کے مرکز میں چمک رہا تھا۔ میں نے سیل فون کان پر لگا کر تشویش سے کہا ہیلو، خیریت تو ہے نا ڈاکٹر صاحب، اس وقت؟ ڈاکٹر صاحب عموماً رات کے پچھلے پہر کال نہیں کرتے تھے ؛ حضور والا آپ کے والد محترم رات میرے خواب میں آئے تھے اور آپ

Read more

ایک سوال ایک جواب۔ مذہبی مجمع بازی

​سوال: کیا وجہ ہے کہ ذاکر نائیک کو سننے کے لیے لاکھوں لوگوں کا مجمع اکٹھا ہوجاتا ہے جبکہ کسی سیکولر دانشور کو سننے کے لیے مختصر تعداد میں حاضرین پائے جاتے ہیں؟ (شجعیہ بلند) جواب: شجعیہ، اگر ہم براہ راست ذاکر نائیک کو پوائنٹ آؤٹ کرنے کے بجائے کسی بھی مذہبی مقرر، گرو یا پنڈت کی بات کریں تو اس بات کا عمومی جواب تو یہی ہے کہ کیونکہ مذہب نسبتاً زیادہ آبادی کا سماجی، سیاسی اور نفسیاتی مسئلہ

Read more

ایک سوال ایک جواب: لسانی استعمار؟

سوال : ڈیڈی میں نے اکثر نوٹ کیا ہے کہ دیسی لوگ اکثر اپنی گفتگو میں بہت زیادہ انگریزی کا استعمال کرتے ہیں خصوصاً کسی فنکشن یا جہاں ان کے لحاظ سے کوئی ہائی سوشل کلاس ہو یا کیمرے کے سامنے یا جہاں اُن کے لحاظ سے کوئی پولیٹیکل یا سوشل سبجیکٹ پر سیریس ڈائیلوگ ہو؟ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ وہ اردو بولنے والوں کے ساتھ صرف اردو میں بات کیوں نہیں کرتے ہیں جس طرح وہ انگلش بولنے

Read more

ایک سوال ایک جواب: فکری پولرائزیشن

سوال: بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں فکری پولرائزیشن بہت بڑھ گئی ہے، آپ کی اس سلسلے میں کیا رائے ہے؟ (محمد شہزاد) جواب: پولرائزیشن کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دو مختلف گروپ ہیں یا دو مختلف لوگ ہیں اور ان کی رائے ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ لوگوں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے اور لوگوں کی رائے مختلف ہونا ایک قطعی فطری سی شے ہے، یہ تو کسی بھی سوسائٹی کے تنوع یا ڈائیورسٹی کو ظاہر کرتا ہے،

Read more

ایک سوال ایک جواب ۔۔ ڈاکٹر بلند اقبال

سوال: مجھے اکثر پاکستان کے ان لوگوں پر حیرانی ہوتی ہے جو باقاعدہ سائنس کے اسٹوڈنٹس رہے۔ اپنے شعبے کی اہم ڈگریاں لیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ سائنس سے زیادہ مذہب پر یقین کیوں رکھتے ہیں۔ یہ کیا کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے؟ یا ہمارے ہاں کا تعلیمی معیار اتنا پست ہے، مجھے وجہ سمجھ نہیں آتی ہے؟ (توصیف خان) جواب: توصیف میرا ماننا ہے کہ، مذہب کا حل سائنس کے پاس نہیں ہے۔ ان کا آپس میں کوئی تصادم بھی

Read more

طاوس فقط رنگ

طاوس فقط رنگ نیلم احمد بشیر کا ایک خوب صورت بیانیہ ناول ہے، جس کا عنوان اقبال کے معروف مصرِع: بلبل فقط آواز ہے طاوس فقط رنگ پر رکھا گیا ہے۔ ناول کا عنوان ہی کسی مور کے پر کی طرح ہمارے وجدان میں سہ رنگی سوال کے خیالات بھرنے لگتا ہے اورذہن خود بخود اقبال کی مغربی طرز زندگی اور معاشرتی روایتوں پر تنقیدی نظر کی طرف پرواز کرنے لگتا ہے جس کا اشارہ اسی کلام کے اگلے شعر

Read more

پاکستانی طبعیات اور مابعد الطبعیات

پاکستان میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں ایک وہ ہیں جو اپنے سماجی ’فوائد‘ خصوصاً معاشی اور سماجی حیثیت کی وجہ سے وہاں پر رہتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ دنیا کہ کسی اور ملک میں انہیں اس قسم کا سماجی رتبہ اور مالی فائدہ نصیب نہیں ہو گا اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو اپنے معاشی اور خاندانی ’مسائل‘ کی وجہ سے وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور ایک پاؤں پر اس ملک کو چھوڑنے کے لیے تیار

Read more

فزیکل اور میٹا فزیکل دنیا کا ملاپ

کچھ دیر کے لیے آپ فرض کر لیں کہ آپ قرون وسطی یعنی میڈیول دور کے ایک بلڈنگ کنسٹرکٹر ہیں اور ایک دن آپ کے بادشاہ سلامت صاحب کا گزر آپ کی کنسٹرکشن سائیڈ سے ہوجاتا ہے اور وہ آپ کے اردگرد پھیلے ہوئے سمنٹ اور گارے کو دیکھ کر آپ کو حکم دیتا ہے کہ اس میٹریل سے اب ایک ایسا ٹاور بناؤ جس کے چھت کی کھڑی یا دروازہ جنت میں کھلتا ہو تو آپ کیا کریں گے؟

Read more

لیڈر کا رومانی تصور اور حقیقی دنیا

اگر ہمیں جمہوری اور مطلق العنان ریاست میں سے کسی ایک میں رہنے کا اختیار ملے تو ہماری ترجیح یقیناً جمہوری ریاست ہی ہوگی مگر جب ہمیں اپنے لیے لیڈرشپ کے چننے کا اختیار حاصل ہو جائے تو ہماری حتی المکان کوشش ہوتی ہے کہ ہمارا لیڈر ایک مضبوط ارادے والا خودمختار شخص ہو جو آسانی سے کسی کے سامنے نہ جھکے۔ ایسا کیوں ہے؟ اکیسویں صدی کی گلوبل سوسائٹی میں کیا واقعی ایک عظیم لیڈر کی یہی حقیقی تعریف

Read more

میں ایک ہندو یا مسلمان کیوں نہیں ہوں؟

شاستری تھارور نے ”میں ایک ہندو کیوں ہوں؟“ جیسی کتاب لکھ کر اپنے کھرے ہندو ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ انہوں نے ہندو تہذیب کے چار ہزار سال کی مذہبی رواداری، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی سے تعمیر ہندو تہذیب کے پس منظر میں آج کے ہندوا ہندوستانی معاشرے کا تنقیدی تجزیہ کیا ہے جو انتہا پسندانہ فرقہ وارانہ بی جے پی یا بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی سیاسی تحریک سے زخم خوردہ ہے۔ سیکولر ازم کے معنی

Read more

پاکستان پوسٹ ٹروتھ کی اگلی منزل میں

کیا دنیا ہمیشہ سے یونہی افراتفری اور غیر منطقی سی رہی ہے جیسا کہ ہمیں آج کل نظر آتی ہے؟ یہی سوال آج سے پچاس ساٹھ برس پہلے رائٹر فلپ روتھ کے لیے بھی بے چینی کا سبب بنا تھا جب انہوں نے کئی ایک آرٹیکلز اس موضوع پر لکھ دیے تھے۔ ان کا سوال بھی یہی تھا کہ آخر سچائی فکشن کے مقابلے میں اس قدر اجنبی کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ پچھلے دنوں یہی موضوع مجھے بھی میچیکو

Read more

ایک دہریہ کی اخلاقیات

اگر ایک انسان کی وجودی حقیقت یا معنویت سراسر مبہم ہے تو کیا اس انسان سے جڑی اخلاقیات بھی اتنی ہی مبہم یا بے معنی ہے؟ یہ سوال نہ صرف مذہبی بلکہ ’غیر مذہبی‘ انسانوں کے لیے بھی خاصا اہم ہے اس لیے اس سوال کا جواب انسانوں کی وجودی حقیقت کی طرح مبہم نہیں ہونا چاہیے۔ جب کبھی ہم انسانوں کی معنوی حقیقت کی بات کرتے ہیں تو صدیوں سے مذہبی مفکرین انسان نامی مخلوق کی تعریف یا ڈیفینیشن

Read more

زندگی کی بے معنویت میں زندگی کی معنویت

کیا کائنات اس قدر سادہ سی ہے کہ ہم کندھے اچکا کر کسی بھی کہی، سنی یا پڑھی ہوئی کہانی یا نظریے پر ایمان لے آئیں اور اپنے شعور یا دلائل سے پر دماغ کے ساتھ دھوکہ دہی میں مبتلا ہوجائیں؟ ہماری وہی زندگی جو کبھی نوجوانی میں امیدوں اور خوابوں سے آراستہ ہو کر ایک خوبصورت منزل کی طرف گامزن تھی، جونہی مڈل ایج یا بڑھاپے کی جانب پہنچتی ہے اکثر و بیشتر یہ احساس شدت سے دینے لگتی

Read more

پاکستان میں حقیقی تبدیلی

میرے خیال میں ایماندار، کرپٹ اسٹیبلشمنٹ، نان اسٹیبلشمنٹ امپورٹڈ اور نا اہل جیسے سیاسی نعرے باز قسم کے سرکس کے جوکرز نہیں لا سکتے یہ سب راج تاج کے خاطر بس عوام کو الو بنانے کے چکر میں ہیں۔ پاکستان میں تبدیلی صرف ایڈمنسٹریٹو اسٹرکچر کی ریڈیکل تبدیلی سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان کو ڈی سینٹرلائز کرنا ضروری ہے۔ ضروری ہے کہ پاکستان کے چار کے بجائے تیس صوبے ہو، یہ تقسیم پاکستان کے بنتے ہی ہو جانی چاہیے تھی

Read more

پھٹا ہوا دامن

 بس ایک لمحے کی تو بات تھی اچانک کیٹ واک کے دوران نہ جانے کیسے زرینہ کا پاؤں اُس کی چار انچ لمبی سینڈل کی ہیل میں الجھا اور پھر وہ لاکھ چاہنے کے باوجود خود کو بیلنس نہ کر سکی اور قلابازیاں کھاتے ہوئے ریمپ سے سیدھا شائقین میں جا گری۔ زرینہ کو کیا پتہ تھا کہ اچانک یہ ایک چھوٹا سا کڑا لمحہ صدیوں کی تاریخ خود میں سمیٹ کر اسے زرینہ سے زلیخا میں بدل دے گا۔

Read more

نہیں ۔۔ گوشہ ادب

آپا نے سوچا اور پھر یہ تبدیلی بھی ایک دن کی تو نہ تھی پورے چودہ سال۔ اب تو آپا خود بھی اپنا اصلی نام بھولتی جا رہی تھی۔ وقت کو تو جیسے پر لگے تھے، تیرہ سال کی تھیں آپا، جب ہی اماں نے جھبلا سی دیا تھا کہ لڑکی ذات ہے نہ جانے کب قد نکال لے، پھر قرآن شریف بھی حفظ کرا دیا سوائے دو ایک سورۃ کے، جن میں ازدواجی مسائل کا ذکر تھا اور پھر آپا کی یادداشت بھی اتنی اچھی کہ مجال ہے جو زیر و زبر کا بھی فرق آیا ہو۔

Read more

کارٹون

محمد شجاع دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا۔ کمرے میں ہمیشہ کی طرح اندھیرا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اسے خیال آیا کہ بتی جلائے مگر پھر اس خیال سے کہ بابا کو روشنی سے وحشت سی ہوتی ہے اس نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔ بابا ہمیشہ کی طرح چارپائی پر بیٹھا سر جھکائے زمین کو تک رہا تھا۔ سفید سوتی چادر کندھوں کو ڈھکتی ہوئی چارپائی کے کناروں کو چھو رہی تھی۔ کمرے میں کہنے کو ایک گہری

Read more

مغربی ادب ۔ افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک (نویں قسط)۔

بیسویں صدی کا آغاز یورپ کی ادبی دنیا میں ’ازم‘ کی دنیا کے آغاز سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ انیسویں صدی کے آخر میں یکے بعد دیگر کئی ایک ادبی تحریکوں یا ازم کا یورپین ادب میں تعارف ہوا جنہوں نے ریئلزم اور نیچرل ازم کے زیر اثر ادبی تخلیقات کو روایتی اور فرسودہ قرار دے دیا۔ ان تحریکوں میں سمبل ازم، ایکسپریشن ازم، فیوچر ازم، سیورل ازم، دادا ازم اور ایگزسٹینشل ازم شامل تھیں جو ماڈرن ازم (جدیدیت) کی چھتری میں جمع ہو کر تمام تر مغربی ادب کو ایک نئے دور میں دھکیلتی چلی گئی اور یوں مغربی ادب ریل ازم اور نیچرل ازم (حقیقت اور فطرت پسندی) کے دور سے نکل کر ماڈرن ازم کے عہد میں شامل ہو گیا۔

Read more

مغربی ادب۔ افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک (آٹھویں قسط)

مغربی ادب۔ ریلزم اور نیچرل ازم کے دور میں انیسویں صدی میں یورپ کی سوسائٹی کئی ایک سیاسی، سماجی، سائنسی اور اخلاقی تبدیلیوں سے گزرتی چلی گئی۔ تبدیلی کا یہ عمل اس قدر شدید اور تیزرفتار تھا کہ رومانس ازم کی حسین اور خیالی ادبی دنیا اس کے سامنے بہت دیر تک پاؤں نہ ٹکا پائی اور بالآخر فطری اور حقیقی دنیا میں اپنی بقاء کے امکانات ڈھونڈنے لگی۔ انیسویں صدی میں ہونے والی اہم سیاسی تبدیلیوں کا آغاز ہمیں

Read more

دوسرے کی بیوی

عبدالجبار کو دوسروں کی بیویاں اچھی لگتی تھیں۔ وہ جب بھی کسی دوست، رشتے دار یا ہمسائے کی بیوی کو دیکھتا تو نہ جانے کیوں اس کا دل گدگدانے لگتا، دماغ سنسنانے لگتا اور بدن کپکپانے لگتا۔ اکثر و بیشتر اس کی اس کیفیت کا دوسروں کی بیویوں کو اس وقت تک پتہ نہ چلتا جب تک اس کی نگاہیں ان کے ریشمی بدن کو کاٹتی ہوئی ایسے پیچیدہ زاویے بنانے لگتیں کہ جن میں کوئی بھی زاویہ قائم نہ

Read more

مغربی ادب افلاطون سے پوسٹ ماڈرن ازم تک (ساتویں قسط)

مغربی ادب۔ رومانوی دور میں نیوکلاسیکل دور کے بعد کی اگلی صدی مغرب میں رومانوی ادب سے تعبیر کی جاتی ہے۔ گو کہ یہ دور اٹھارہویں صدی کے آخر سے انیسویں صدی کے درمیان کا عرصہ ہے مگر انیسویں صدی کی ابتدائی دہائیاں اس دور کا زریں وقت سمجھا جاتا ہے کیونکہ ’پری رومانس ازم‘ کے اس دور میں ہمیں جارج کریب، گولڈ اسمتھ، تھامس گرے اور ولیم کوپر جیسے شہرہ آفاق شاعر برطانوی ادب کی دنیا پر راج کرتے

Read more

مغربی ادب: افلاطون سے پوسٹ ماڈردن ازم تک (چھٹی قسط)

جس طرح نشاط ثانیہ نے ایک پل کی طرح یونانی و رومن تہذیبی ورثے کے پس منظر میں قرون وسطی اور اور ماڈرن دور کو آپس میں جوڑ کر ایک جدید دور کی بنیا رکھی اور مڈل ایج کی مذہبی فکر کو سیکولر ازم، ہیومنزم اور فرد کی انفرادیت جیسے تصورات سے آراستہ کیا اسی طرح نیوکلاسیکل ازم نے قدیم کلاسیکس کو جدید دور میں شامل کر کے اسے حیات نو عطا کی۔ نشاط ثانیہ اگر مغربی تہذیبی ارتقا کے

Read more

مغربی ادب۔ افلاطون سے پوسٹ ماڈرن ازم تک (پانچویں قسط)

قرون وسطی یا مڈل ایج کے فوراً بعد مغربی تہذیب کا وہ یاد گار دور یورپ میں شروع ہوجاتا ہے جس نے وہاں کے آرٹ، کلچر، سیاست اور اقتصادیات میں نہ صرف دیر پا اثرات پیدا کیے بلکہ آنے والے ادوار کے لیے بھی ایک جدید ماڈرن ترقی یافتہ یورپ کی بنیادیں مستحکم کردی۔ نشاۃ ثانیہ جسے فرانسیسی زبان میں ’رینیسانس‘ کہا جاتا ہے، جس کے معنی دوبارہ پیدا ہونا یا ’ری برتھ‘ کے ہیں یعنی اس دوران یورپ میں

Read more

مغربی ادب۔ افلاطون سے پوسٹ ماڈرن ازم تک (چوتھی قسط)

جب بھی ہم قرون وسطی یا مڈل ایج کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارا ذہن خودبخود پانچویں صدی ہجری سے پندرہویں صدی ہجری کے درمیان گزرے ہوئے ایک ہزار برسوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔ مغربی تاریخ کا یہ دور 476 عیسوی میں مغربی رومن ایمپائر کے زوال سے شروع ہوتا ہے اور لگ بھگ 1454 عیسوی میں مشرقی رومن ایمپائر کے زوال پر ختم ہوتا ہے جس کے بعد یورپ کی تہذیب سے تاریکی کا مکمل خاتمہ ہوجاتا ہے اور وہ چند سو برس نشاط ثانیہ کے آتے ہیں جس کے بعد یورپ ایک جدید ماڈرن سائنسی دور سے بدل جاتا ہے۔

Read more

مغربی ادب ۔افلاطون سے پوسٹ مارڈدن ازم تک (تیسری قسط)

مغربی ادب ۔رومن دور میں یہ درست ہے کہ338 بی سی میں یونان پر رومن سیاسی طور پر غالب آگئے تھے مگر تہذیبی فتح یونانیوں کو نصیب ہوئی۔ادبی اعتبار سے کم وبیش ہر ایک رومن صنف چاہے وہ ٹریجڈی ہو یا کامیڈی،طویل مذہبی نظم (ایپک) ہو یا گیت، بیانیہ ہو یا تاریخی اندازِادب یونانی کمپوزیشن کی ہی ڈھلی ہوئی شکل سے ملتی ہیں۔ صرف ستایر ہی واحد صنف ِادب ہے جوسراسررومن دور کی یادگار ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ

Read more

مغربی ادب: افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک (دوسری قسط)

مغربی ادب یونان میں : افلاطون سے پوسٹ مارڈرن ازم کی پچھلی قسط میں ہم نے زمانہ قدیم یعنی موسوی دور میں مغربی ادب کی بنیادی روایتوں یعنی ہیلینک اور ہیبریک کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ آئیں گفتگو کے اگلے مرحلے میں اب ہم یونانی دور میں چلتے ہیں اور مغربی ادب کے ارتقائی سفر پر نظر کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہی ہیں کہ حضرت عیسی کی پیدائش سے تین سے چار برس قبل کا یونان علم و ادب

Read more

مغربی ادب: افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک

مغرب کی موجودہ جداگانہ تہذیبی شکل سے تعارف کے لیے ضروری ہے کہ ہم مغربی ادب کے تاریخی سفر سے کسی حد تک ضرور واقف ہوجائیں ورنہ دوسری صورت میں ہمارے قیاس و خیال محض یک طرفہ شکل میں ہمارے ذہن کا حصہ بن کر رہیں گے اور ایک علمی توازن کے ہمیشہ محتاج رہیں گے۔ مغربی تہذیب نے درحقیقت دو قطعی مختلف اور مخالف قدیم ترین مذہبی اور غیر مذہبی روایتوں کے درمیان مستقل ٹکراو سے پرورش پائی ہے

Read more

آنکھیں آبیاری کررہی ہیں پھر سے خوابوں کی

سچ تو یہ ہے کہ اس بار جب ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنی کتاب آدرش مجھے عنایت فرمائی تو میں خوش ہونے کے بجائے کچھ چڑ سا گیا۔ دل جھلا سا گیا سوچا پلٹ کر پوچھ ہی لوں کہ ڈاکٹرصاحب آخر آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ پچھلے چالیس برسوں سے آپ مسلسل لکھ رہے ہیں شاعری، افسانے، مضامین، ترجمے، نفسیاتی مسائل۔ یعنی درجنوں کتابیں آپ کی آ چکی ہیں، مگر پھر بھی طبعیت ہے کہ آپ کی بھرتی ہی نہیں۔

Read more

سلطان جمیل نسیم: آج پیڑ پہ چڑیاں نہیں ہیں

نہ جانے کیوں میں ڈر سا گیا تھا۔ بظاہر ڈرنے کی کوئی خاص وجہ تو نہیں تھی مگر مجھے یا د ہے میں ڈر گیا تھا۔ کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا۔ شاید کچھ بھی وقت نہیں گزرا کیوں کہ وقت گزرنے کا احسا س تو کسی نئی سحر سے ہوتا ہے، کسی نئے خواب سے ہوتا ہے، کسی نئے خیال سے ہوتا ہے اور کچھ نہیں تو کسی نئے خوف سے ہوتا ہے۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا نہ کوئی

Read more

پاکستان میں عورت مارچ اور مغربی ایجنڈا؟

دیگر دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں عورت مارچ کو آڑے ہاتھوں سے لیا گیا ہے۔ چائنہ، روس، کینیڈا، چلی اور برطانیہ میں عورت مارچ کے دوران اُن پر پھول پھینکے گئے تو کہیں مردوں نے ہائی ہیل اور اسکرٹ پہن کر بھی مارچ میں حصہ لیا اور یوں عورت صنف سے اپنی یک جہتی اور محبت کا اظہار کیا مگر پاکستان کے کچھ شہروں میں اُن پر پتھراؤ ہوا بلکہ گندی گالیوں سے ان کا استقبال بھی کیا گیا۔

Read more

ایک بیٹے کی اپنے باپ سے گفتگو

ایک تاریکی اچانک آئی اور مجھے نگل گئی پہلے پہل تو لگا تھا جیسے محض سُن کی سی کیفیت ہے مگر اُس کے پیچھے ایک بھیانک خلا بھی چھپا ہوا تھا جو ایک دم سے میرے پورے وجود کو نگلتا ہی چلا گیا اور پھر لمحے بھر میں میرا پورا بدن بے وزن ہوتا چلا گیا، سب کچھ ختم ہوگیا۔ نہ تو کوئی احساس، نہ کوئی خیال، نہ تو کوئی درد اور نہ ہی سکون۔ زندگی زندگی کے ساتھ آئی

Read more

فرینز کافکا کا ناول ’میٹا مارفوسس‘ اور فلسفہ بیگانگی

ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلی چند صدیوں میں اکنامک لبرل ازم اور فری مارکیٹ کیپیٹل ازم نے ہماری گردنوں میں ضروریات زندگی کا طوق کچھ اس طرح سے پھنسا دیا ہے کہ ہمارے سوچنے کے تمام تر انداز پر سرمایہ دارانہ شعور کا اچھی طرح سے قبضہ ہو چکا ہے اور اب حالات یہ ہیں کہ آج ہم کسی مشینی ربوٹ کے مانند سرمایہ کو مرکز مان کر اپنے معیارات اور اقدار کی نشونما کو عین انسانی فطرت سمجھنے

Read more

البرٹ کاموز کا ناول ’اجنبی‘ اور فلسفہ وجودیت

مذہبی دیو مالائی کہانیوں سے ہٹ کر اگر کبھی سوچیں تو کا ئنات کی موجودگی کی کوئی عقلی دلیل نظر نہیں آتی ہے اور جب کائنات بے دلیل نظر آتی ہے تو اس کی تخلیق کے بعد کے پنپنے والے تمام تر نظریات محض انسانی ارتقائی عمل کی بقا اور ممکنہ ضرورتوں کے ماتحت ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ مذہبی دیومالی قصے یوں بھی آج تک کوئی بھی عقلی دلیل نہیں دے پائے ہیں۔ یہ ایمان اور

Read more

تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو۔ سیمول ہنٹنگٹن

گو کہ کتاب پرانی تھی مگر موضوع ابھی تک نیا ہے شاید اسی لیے میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس بار لائبریری میں سیمول ہنٹنگٹن کی مشہورِ زمانہ کتاب ’تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو‘ پر بات کرلی جائے۔ 1993 میں سوالیہ نشان کے ساتھ جرنل آف فارن افئیر میں چھپنے والا سیمول ہنٹنگٹن کا یہ ارٹیکل تین برس بعد 1996 میں کتاب کی صورت میں چھپا تو چند سالوں بعد ہی ستمبر 11 کے سانحے نے گویا کتاب میں درج پیشن گوئی کو ایک زبان عطا کردی اور یوں یہ کتاب مغربی عوام کے لیے خصوصاً اور مشرق عوام کے لیے عموماً ایک تشویش ناک فکر کا سبب بن گئی۔ اس کتاب میں ایسا کیا تھا آئیں تھوڑا سا جائزہ لیتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا انسانی تہذیب کے ارتقائی سفر کے تعارف کو یوں بھی سیاسی و اقتصادی خانوں میں بانٹ کر ایک مثبت یا منفی فکر پیدا کی جاسکتی ہے؟ اور اگر واقعی یہ فکر حقیقت پر مبنی ہے تو انسانی ’تہذیب‘ کا مقدر فیصلہ کن حد تک تشویش ناک نظر آتا ہے۔

Read more

ڈیڈی۔ اپنے کمرے میں واپس آ جائیے

بس یونہی خیال آیا کمرے میں جھانک لوں کہیں سوتے میں لحاف بدن سے نہ سرک گئی ہو کہیں پنکھے کی ہوا سر پر نہ لگ گئی ہو چلو چپکے سے مفلر سر پر لپیٹ دیتا ہوں یا دھیمے سے لحاف ٹھیک کردیتا ہوں پنکھا تیز کردوں یا آہستہ؟ پردوں کو برابر کردوں یا ہٹادوں؟ مجھے پتہ ہے کمرے میں روشنی آپ کو اچھی لگتی ہے اور چائے میں کٹی ہوئے الئچی اور ایک چٹکی سنامن کی اور سوجھی گرم

Read more

ناول ٹوٹی ہوئی دیوار ۔۔دسویں قسط

دسواں باب وقت : آٹھ بجے رات تاریخ: 8 نومبر، 2015 مقام : شاہ فیصل کالونی نمبر 5۔ کراچی جس رات شاہ فیصل نمبر پانچ تھانے پر دھاواپڑ ا تھا، اُس رات سارا علاقہ اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اُٹھا تھا۔ پہلے مولوی سلیم اللہ چار پانچ بندوں کے ساتھ ایس ایچ او سے ملنے کے لیے آیا اور جب بات بحث سے بڑھ کر چیخ و پکارمیں بدل گئی تب ایس ایچ او کے کان میں کانسٹبل رحیم

Read more

درویشوں کا ڈیرہ کے مصنفوں سے ایک مکالمہ

خواب نامے (خالد سہیل اور رابعیہ الربا کے ساتھ ایک گفتگو) دوستوں کچھ دنوں قبل ایک ایسی کتاب نظر سے گزری جو کہنے کو کوئی ناول، افسانوں کا مجموعہ، شاعری، آپ بیتی یا کوئی جگ بیتی تو نہیں تھی مگر اُس میں بیک وقت ناول بھی تھا، افسانے بھی، شاعری بھی، آپ بیتی اور جگ بیتی بھی تھی۔ ایک ایسی کتاب جس میں بیک وقت مذہب بھی تھا، لٹریچر بھی، سماجی و نفسیاتی مسائل اور فلاسفی بھی تھی۔ ایک ایسی کتاب

Read more

ناول ٹوٹی ہوئی دیوار ۔۔ نویں قسط

وقت: دو بج کر تیس منٹ رات تاریخ: 7 نومبر، 2015 مقام: مسی ساگا۔ کینیڈا اچانک سیل کی کی وابریشن کی آوازسے ثانیہ چونک گئی، دوسری طرف دلیپ ہی تھا۔ وہی ہوا جس کی امید تھی دلیپ، اِٹس آل میسی ناؤ، مما پپا کو پتا چل گیا، اُنھوں نے ہمیں ساتھ دیکھ لیا ہے، اسٹار بکس میں، ’ناؤ دے ار تھریٹننگ دیٹ، دے وونٹ لیٹ می گو ٹو یونیورسٹی اینی مور۔ اُس نے سب کچھ ایک ہی سانس میں کہہ

Read more

ناول ٹوٹی ہوئی دیوار ۔۔آٹھویں قسط

آٹھواں باب وقت : بارہ بجے دوپہر تاریخ: 7 نومبر، 2015 مقام : کابل، افغانستان گھر پہنچ کر واحدی نے کپڑے بدلے ہی تھے کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ دوسری طرف ایک انجانی سی آواز تھی، ”پروفیسر صاحب تمھارے بارے میں ہمیں سب پتہ ہے۔ تم کہاں رہتے ہو کیا کام کرتے ہو اور ابھی ابھی کہاں سے آئے ہو۔ ہم تمھیں یہ پہلی اور آخری بار فون کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ہماری گولی ہوگی اور تمھارا

Read more

ناول ٹوٹی ہوئی دیوار ۔۔ساتویں قسط

وقت : دس بجے رات تاریخ:7 نومبر ، 2015 مقام : شاہ فیصل کالونی نمبر 5 ۔کراچی بختاور نے گلی والا دروازہ کھولا تو وہاں ادریس نہیں تھا بلکہ مولوی سلیم اللہ چار پانچ داڑھی والے لوگوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ بختاور نے فوراٌ ہی دوپٹہ سر پر لے لیا اور دروازے کی آڑ میں ہوگئی، ”اسلام علیکم جی، ادریس تو گھر پر نہیں ہیں وہ تو صبح سے مسجد گئے ہوئے ہیں پھر لوٹے نہیں” بختاور نے د بے

Read more

ٹوٹی ہوئی دیوار – ناول قسط چھ

چھٹا باب وقت: بارہ بج کر تیس منٹ رات تاریخ: 7 نومبر، 2015 مقام: مسی ساگا۔ کینیڈا دروازے کے کھلنے کی دھیمی سی آواز اور مما کی دھاڑتی ہوئی تیز آوازیں جو آپس میں ملیں تو ثانیہ کے سارے بدن میں ایک خوف کی لہر سی دوڑ گئی۔ اُسے لگا جیسے ایک طوفان کسی چیتے کے مانند گھر کے جنگل میں دبک کر اُس کی واپسی کے انتظار میں اُسے دبوچنے کے خاطر تیار بیٹھا ہوا تھا۔ مگر یہاں صرف

Read more

ٹوٹی ہوی دیوار (ناول) پانچویں قسط

پانچواں باب وقت : صبح گیارہ بج کر تیس منٹ تاریخ:7 نومبر، 2015 مقام : کابل، افغانستان دوگھنٹے گزرنے کے بعد بھی جب ناظر عزیزی کی کال نہیں آئی اور اُس کا نمبر بھی مسلسل مصروف ملتا رہا تو واحدی نے تنگ آکرکالج کے ایک اور پروفیسر نعمت اللہ خان کو کال ملائی مگر ابھی بیل بجنا شروع ہی ہوئی تھی کہ ناظر عزیزی کی کال آگئی۔ واحدی نے فوراٌ نعمت اللہ خان کی کال کو آف کرکے ناظر عزیزی

Read more

ٹوٹی ہوی دیوار (ناول) چوتھی قسط

چوتھا باب وقت : صبح دس بجے تاریخ:7 نومبر، 2015 مقام : شاہ فیصل کالونی نمبر 5۔ کراچی ‘ ساری رات نہیں سویا ہے یہ، ذرا سی آنکھ لگتی نہیں ہے تو پھر چیخ کر اُٹھ جاتا ہے، اُٹھتا ہے تو پھر الٹیاں لگ جاتی ہیں، مجال ہے جو ایک دانا بھی پیٹ میں گیاہو۔ ’ ’بختاور نے عثمان کو پریشانی سے دیکھتے ہوئے ادریس سے کہا ‘ اچھا ٹھیر میں ابھی تھوڑی دیر میں ڈاکٹر کے پاس لے جاتا

Read more

ناول ٹوٹی ہوئ دیوار ۔۔ تیسری قسط

ثانیہ نے ڈاکٹر واحدی کو بائی فار ناؤ ٹائپ کیا اور پھر رائٹ کلک سے فیس بُک سے ہی سائن آوٹ کردیا۔ وہ کچھ دیر یوں ہی خالی آنکھوں سے کمپیوٹر کے آئیکانز کو تکتی رہی جیسے کچھ سوچ رہی ہو اور پھر کسی خیال سے کیمرے کے ائیکون کو کلک کیا اور خود کوا سکرین پر دیکھنے لگی ۔ اُسے یونیورسٹی سے آئے ہوئے دو تین گھنٹوں سے زائد ہوچکے تھے۔ ڈنر کے بعد ایک دو گھنٹے تک تو

Read more

ٹوٹی ہوئی دیوار – دوسری قسط

وقت : صبح آٹھ بجکر 30 منٹ تاریخ:7 نومبر، 2015 مقام : کابل، افغانستان ‘اگر مذہب سیاست ادب رسوم و رواج فراڈ نہ ہوتے تو کیا انسان فراڈ ہوتا؟ ’ ڈاکٹر واحدی نے کمنٹ لکھ کر کچھ دیر ہی پلک جھپکی تھی کہ اسکرین پر دوسری طرف سے ثانیہ کا جوابی کمنٹ موصول ہوگیا۔ مگر ہم کس طرح اس کا تمام تر الزام مذہب، سیاست، ادب اور رسوم و روج پر دھر سکتے ہیں؟ ہم یہ کیوں نہ کہیں کہ

Read more

ٹوٹی ہوئی دیوار – ناول پہلی قسط

میں اپنی بازیافت کہوں یا خدا کہوں جی چاہتا ہے جو بھی کہوں، برملا کہوں (حمایت علی شاعر) اپنے خوابوں کے نام ایک ایسی دنیا جہاں رنگ، نسل اور مذہب کا فرق نہ ہو پہلا باب وقت:سہ پہر ساڑھے 4 بجے تاریخ: 6نومبر، 2015 مقام:شاہ فیصل کالونی نمبر 5۔ کراچی پکڑ پکڑ سالے کو، ذلیل کتا ہمارے نبیؐ کے لیے بکتا ہے، جرات کیسے ہوئی اِس مردود حرامی کی۔ ادریس پاگلوں کی طرح چیختا ہو ا سفید لٹھے کے کرتے

Read more