پاکستان میں عورت مارچ اور مغربی ایجنڈا؟

دیگر دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں عورت مارچ کو آڑے ہاتھوں سے لیا گیا ہے۔ چائنہ، روس، کینیڈا، چلی اور برطانیہ میں عورت مارچ کے دوران اُن پر پھول پھینکے گئے تو کہیں مردوں نے ہائی ہیل اور اسکرٹ پہن کر بھی مارچ میں حصہ لیا اور یوں عورت صنف سے اپنی یک جہتی…

Read more

ایک بیٹے کی اپنے باپ سے گفتگو

ایک تاریکی اچانک آئی اور مجھے نگل گئی پہلے پہل تو لگا تھا جیسے محض سُن کی سی کیفیت ہے مگر اُس کے پیچھے ایک بھیانک خلا بھی چھپا ہوا تھا جو ایک دم سے میرے پورے وجود کو نگلتا ہی چلا گیا اور پھر لمحے بھر میں میرا پورا بدن بے وزن ہوتا چلا…

Read more

فرینز کافکا کا ناول ’میٹا مارفوسس‘ اور فلسفہ بیگانگی

ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلی چند صدیوں میں اکنامک لبرل ازم اور فری مارکیٹ کیپیٹل ازم نے ہماری گردنوں میں ضروریات زندگی کا طوق کچھ اس طرح سے پھنسا دیا ہے کہ ہمارے سوچنے کے تمام تر انداز پر سرمایہ دارانہ شعور کا اچھی طرح سے قبضہ ہو چکا ہے اور اب حالات یہ…

Read more

البرٹ کاموز کا ناول ’اجنبی‘ اور فلسفہ وجودیت

مذہبی دیو مالائی کہانیوں سے ہٹ کر اگر کبھی سوچیں تو کا ئنات کی موجودگی کی کوئی عقلی دلیل نظر نہیں آتی ہے اور جب کائنات بے دلیل نظر آتی ہے تو اس کی تخلیق کے بعد کے پنپنے والے تمام تر نظریات محض انسانی ارتقائی عمل کی بقا اور ممکنہ ضرورتوں کے ماتحت ہی…

Read more

تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو۔ سیمول ہنٹنگٹن

گو کہ کتاب پرانی تھی مگر موضوع ابھی تک نیا ہے شاید اسی لیے میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس بار لائبریری میں سیمول ہنٹنگٹن کی مشہورِ زمانہ کتاب ’تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو‘ پر بات کرلی جائے۔ 1993 میں سوالیہ نشان کے ساتھ جرنل آف فارن افئیر میں چھپنے والا سیمول ہنٹنگٹن کا یہ ارٹیکل تین برس بعد 1996 میں کتاب کی صورت میں چھپا تو چند سالوں بعد ہی ستمبر 11 کے سانحے نے گویا کتاب میں درج پیشن گوئی کو ایک زبان عطا کردی اور یوں یہ کتاب مغربی عوام کے لیے خصوصاً اور مشرق عوام کے لیے عموماً ایک تشویش ناک فکر کا سبب بن گئی۔ اس کتاب میں ایسا کیا تھا آئیں تھوڑا سا جائزہ لیتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا انسانی تہذیب کے ارتقائی سفر کے تعارف کو یوں بھی سیاسی و اقتصادی خانوں میں بانٹ کر ایک مثبت یا منفی فکر پیدا کی جاسکتی ہے؟ اور اگر واقعی یہ فکر حقیقت پر مبنی ہے تو انسانی ’تہذیب‘ کا مقدر فیصلہ کن حد تک تشویش ناک نظر آتا ہے۔

Read more

ڈیڈی۔ اپنے کمرے میں واپس آ جائیے

بس یونہی خیال آیا کمرے میں جھانک لوں کہیں سوتے میں لحاف بدن سے نہ سرک گئی ہو کہیں پنکھے کی ہوا سر پر نہ لگ گئی ہو چلو چپکے سے مفلر سر پر لپیٹ دیتا ہوں یا دھیمے سے لحاف ٹھیک کردیتا ہوں پنکھا تیز کردوں یا آہستہ؟ پردوں کو برابر کردوں یا ہٹادوں؟…

Read more

ناول ٹوٹی ہوئی دیوار ۔۔دسویں قسط

دسواں باب وقت : آٹھ بجے رات تاریخ: 8 نومبر، 2015 مقام : شاہ فیصل کالونی نمبر 5۔ کراچی جس رات شاہ فیصل نمبر پانچ تھانے پر دھاواپڑ ا تھا، اُس رات سارا علاقہ اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اُٹھا تھا۔ پہلے مولوی سلیم اللہ چار پانچ بندوں کے ساتھ ایس ایچ او سے…

Read more

درویشوں کا ڈیرہ کے مصنفوں سے ایک مکالمہ

خواب نامے (خالد سہیل اور رابعیہ الربا کے ساتھ ایک گفتگو) دوستوں کچھ دنوں قبل ایک ایسی کتاب نظر سے گزری جو کہنے کو کوئی ناول، افسانوں کا مجموعہ، شاعری، آپ بیتی یا کوئی جگ بیتی تو نہیں تھی مگر اُس میں بیک وقت ناول بھی تھا، افسانے بھی، شاعری بھی، آپ بیتی اور جگ بیتی…

Read more

ناول ٹوٹی ہوئی دیوار ۔۔ نویں قسط

وقت: دو بج کر تیس منٹ رات تاریخ: 7 نومبر، 2015 مقام: مسی ساگا۔ کینیڈا اچانک سیل کی کی وابریشن کی آوازسے ثانیہ چونک گئی، دوسری طرف دلیپ ہی تھا۔ وہی ہوا جس کی امید تھی دلیپ، اِٹس آل میسی ناؤ، مما پپا کو پتا چل گیا، اُنھوں نے ہمیں ساتھ دیکھ لیا ہے، اسٹار…

Read more

ناول ٹوٹی ہوئی دیوار ۔۔آٹھویں قسط

آٹھواں باب وقت : بارہ بجے دوپہر تاریخ: 7 نومبر، 2015 مقام : کابل، افغانستان گھر پہنچ کر واحدی نے کپڑے بدلے ہی تھے کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ دوسری طرف ایک انجانی سی آواز تھی، ”پروفیسر صاحب تمھارے بارے میں ہمیں سب پتہ ہے۔ تم کہاں رہتے ہو کیا کام کرتے ہو اور…

Read more