آہ! الحاج افضل حسین: مشرقی بہار، بھارت کی علمی و سماجی شخصیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ دنیا فانی ہے۔ ایک خاص متعینہ وقت گزارنے کے بعد ہر ذی روح کو مالک حقیقی کے پاس جانا ہے۔ ان جانے والوں میں چند شخصیات نہایت غیرمعمولی ہوتی ہیں جو اپنی کارکردگی عوامی خدمت اور سماجی سروکار سے وابستگی کی بنا پر لوگوں کے دلوں میں اپنا ایک مقام بنا لیتی ہیں۔ ایسا مقام ادب و محبت جہاں سے لوگ باگ انہیں عظمت و تکریم سے دیکھتے ہیں انسانی ذہنوں میں ایک ایسا لمس اور احساس پیدا کردیتا ہے جس سے مروت و اپنائیت کی خوشبوئیں پھوٹنے لگتی ہے۔

آج مشرقی بہار بلکہ سیمانچل علاقہ کی معروف ملی سماجی اور اصلاحی شخصیت علم دوست، علمانواز الحاج افضل حسین کا انتقال پرملال ہوگیا جن کا شمار ایسی ہی ہستیوں میں ہوتا تھا۔ آج صبح صادق تقریبا 4 بجے ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئ وہ گزشتہ دو تین ہفتوں سے بستر علالت پر تھے کل بہتر علاج کے لئے ڈاکٹر کے یہاں لے جایا گیا تھا لیکن جانبر نہ ہو سکے۔

الحاج افضل حسین کی پیدائش قدیم پورنیہ کے ارریہ شہر سے متصل گیاری گاؤں میں مرحوم منشی احمد حسین کے گھر میں 1935 میں ہوئی تھی بنیادی تعلیم گاؤں میں حاصل جبکہ اعلی تعلیم پٹنہ یونیورسٹی کے علاوہ دیگر اداروں سے حاصل کی۔ اس کے بعد ارریہ سیشن کورٹ میں پیش کار کے عہدہ پر فائز ہوئے اور نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ ملازمت سے سبکدوش ہوئے دوران ملازمت انہوں نے علاقہ کی ہمہ جہت ترقی بالخصوص تعلیمی ترقی کے لئے بہت زیادہ کوششیں کیں اور تعلیمی تحریک کا آغاز کیا۔ وہ اصلاح امت اور تعلیم کے تئیں فکر مند رہا کرتے تھے جب 1979 میں ضلع کا واحد اور پہلا اقلیتی کالج الشمس ملیہ کالج کا قیام عمل میں آیا تو وہ بانی سکریٹری کے عہدہ پر فائز ہوئے اور 1997 یعنی 18 سال تک سکریٹری کے عہدہ پر رہ کر کالج کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور ادارہ کو خون جگر سے سینچ کر جوانی بخشی۔ اس کے بعد پھر ڈگری کالج کے قیام میں بھی انہوں نے عملی اقدامات کئے اس کے علاوہ وہ دارالعلوم رحمانی زیرومائل ارریہ، پپولس کالج ارریہ کے بھی بانی اراکین میں سے تھے۔ مرحوم الشمس ملیہ کالج کے تا حیات رکن اساسی تھے۔

مرحوم نیک، خوش اخلاق، اعلی کردار، خدا ترس، علم دوست اور درد مند انسان تھے ملازمت سے سبکدوشی کے بعد تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوکر اصلاح امت اور اصلاح سماج کے لئے کوشاں رہا کرتے تھے دین مبین کی خدمت کے لئے انہوں نے شہر کے زیرومائل میں پانچ ڈسمل زمین پر ابھی حال ہی میں ایک مسجد کی بھی تعمیر کروائی ہے جس میں مذہبی تعلیم کے علاوہ علم نافع کے ساتھ جدید تعلیمی ادارہ کے قیام کے خواہاں تھے مگر اجل نے موقع نہیں دیا۔ مرحوم قرآن پاک کی صحیح قرأت کے لئے بھی تگ ودو کرتے رہے وہ اس کے لئے نورانی قاعدہ پر بھی زور دیتے تھے ان کا انتقال کسی سانحہ سے کم نہیں ہے آج ارریہ ایک سایہ دار بافیض سرپرست سے محروم ہوگیا۔ ان کی موت سے تعلیمی خسارہ واقع ہوا ہے۔ ان کی بے لوث ملی خدمات کا ثبوت ارریہ کا واحد اقلیتی ادارہ کالج الشمس ملیہ ڈگری و انٹر کالج اور دارارالعلوم رحمانی زیرومائل ہے اور ترقی کی جانب گامزن ہے اور ایک زمانہ فیضیاب ہورہا ہے۔

وہ نہایت شفیق، متین، خوش اخلاق، اعلی کردار کے مالک متقی و پرہیزگار اور داعی دین تھے۔ 1979 عیسوی میں جبکہ ضلع پورنیہ کا ایک سب ڈویژن ہوا کرتا تھا موجودہ سیمانچل کے چاروں اضلاع کٹیہار، کشن گنج اور سپول بھی پورنیہ کا ایک حصہ تھا اور ارریہ پورنیہ ضلع کا ایک سب ڈویژن تھا اس وقت سیمانچل کے اس مقہور و مظلوم خطہ کو کالا پانی کہا جاتا تھا چونکہ یہاں کے لوگ قدرتی آفات کے شکار تھے لہذا بہترین طرزندگی اور رہائش کا کوئی تصور بھی نہیں تھا مزید سیلاب کی قحط سامانی اور خشک سالی کی ستم رانیوں کے باعث لوگوں کی زندگیاں تباہی کے دہانے پر تھیں۔ لوگ باگ تعلیم و تعلم سے کافی دور تھے بلکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں محض پرائمری مڈل اور ایک آدھ ہائی اسکول تھا عموما 80 کی دہائی میں ارریہ اور قرب و جوار کے اسٹوڈنٹ ہائی اسکول بورڈ کے لئے پورنیہ جاتے تھے۔ لہذا مسافت اور دوری کی وجہ سے تعلیم کی شرح افسوسناک حد تک مایوس کن تھی اور وہ وقت مرحوم تسلیم الدین کی سیاسی اقبال مندی اور مولانا شاہ منورحسین نوّراللہ مرقدہ کی روحانی فیضیابی کا زمانہ تھا اس وقت مرحوم افضل حسین نے ارریہ کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کے لئے تحریک کا آغاز کیا اور ایک بڑے حلقہ کو اس کار نیک کے لئے تیار کیا۔

اس میں اس وقت کے دو عظیم شخصیات مرحوم تسلیم الدین اور مولانا منورحسین کو ایک اسٹیج پر لاکر تعلیمی ادارے کے قیام کے کئے راہ ہموار کرنا تھا ان کی تحریک کے باعث بالآخر 1979 میں الشمس ملیہ کالج اور دارالعلوم کی بنیاد رکھ دی گئی اور مولانا منورحسین رحمتہ اللہ علیہ نے دارالعلوم کی سرپرستی کی جبکہ مرحوم تسلیم الدین نے الشمس ملیہ کالج کے لئے ممکنہ تعاون کیا یہ مرحوم کی صلح جو خوبی تھی کہ انہوں نے دو مختلف شعبہ کے کامیاب شخصیات کو ادارے کی رہنمائی و سرپرستی کے لئے آمادہ کر لیا۔

یہی کوئی دوسال قبل کی دسمبر کی ایک سرد شام تھی جب ارریہ شہر سے متصل گیاری گاؤں رہائش پذیر سیمانچل کی معروف شخصیت مختلف ملی، سماجی اور رفاہی کے اداروں کے سرپرست الحاج افضل حسین کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ہماری یہ ملاقات محض رسمی تھی مگر دوران گفتگو جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ہم مرحوم الیاس احمد باوفا ( این ایف ریلوے) کے نواسے ہیں تو انہوں نے نہایت والہانہ انداز میں معانقہ کرتے ہوئے شفقتیں نچھاور کی اور سرگوشی کے انداز میں کہا کہ آپ کے نانا ہمارے پھوپھا زاد بھائی تھے۔ پھر رات 9 بجے گفتگو کا سلسلہ جاری رہا جس میں اس نے اصلاح امت اور علاقائی مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی اور مجھے نماز کی اہتمام کی تاکید کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہونے کی تلقین بھی کیا یہ باضابطہ ملاقات میرے لئے پہلی اور آخری ثابت ہوئی اس کے بعد کئی پروگراموں میں گاہے گاہے ملاقات ہوتی رہی اس دوران ہم ان کی خبر خیریت بھی ماموں صاحبان سے معلوم کرتے رہے۔ ارادہ تھا کہ پھر ملاقات کریں گے افسوس دوبارہ ملاقات نہیں ہونے کا بھی ہے مگر گزشتہ دنوں سے اتفاق سے کسی سے ملاقات نہیں ہو پائی تھی لہذا ان کی گرتی صحت سے بھی باخبر نہیں رہ سکے ابھی رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے شدید علیل تھے اور آج اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے

ہمہ جہت خوبیوں سے متصف مرحوم افضل حسین شہر اور ضلع کے دیگر بہت سے اداروں کے سرپرست اور رکن تھے وہ عملی اقدامات کرنے والوں کی اور مثبت اقدامات کی خوب حوصلہ افزائی فرماتے تھے چہ جائیکہ اس جماعت سے نظریاتی اختلاف ہو اس لئے وہ تمام دینی جماعتوں اور ملی تنظیموں کے لئے قابل احترام تھے زہدو تقوى اور جہد مسلسل کے پیکر مرحوم افضال حسین نے قوم کی ترقی فلاح و بہبود اور اللہ و اللہ کے رسول کی پیغامات کی ترویج و اشاعت کے لئے کوشاں رہتے تھے۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •