کیونکہ عوام چارہ نہیں کھاتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کسی بھی پارٹی کو دیکھ لیں۔ ہرپارٹی مسائل کانعرہ لگاتی ہے۔ ووٹ لیتی ہے۔ حکومت بناتی ہے۔ مسائل حل کرنے کے نام پر پانچ سال گزارتی ہے۔ اگلے الیکشن میں اپوزیشن میں چلی جاتی ہے۔ وہاں عوام کے حقوق کی حفاظت کے نام پر عرصہ پورا کرتی ہے۔ اگلے الیکشن میں پھر انہی مسائل کو حل کرنے کا نعرہ بلند کرتی ہے جو اس کے پچھلے پانچ سالے میں‘حل‘ ہوگئے تھے۔ حکومت سے اپوزیشن اوراپوزیشن سے حکومت کا سلسلہ چلتا رہتاہے مگرمسائل کی پوزیشن ’زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد‘ والی رہتی ہے۔ یہ مسائل حل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کی دووجوہات ہیں۔

ایک وجہ یہ ہے کہ فرض کریں کہ آپ کا ٹرانسپورٹ کا کاروبار ہے۔ یہ کاروبار ملک بھر میں پھیلا ہواہے۔ الیکشن جیتنے کے بعد آپ کو ریلوے کا وزیر بنادیا جاتا ہے۔ آپ کام شروع کرتے ہیں تومعلوم ہوتا ہے کہ اگر ریلوے میں بہتری آتی ہے تو لوگ اس کو ترجیح دیں گے۔ پبلک کی آمدورفت اسی سے شروع ہو جائے گی۔ سستا ہونے کی وجہ سے تجارتی سامان کی ترسیل بھی یہیں سے ہونے لگے گی۔ اس طرح ملک میں پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپوٹ کا سکوپ سکڑنے لگ جائے گا۔ اس طرح آپ کا کاروبار متأثرہوگا۔ یوں آپ کی آمدن کم ہوجائے۔ پیسے کم ہونے سے آپ کا لیونگ سٹینڈرڈ نیچے چلاجائے گا۔ آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ریلوے یا آپ کا کاروبار بیک وقت نہیں چل سکتا۔

جب یہ صورتحال ہوگی تو آپ کو کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے جو آپ اپنا کاروبار مندے میں ڈال کر پاکستان ریلوے کی بہتری کریں گے۔ پس آپ ان مسائل کو حل نہیں کریں گے کیونکہ اس طرح آپ کے مسائل بڑھ جائیں گے۔ اسی طرح اگر آپ وزیر صحت ہیں۔ آپ کی پارٹی کے کئی لوگوں کاذریعہ آمدن پرائیویٹ ہسپتال ہیں۔ میڈیسن کا بزنس بھی ہے۔ اگر آپ سرکاری ہسپتالوں کو ٹھیک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ جدید سہولیات ملناشروع ہوجاتی ہیں۔ میڈیسن کی کمی بھی نہیں ہوتی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں اورمہنگی میڈیسنز کو چھوڑ کر سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرلیں گے۔ جس دن ایسا ہوگیا۔ آپ کا پرائیویٹ ہسپتالوں اور میڈیکل سٹوروں کابزنس ٹھپ ہو جائے گا۔ اور آپ ایسا کیوں چاہیں گے۔ لہذا ان مسائل کو حل نہیں کریں گے۔

یا آپ کا سکولوں کاکاروبار ہے۔ اس فیلڈ میں آپ خوب پیسا کمارہے ہیں۔ آپ کو وزیرتعلیم بنا دیا جائے۔ آپ سرکاری سکولوں کو اعلیٰ لیول پر لے آتے ہیں۔ جب لوگوں کو اعلیٰ تعلیم مفت ملنا شروع ہو جائے گی تو آپ کے سکولوں کا رخ کون کرے؟ اس طرح آپ کاکاروبار بند ہو جائے گا۔ آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا آپ ایسا کریں گے؟ نہیں! بلکہ آپ اس وزارت کو اپنے ایجوکیشن بزنس کی وسعت کا ذریعہ بنائیں گے۔ باقی تمام مسائل کے بھی حل نہ ہونے کی وجہ ایک وجہ تو ہے۔

اب آئیے دوسری وجہ کی طرف۔ مسائل کے حل نہ ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل ان کے اپنے نہیں ہیں۔ ان کا واسطہ کبھی ان مسائل سے پڑا ہی نہیں ہے۔ اگر یہ بھی بمع فیملی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفرکرتے۔ ایک ایک سٹاپ پر گھنٹوں کھڑا رہتے۔ انہیں بھی دھکے لگتے۔ ان کے مریض بھی ہسپتال پہنچنے تک مرجاتے۔ ان کے بچے بھی رکشوں میں پیدا ہوتے۔ یہ بھی دوگنا زیادہ کرایہ ادا کرتے تب انہیں احساس ہوتا اور یوں مسئلے حل ہوجاتے۔ اسی طرح اگر یہ لوگ بھی سرکاری ہسپتالوں میں اپنے مریض لے کر جاتے۔ وہاں جا کرپتا چلتا کہ ڈاکٹر نہیں ہے۔ دوا نہیں ہے۔ آکسیجن نہیں ہے۔ آپریشن کا سامان نہیں ہے۔ ٹیسٹ کی سہولت نہیں ہے۔ ان کے مریض کے پیٹ کے اندر بھی تولیے رہ جاتے۔

ان کو بھی پرچی کٹوانے کے لیے لائن میں لگنا پڑتا۔ چیک کرانے کے لیے گھنٹا گھنٹا کھڑا ہونا پڑتا۔ ان کے اپنے بھی سسک سسک کر مرتے تو آپ بتائیں کیا یہ مسائل حل نہ ہوتے؟ اسی طرح اگر ان کے بچے بھی سرکاری سکولوں میں جاتے۔ وہ بھی واپس آکر بتاتے کہ وہاں تو کوئی سائنس ٹیچر ہی نہیں۔ آرٹس والے سائنس پڑھا رہے ہیں۔ لیب ہی نہیں ہے۔ پینے کا صاف پانی نہیں ہے۔ واش روم نہیں ہیں۔ بجلی کا مسئلہ بھی ہے۔ تو آپ ایمان سے بتائیں کیا یہ مسائل آج زندہ ہوتے؟

اب آتے ہیں حل کی طرف۔ وجوہات کی طرح مسائل کے حل بھی دو ہیں۔ ایک تو یہ ہے مسائل حل کرنے کے لیے ان لوگوں کا انتخاب کیا جائے جن کے اپنے مفادات اس فیلڈ سے وابستہ نہ ہوں۔ اگر مسائل کا حل اس کے مفادات سے ٹکرائے گا تو وہ اپنے مفادات کا بچاؤ کرے گا نہ کہ عوام کا۔ دوسراحل یہ ہے کہ جس بندے کو جس فیلڈ کا وزیر بنایاجائے۔ اسے اس بات کا پابندکیاجائے کہ وہ عملی طورپر بھی اس کا حصہ بنے گا۔ وزیر تعلیم کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھیں گے۔ وزیر ٹرانسپورٹ پبلک ٹرانسپورٹ کو ذریعہ سفربنائے گا۔ وزیرصحت سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرائے گا۔ جب ایسا ہوجائے گا تو مسائل بھی حل ہوجائیں۔

اب رہا یہ سوال کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ ہاں! ایساہوسکتا ہے مگر ایساہوگانہیں کیونکہ یہ مسائل ان سیاسی پارٹیوں کے لیے آکسیجن ہیں۔ اگر آکسیجن بندکردی جائے تو زندہ رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مسائل کی یہ آکسیجن رہے گی تو یہ پارٹیاں بھی زندہ رہیں گے۔ لہذا یہ مسائل چارہ ہیں۔ یہ چارہ ہے تو چارہ گر ہیں۔ اگر چارہ نہ رہے تویہ سسٹم ’بے چارہ‘ بن جائے گا۔ اور پاکستان کاماحول یہ ہے کہ یہاں جو ’بے چارہ‘ ہوتا ہے اسے کوئی بھی ’چارہ ’نہیں ڈالتا۔ لہذا ’ بے چارے ’ کو‘ چارہ ’چاہیے۔ بیچارہ یہی چارہ الیکشن میں استعمال کرے گا۔ جس کا چارہ زیادہ ہراہوگا۔ عوام کا ریوڑ اسی کی طرف آئے۔ یوں کھیل جاری رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیاہم اس کھیل کوسمجھ پائیں گے؟ ہاں! سمجھ توسکتے ہیں مگر؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •