ہر کھیل میں فلسفہ اور سیاست کو دخل ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 میرے ڈرامے’بساط‘ پر گفتگو کے لئے’ایوانِ وقت‘ میں منعقدہ مذاکرے میں پروفیسر شمیم خیال نے کہا:

مجھے کسی کھیل سے دلچسپی نہیں ہے لیکن پہلی دفعہ میں نے محسوس کیا کہ ہر کھیل کے پیچھے ایک فلسفہ ہوتا ہے، ہار جیت سے قطع نظر۔ سارب (مرکزی کردار) کا نقطہ نظر یہ ہے کہ آپ کامیاب اس وقت ہوتے ہیں جب آپ اپنی برتری کے لیے دوسرے کو شکست نہ دیں اور حریف آپ کا ایک حصہ ہوتا ہے جو آپ کو تصویر کا دوسرا رخ دکھاتا ہے۔ یہ بڑی اوریجنل بات ہے جو مجھے پہلی بار پتہ چلی۔ میں تو آج تک کھیل کو مردوں کی تضیع اوقات ہی سمجھتی رہی ہوں۔

مجھے یہ جان کے بہت خوشی ہوئی کہ مسز خیال کو کھیلوں کے پیچھے فلسفہ محسوس ہوا۔ میں ایک’رج کے‘ کھلنڈرا شخص تھا جس نے پتنگ بازی، کرکٹ، بیڈمنٹن، تاش، لوڈو، کیرم بورڈ اور شطرنج کھیلنے اور ہاکی، ٹینس، فٹ بال اور باکسنگ دیکھنے میں ہزاروں گھنٹے خرچ کیے تھے۔ مجھے اکثر یہ احساس ہوتا کہ اس وقت کا کم از کم کچھ حصہ کسی اور کام، مثلاً مطالعے، میں صرف ہوتا تو بہتر ہوتا لیکن پھر یہ خیال بھی آتا کہ کھیلوں میں یہ محض تفریح کا عنصر ہی نہیں تھا جو مجھے اپنی طرف کھینچتا تھا بلکہ مجھے ان میں پوری زندگی نظر آتی تھی۔ میری دانست میں ادیبوں اور سیاست دانوں کو تو بطورخاص کھیلوں میں دلچسپی لینی چاہئے کیونکہ ہر کھیل کے کچھ اصول و قواعد ہوتے ہیں جن کی پاسداری کرنا ہوتی ہے، کچھ حدود ہوتی ہیں جن کے اندر رہنا وہ آزادی فراہم کرتا ہے جس کے بغیر کوئی نیا اور منفرد کام کرنا ممکن نہیں۔ ظرف تنگنائے غزل کے اندر رہ کر ہی ایسا شعر کہا جا سکتا ہے جو زمان و مکان سے ماورا ہو۔

شطرنج کے کھیل سے میں نے یہ سیکھا کہ جیتنے کے لیے کھیلنے سے ہارنے کا خطرہ آغاز ہی سے سر پر منڈلانے لگتا ہے جبکہ ہار سے بچنے کے لیے کھیلا جائے تو جیت کا امکان آخر تک رہتا ہے۔ ہر چال کا کم از کم ایک صحیح جواب ہوتا ہے۔ اگر آپ غلطی نہ کریں تو کبھی نہیں ہار سکتے اور اگر آپ کا حریف بھی غلطی نہ کرے تو وہ بھی نہیں ہارے گا، لہذا بازی برابر ہو گی۔ آپ کے غلطی نہ کرنے کے باوجود اگر آپ کا مد مقابل جیتنے کی کوشش کرے تو یہی غلطی اس کی ہار کا باعث بن جائے گی۔ سو مقابلہ کسی بھی نوعیت کا ہو، اپنی صلاحیتوں کو آزمانے اور بڑھانے کے لیے اور کسی مثبت مقصد کے لیے کرنا چاہئے، جیتنے اور مخالف کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں۔

ہر اچھی چال اپنے مقابل کی چال کا نہ صرف توڑ ہوتی ہے بلکہ اُس کی حقیقت کا دوسرا رخ بھی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک بات مخالف کی بات کو نہ صرف رد کرتی ہے بلکہ اُس میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ ملاقات یا مذاکرات بھی ایک طرح کی شطرنج کی بازی ہوتی ہیں۔ ہر بات کے کئی موزوں جواب ہو سکتے ہیں مگر ایک وقت میں ایک ہی دیا جا سکتا ہے۔ اب اِس جواب کے کئی مناسب جواب ہوسکتے ہیں مگر اُن میں سے ایک چنا جاتا ہے۔ اِس طرح ہوتے ہوتے یہ امکانات کم ہوتے جاتے ہیں اور آخر وہ مقام آ جاتا ہے جب ایک بات کا ایک ہی درست جواب ہوتا ہے۔ یہاں فریقین میں سے کوئی ایک دوسرے کا قائل ہو جاتا ہے یا دونوں ایک دوسرے کی باتوں کے سچ کو تسلیم کر لیتے ہیں۔

انفرادی چالیں سوجھنا بڑا کھلاڑی بننے کے لیے کافی نہیں۔ اصل بات اُن کی باہمی اہمیت کو سمجھنا اور انہیں ایسی ترتیب دینا ہے کہ ہر چال اپنے سے پہلی چال کا ناگزیر نتیجہ ہو۔ ابتدائی کھیل اچھے اختتام کی داغ بیل ڈالے اور اختتامی کھیل ابتدائی کھیل کی خوبصورتی اور محنت پر پانی نہ پھیر دے۔ کسی مقابلے میں ذہانت کی جلوہ گری سے زیادہ اعصاب کی مضبوطی، حوصلے کی بلندی اور طبیعت کی دلجمعی چاہیے۔ مگر اِن سب سے بڑھ کر ایک بات اور بھی ہے جو فیصلہ کن ہے__یہ یقین کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں، اچھا ہے، درست ہے۔

میں نے کبھی ہاکی نہیں کھیلی، نہ فٹ بال، لیکن یہ کھیل دیکھے بہت ذوق شوق سے۔ ان میں وہ جیومیٹری بھی نظر آتی جو کیرم اور بیڈ منٹن کھیلتے ہوئے یا پتنگ بازی میں ملحوظ رکھنا پڑتی اور وہ حکمت عملی بھی جو شطرنج اور سیاست سے مختص ہے۔ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہونے کے ناتے ویسے بھی ہمارے لیے کھیل سے کچھ زیادہ رہی۔ بھارت سے میچ ہمیشہ ترائن کے میدان میں ہوتا تھا۔ گول یعنی مقصد کے حصول کے لیے تین  strategiesکو نمایاں پایا۔ ایک تو سیدھا سادہ ’اتفاق میں برکت ہے‘ والا طریقہ کہ ساتھی ایک دوسرے کی طرف گیند پھینکتے ہوئے گول تک پہنچ جائیں۔ دوسرے طریقے کو موقع شناسی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ جب اپنے علاقے میں گھمسان کا رن پڑا ہواس وقت اگر گیند ہاتھ لگ جائے تو اسے اچھال کر مخالف ٹیم کے علاقے میں، جو قدرے خالی ہوتا ہے، پھینک دیا جائے۔ وہاں پہلے سے مستعد اپنا کوئی ساتھی اسے اچک لے اور سکور کر دے۔ تیسرا طریقہ اطراف سے ’حملہ‘ کرنا ہے۔ رائٹ یا لیفٹ آﺅٹ، بیرونی لکیر کے ساتھ ساتھ گیند کو لے کر ’میدانِ جنگ‘ کے آخری کونے تک لے جاکے اپنے ساتھی یا ساتھیوں کے حوالے کر دے جو گول کے بہت نزدیک پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے خالد محمود، شہناز شیخ اور سمیع اللہ اس manoeuver کے لئے بہت معروف تھے۔ سننے میں آیا کہ ایک موقع پر خالد کی ہاکی چیک کی گئی ، یہ دیکھنے کہ لئے کہ وہ اس پہ کوئی ایسی چیز تو نہیں لگاتا جو گیند کو مقناطیس کی طرح اپنے ساتھ چپکائے رکھتی تھی۔

شطرنج کے برعکس، ہاکی اور فٹ بال میں ’حملہ آور‘ ہونا ہی بہتر دفاع ہے۔ دفاعی کھیل کھیلنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کھیل زیادہ تر آپ کے علاقے میں ہوتا ہے لہذا آپ کے خلاف گول ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ سیاست کے میدان میں یہ دیکھتے رہنا ضروری ہے کہ صورت حال کب شطرنج کی بازی کی مماثل ہے اور کب ہاکی /فٹ بال کا گراﺅنڈ ۔

کرکٹ، بالخصوص ٹیسٹ کرکٹ، مجھے شطرنج کی طرح نظر آتی ؛ زندگی کی طرح ،بیشتر اوقات اتنی سست جیسے کچھ ہو ہی نہ رہا ہو۔ یہ دونوں کھیل نہ صرف کھیلنے والوں کو بلکہ دیکھنے والوں کو بھی صبر اور تحمل سے کام لینا سکھاتے ہیں۔ بطور بیٹسمین سیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہر گیند پہ سکور کرنے کی کوشش اننگز کے جلد خاتمے کا باعث بن جاتی ہے۔ کچھ گیندوں کو صرف روکنا اور کچھ کو جانے دینا بھی قابل داد ہوتا ہے۔ بیٹسمین کا پہلا ہدف آﺅٹ نہ ہونا ہے۔ یہ سب سے ضروری ہے، اس کے لیے بھی اور اس کی ٹیم کے لیے بھی۔ میرے دوست جاوید اعوان نے ایک دن کہا کہ بیٹسمین کریز پر کھڑا رہے تو سکور خود بخود ہوتے ہیں، اس کے بلے سے لگ کر نہیں تو نو بال، وائڈ، بائی اور لیگ بائی کی صورت میں۔ یہ بات گرہ سے باندھنے وا لی ہے۔ گیند لگنے یا بھاگتے ہوئے گرنے سے بعض اوقات بیٹسمین اتنا زخمی ہو جاتا ہے کہ دوبارہ کریز پر نہیں آ سکتا۔ اسے یہ حادثہ اچھا سکور کرنے کے بعد پیش آئے تو اس کے حق میں جاتا ہے ورنہ اسے ان گیندوں پہ حسرت رہتی ہے جو’بِن کھیلے‘ رہ گئیں۔ بولر کو تیر بہ ہدف گیندیں پھینکنی چاہئیں لیکن کبھی کبھار باونسر کرانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی ڈھیلی گیند بھی پھینک دینی چاہیے۔ بعض اوقات جما ہوا بیٹسمین مشکل گیند کی بجائے توقع سے زیادہ آسان گیند پہ آوٹ ہو جاتا ہے۔

سیاست میں داو پیچ کا ذکر آتا ہے جبکہ پتنگ بازی نام ہی پیچ لڑانے کا ہے۔ ڈور کی مضبوطی اور کاٹ؛ کھلاڑی کا تجربہ، فن اور اعتماد؛ ڈور فراہم کرنے والے، یعنی پنا یا چرخی پکڑنے والے کا ہنر؛ سب اپنی اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہوا پر بھی بہت کچھ منحصر ہوتا ہے۔ پیچ کے دوران ہوا کی رفتار یا رخ میں تبدیلی جیت کو ہار اور ہار کو جیت میں بدل دیتی ہے۔ چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی، بیشتر رہنماﺅں کا رہنما اصول ہے۔

سیاست کو لوڈو کی زبان میں ’سانپ سیڑھی کا کھیل‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سیاست دانوں کو سیڑھیاں بھی میسر آتی ہیں اور سانپ بھی ڈستے ہیں۔ سب سے خوفناک سانپ نناوے کے خانے پہ ہوتا ہے۔ اس کے ڈسے کو کھیل تقریباً از سر نو شروع کرنا پڑتا ہے۔ لوڈو کا دوسرا کھیل چار چار گوٹیوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ مقابلہ دو کھلاڑیوں میں بھی ہو سکتا ہے اور دو دو کی دو ٹیموں کے مابین بھی۔ اس میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کونسی گوٹی کب اور کتنا آگے بڑھائی جائے اور کسے ان کے دفاع کے لیے پیچھے محفوظ مقام پہ بٹھایا جائے۔ اگر مخالف بیرئر لگا دے، یعنی رکاوٹ کھڑی کر دے، تو اسے توڑنے یا پھلانگنے کے لیے ویسا ہی بیرئر بنانا پڑتا ہے۔

سیاسی لوگوں کے لیے باکسنگ رنگ سے یہ پیغام جاتا نظر آیا کہ مد مقابل اگر قوی ہو تو یا اس کی پہنچ کے دائرے سے دور رہو یا اتنا قریب کہ وہ ضرب نہ لگا سکے۔ اگر شکست یقینی نظر آئے تو کوشش کرنی چاہیے کہ پوائنٹس پہ ہارا جائے، ناک آﺅٹ ہوجانے کی بجائے۔اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ چہرے کو بچاتے ہوئے دو ایک گھونسے کھا کے حریف سے بغل گیر ہو جایا جائے تاکہ ریفری اس سے ’باعزت‘طور پہ الگ کر دے اور آپ کو دم لینے کا ایک اورموقع مل جائے۔ اس دوران میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مخالف آپ کو کمزور سمجھ کے اپنے دفاع سے قدرے لاپروا ہو جائے اور آپ کو جلد ہرانے کی کوشش میں پے درپے وار کر کے اپنی قوت خرچ کر دے۔ اب آپ کو یہ موقع بھی مل سکتا ہے کہ اسے کاری ضرب لگا کے  ناک آﺅٹ کر دیں۔ محمد علی نے اس ٹیکنیک پہ عمل پیرا ہو کر اپنے سے زیادہ قوی اور جوان تر باکسر جارج فورمین کو شکست دی تھی۔

محمد علی سے میں نے یہ بھی سیکھا کہ کھیل، یا کوئی بھی مشغلہ، تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بڑے اور اچھے مقصد کے حصول کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، اور بننا چاہئے۔ محمد علی کی کامیابیوں اور گفتگوﺅں نے کمتر سمجھی جانے والی قومیتوں اور گروہوں کا سماجی مرتبہ بہتر کرنے میں قابل تحسین کردار ادا کیا۔ اپنے کسی عمل کو کسی بلند تر مقصد سے منسلک کر ناخفتہ صلاحیتوں کے بیدار ہونے اوراضافی قوتوں کے پیدا ہو نے کا باعث بن کے کامیابی کے امکانات میں بھی اضافہ کر دیتا ہے۔ اور ایسے میں ،مجھے بارہا یہ احساس ہوا ہے ،کچھ غیر مرئی قوتیں بھی کھلاڑی کی معاونت کرتی ہیں۔

(زیر تصنیف کتاب، ’ایک شاعر کی سیاسی یادیں‘ سے اقتباس)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •