سٹیج یا کتاب؟

میں نے اپنی پہلی نظم گیارہ سال کی عمر میں لکھی۔ اپنے والد ناصر کاظمی اور ان کے دوستوں کی حوصلہ افزائی مجھے تحریک دیتی رہی۔ میں اس وقت سے باقاعدگی کے ساتھ شاعری کر رہا ہوں۔ کالج کے نصاب میں شامل ڈراموںنے میرے سامنے ایک نیا جہان وا کر دیا۔ اس ہیئت سے مسحور…

Read more

مانوس اجنبی

1975ء کی سردیاں تھیں۔ میں نے ایم اے کا امتحان دے رکھا تھا اور نتیجہ آنے میں ابھی مزید کئی ماہ باقی تھے۔ ہمارے ہاں بیشتر امتحانات اور ان کے نتائج کے درمیان کم از کم دو موسموں کا وقفہ ضرور ہوتا ہے۔ شاید اس کے پیچھے یہ حکمت ہے کہ طلباء کو پیش آنے…

Read more

ہر کھیل میں فلسفہ اور سیاست کو دخل ہے

 میرے ڈرامے’بساط‘ پر گفتگو کے لئے’ایوانِ وقت‘ میں منعقدہ مذاکرے میں پروفیسر شمیم خیال نے کہا: مجھے کسی کھیل سے دلچسپی نہیں ہے لیکن پہلی دفعہ میں نے محسوس کیا کہ ہر کھیل کے پیچھے ایک فلسفہ ہوتا ہے، ہار جیت سے قطع نظر۔ سارب (مرکزی کردار) کا نقطہ نظر یہ ہے کہ آپ کامیاب…

Read more