جاوید اقبال اعوان سے آخری ملاقات

لاہور جانا ہوتا ہے تو مادر علمی گورنمنٹ کالج، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ہے، میں حاضری دینا تقریباً لازمی فریضہ ہوتا ہے۔ بالعموم شعبہ اردو کے زیر اہتمام طلبہ سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی ہوا۔ چونکہ یہ ناصر کاظمی کی سو سالہ ولادت کا سال ہے لہذا تقریب، جس کی منتظم صدر شعبہ اردو ڈاکٹر صائمہ ارم تھیں، ’ناصر کاظمی صدی سیمینار‘ کے زیر عنوان 17 اپریل کو ہوئی۔ تقریب سے

Read more

عید کا تحفہ: حفیظ جوہر کی کلیات

  باصر سلطان کاظمی لاہور جانا ہوتا ہے تو مادر علمی گورنمنٹ کالج، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ہے، میں حاضری دینا تقریباً لازمی فریضہ ہوتا ہے۔ بالعموم شعبہ اردو کے زیر اہتمام طلبہ سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی ہوا۔ چونکہ یہ ناصر کاظمی کی سو سالہ ولادت کا سال ہے لہذا تقریب، جس کی منتظم صدر شعبہ اردو ڈاکٹر صائمہ ارم تھیں، ’ناصر کاظمی صدی سیمینار‘ کے زیر عنوان 17 اپریل

Read more

میں کیسے لکھتا ہوں

میرے والد، ناصر کاظمی، ایک معروف شاعر تھے۔ تقریباً چار برس کی عمر میں، ایک دن اپنے صحن میں لگے پودوں کو دیکھتے ہوئے میں نے کہا: ”پاپا، پتّے!“ حنیف رامے صاحب کا بیان ہے کہ اس روز ناصر نے دوستوں کو بتایا کہ اس کے بیٹے نے اپنی پہلی نظم کہہ دی ہے۔ تمام زندہ مخلوقات کے لیے تخلیقی ہونا لازم ہے۔ یہ نہ صرف ان کی نشو و نما بلکہ بقا کے لیے ضروری ہے۔ اپنی خوراک ڈھونڈنے

Read more

ناصر کاظمی کا انتخاب داغؔ اور میرا سفر

(1) داغؔ کے متعدد اشعار پسند کرنے کے باوجود میں انہیں اپنے پسندیدہ شعرا میں شامل نہیں کرتا تھا۔ ہمارے نصاب پر میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ چھائے ہوئے تھے ؛ کالج میں فیضؔ اور راشدؔ کے چرچے تھے اور گھر میں ناصرؔ استاد کی صورت میں موجود تھے۔ میرے نزدیک بڑی شاعری کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں کہ اسے سن کے منہ سے آہ نکلے یا واہ، اسے سمجھنے کے لیے کوشش کرنا پڑتی ہو اور بعض مقامات پر شارحین

Read more

مانوس اجنبی دوسری آمد

میرا نثری ڈراما ’بساط‘ اپریل 1987 میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔ کتاب میں میری ایک کہانی ’مانوس اجنبی‘ بھی شامل تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح شطرنج کی ایک کتاب سے نمودار ہونے والا کردار مصنف کے لیے یہ ڈراما لکھنے کا محرک اور رہنما بنا۔ کہانی ’مانوس اجنبی‘ 6 اگست 2019 کو ’ہم سب‘ میں بھی شائع ہوئی۔ بساط کے بارے میں میرے دوست جاوید فیض (مرحوم) کی رائے تھی کہ یہ شاعری ہے۔ حنیف

Read more

پاکستان کی عدالتوں میں ناصر کاظمی کا مقدمہ

مرزا غالب کے اس مقدمے کا بہت ذکر ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی پنشن کے حصول کے لیے لڑا۔ جدید زمانے کے شاعر ناصر کاظمی کو بھی ایک مقدمے کا سامنا کرنا پڑا جس سے وہ اپنی زندگی کے آخری گیارہ برس نبرد آزما رہے اور جو ان کی وفات کے بعد ان کے اہل خانہ نے مزید اکیس برس جھیلا۔ اس نے ہمیں ملک کی تقریباً ہر عدالت دکھائی؛ سیٹلمنٹ کے بعد ہائی کورٹ کے سنگل اور ڈویژن

Read more

ناصر کاظمی کی ’سر کی چھایا‘

(1) بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے غالب کا یہ شعر عموماً غزل پر نظم کی برتری ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے حالانکہ یہاں خیال اور ہیئت کے ناگزیر رشتے کی بات کی گئی ہے۔ ہر سچے فن کار کے ہاں خیال اپنی ہیئت کا تعین خود کرتا ہے۔ جو بات نظم میں کہی جا سکتی ہے وہ نظم ہی میں کہی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی

Read more

ناصر کاظمی کی ”پہلی بارش“

(8 دسمبر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش ہے) (1) میں سکول میں پڑھتا تھا۔ نیا نیا شعر کہنا شروع کیا تھا۔ ایک محبوب مشغلہ پاپا کی غیرموجودگی میں، ان کے کمرے میں، ہر قسم کے نئے اور پرانے رسالے ’کھنگالنا‘ تھا (غیرنصابی کتابیں پڑھنے کا دور ابھی نہیں آیا تھا) ۔ ایک روز ’نیا دور‘ کے دو مختلف شماروں میں پاپا کی کئی غزلیں ایک ساتھ ملیں۔ ان کے بارے میں انوکھی بات یہ تھی کہ یہ سب کی سب

Read more

روبوٹ 420 (ایک ایکٹ کا ڈراما)

(پیشکار تھیٹر کمپنی (Peshkar) نے یہ ڈرامہ جون۔ جولائی1992ءمیںورنتھ پارک اولڈہم (Werneth Park, Oldham) اور ابراہم موس سنٹر چیتم ہل، مانچسٹر (Abraham Moss Centre Cheetham Hill, Manchester) میںپیش کیا۔ یہ جین کریو (Jan Crew) کے کھیل Robot TS137 سے ماخوذ ہے۔ ]) کردار مرزا نادرہ (بیگم مرزا) روبوٹ مسٹر اور مسز چوہدری پہلا منظر (مرزا کا گھر۔ مرزا ایک آرام کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہے۔ نادرہ کی آواز سنائی دیتی ہے) نادرہ: میں تو تنگ آچکی ہوں۔ ایسے

Read more

پاکستان میں ٹیلیویژن کے پہلے پانچ سال: چند یادیں

پاکستان میں ٹیلیویژن سروس کا آغاز 1964 میں لاہور سے ہوا ۔ تب میری عمر گیارہ برس تھی۔ یہ سن کر حیرت ہوتی کہ اب تک ہم ریڈیو کے ذریعے دور بیٹھے ہوئے جن لوگوں کی باتیں سنتے تھے اب انہیں بات کرتے دیکھ بھی سکتے تھے، بلکہ وہ سب کچھ دیکھ سکتے تھے جو سنیما ہاﺅس میں دکھائی جانے والی فلموں میں دیکھتے تھے۔ فلم کے معاملے میں میرا تجسس کافی کم ہو چکا تھا۔ میرے ننھیال ساہیوال (

Read more

ساجد علی کی سترویں سالگرہ اور دوستی کی گولڈن جوبلی

سال رواں میرے لیے دو باتوں کی بنا پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ساجد علی کی سترویں سالگرہ ہے اور ہماری دوستی کی گولڈن جوبلی۔ اس موقع پر اس گولڈن رفاقت کی چند جھلکیاں پیش کر رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ساجد کے جاننے اور چاہنے والے انہیں دلچسپ بھی پائیں گے اور ان میں کچھ نیا بھی۔ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں سال سوم کا طالب علم تھا۔ ایک دن بخاری آڈیٹوریم کی طرف جا رہا تھا۔ بک

Read more

ناصر کاظمی کا مثالی معاشرہ

(آج ناصر کاظمی کی برسی ہے) ناصر جس معاشرے کا حصہ تھے اس کے مسائل، اس کی ترقی اور اس کی بدلتی ہوئی اقدار میں ان کی دلچسپی آخری سانس تک قائم رہی۔ میں ایک جگہ بیان کر چکا ہوں کہ اپنی زندگی کی آخری شام، طبیعت کی بے انتہا خرابی کے باوجود، وہ یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو اس شام زرعی اصلاحات میں کن اقدامات کا اعلان کرنے والے تھے۔ اس

Read more

نئی زندگی: (ایک ایکٹ کا ڈراما)

کردار                 شفیق احمد (عمر 62 سال) ایک متوسط گھرانے کا سربراہ                 فہمیدہ احمد (عمر 58 سال) شفیق کی بیوی                 رفیق احمد (عمر 23 سال ) ان کا بیٹا                 مجید علی: رفیق کا ہم عمردوست                 مقام: مانچسٹر                 (نومبر2007کی ایک رات۔ شفیق اور فہمیدہ اپنے گھر کے بیرونی کمرے میں صوفوں پر بیٹھے ہیں۔ ) شفیق :     بہت تنگ کیا ہے اس نے۔ ۔ نالائق، نافرماںبردار۔۔۔ فہمیدہ :    کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ شفیق:

Read more

ناصر کاظمی کا انتخاب انیسؔ: ایک تعارف

(1) ایک دن پاپا نے کہا کہ میر انیسؔ کے کچھ شعر پڑھ کے توایسا لگتا ہے جیسے امام حسین ؑ نے اسے خواب میں آ کے لکھوائے ہوں۔ اس وقت انہوں نے جو شعر سنائے وہ بہت عرصہ مجھے یاد رہے۔ کاش میں انہیں نوٹ کر لیتا۔ پاپا انیسؔ کے ایک مرثیے کا مصرع، اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے، اور ایک سلام کا یہ شعراکثر پڑھا کرتے تھے: در پہ شاہوں کے نہیں جاتے

Read more

شریک درد (ایک ایکٹ کا ڈراما)

کردار وحیدہ (عمر 48 سال) ایک بیوہ راشد (عمر 24 سال) اس کا بیٹا جمیلہ (عمر 26 سال) اس کی بیٹی [فروری 1993، جمعہ 5 بجے شام۔ شمالی انگلستان کا ایک شہر۔ وحیدہ اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں ایک صوفے پر سستا رہی ہے۔ دروازے کا تالا باہر سے کھولے جانے کی آواز آتی ہے۔ دروازہ کھلتا ہے اور راشد اندر داخل ہوتا ہے۔ ] راشد: اتنی خاموشی؟ ٹمی اور جینا کہاں ہیں؟ وحیدہ : ابراہیم صاحب کے گھر

Read more

’نے ناشنیدہءغالب‘ اور ناصر کاظمی

مرزا غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر پٹنہ میں مقیم ایڈوکیٹ اکبر رضا جمشید نے غالب کے غیر متداول اشعار کا ایک مجموعہ مرتب کیا جو ’نے ناشنیدہءغالب‘ کے نام سے جنوری 1969میں شائع ہوا۔ اگست میں اس کی ایک کاپی مدیر ’ادب لطیف‘ لاہور کو برائے تبصرہ بھیجی گئی جو انہوں ناصر کاظمی کو دی۔ صفحہءاول پر کتاب کے عنوان کے نیچے غالب کا یہ شعر درج ہے: ہرگز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہ

Read more

سٹیج یا کتاب؟

میں نے اپنی پہلی نظم گیارہ سال کی عمر میں لکھی۔ اپنے والد ناصر کاظمی اور ان کے دوستوں کی حوصلہ افزائی مجھے تحریک دیتی رہی۔ میں اس وقت سے باقاعدگی کے ساتھ شاعری کر رہا ہوں۔ کالج کے نصاب میں شامل ڈراموںنے میرے سامنے ایک نیا جہان وا کر دیا۔ اس ہیئت سے مسحور ہو کر مجھے ڈرامے لکھنے کی تحریک ہوئی۔ میں کھیلوں کا ایک پرجوش شیدائی بھی تھا اور شطرنج، کرکٹ اور بیڈمنٹن کھیلتا تھا۔ مجھے شطرنج

Read more

مانوس اجنبی

1975ء کی سردیاں تھیں۔ میں نے ایم اے کا امتحان دے رکھا تھا اور نتیجہ آنے میں ابھی مزید کئی ماہ باقی تھے۔ ہمارے ہاں بیشتر امتحانات اور ان کے نتائج کے درمیان کم از کم دو موسموں کا وقفہ ضرور ہوتا ہے۔ شاید اس کے پیچھے یہ حکمت ہے کہ طلباء کو پیش آنے والی ممکنہ بیروزگاری کے لیے تیاری کرا دی جائے۔ مجھے ایک تو لکھنے پڑھنے سے کچھ شغف ہے، دوسرے شطرنج کا شوق ان دنوں جنون

Read more

ہر کھیل میں فلسفہ اور سیاست کو دخل ہے

 میرے ڈرامے’بساط‘ پر گفتگو کے لئے’ایوانِ وقت‘ میں منعقدہ مذاکرے میں پروفیسر شمیم خیال نے کہا: مجھے کسی کھیل سے دلچسپی نہیں ہے لیکن پہلی دفعہ میں نے محسوس کیا کہ ہر کھیل کے پیچھے ایک فلسفہ ہوتا ہے، ہار جیت سے قطع نظر۔ سارب (مرکزی کردار) کا نقطہ نظر یہ ہے کہ آپ کامیاب اس وقت ہوتے ہیں جب آپ اپنی برتری کے لیے دوسرے کو شکست نہ دیں اور حریف آپ کا ایک حصہ ہوتا ہے جو آپ

Read more