بھینس کی وزیراعظم پاکستان سے گزارشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترم وزیراعظم،

میں پڑھی لکھی نہیں ہوں، مگر پچھلے کئی برسوں سے وزیراعظم ہاؤس میں رہائش نے اقتدار کی کئی بھول بھلیوں کے راز مجھ پر افشاں کیے ہیں۔ بہت سے وزرائے اعظم کوآتے اور جاتے دیکھا ہے۔ یہ خط میں شبو سے لکھوا رہی ہوں، شبو ہمارے گروہ کی پڑھی لکھی بھینس ہے۔ ہم سب کو حالات حاضرہ سے بھی وہی باخبر رکھتی ہے۔ جب میں نے خط لکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو مایوسی سے کہنے لگی کوئی فائدہ نہیں! یا تو یہ خط منزل مقصود تک پہنچے گا نہیں اور پہنچ بھی گیا تو جواب نہیں ملے گا۔ پھر بھی چند گزارشات آپکی بارگاہ میں پیش کرنے جارہی ہوں۔

اسلم چچا جو ہماری دیکھ بھال کرتے ہیں بتا رہےتھے ہمیں فروخت کیا جارہاہے۔ اخبار میں ٹینڈر تک چھپ چکا ہے۔ شبو نے ہی تمام بھینسوں کو سمجھایا کہ ہماری سرعام بولی لگے گی۔ سب سے زیادہ رقم دینے والا ہمیں لے اڑے گا۔ اس خبر کے بعد سے اکثر بھینسوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ کچھ جو ذرا سینیر ہیں غمگین ہیں۔ کہ اب ہم سب کو جدا ہونا ہوگا۔ شاید دوبارہ کبھی ایک دوسرے کو دیکھ بھی نہ سکیں۔ کیا پتہ نصیب کس کو کس شہر اور کن حالات میں لے جائے۔ میں تو دعا گو ہوں کہ ہماری تصاویر کسی اخبار وغیرہ میں نہ چھپیں۔ وگرنہ آپ ہی سوچیں کس قدر بدنامی ہوگی۔

سنا ہے آپ خود کو نوجوان اور یوتھ کا نمائندہ محسوس کرتے ہیں۔ لہذا سوچا آپ کو بزرگوں کی اخلاقی اقدار سے ہی روشناس کرادوں۔ جناب اچھے گھرانوں میں بھینسوں کو باقاعدہ خاندان کا اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ کون کتنا کھاتا پیتا ہے، کتنا خاندانی ہے اس کا اندازہ اسکے پاس بھینسوں کی تعداد سے بھی لگایا جاتا ہے۔ عام طور ہر بھینسیں خاندانوں کا اثاثہ ہوا کرتی ہیں اور اثاثہ جات فروخت کرنے کے بجائے بنائے جاتے ہیں۔ ان میں کمی کرنے کے بجائے اضافہ کیا جاتا ہے۔ آپ خدارا ہمیں یوں بے گھر نہ کریں۔ اس عمر میں ہمارے لیے کہیں اور آشیانہ بنانا، خود کو کسی اور مالک کا عادی کرنا خاصا دشوار گزار ہوگا۔ شاید آپ وطن عزیز میں بھینسوں کے ساتھ ہونے والے سلوک سے واقف نہیں۔ جب سے یہ نیلامی والی خبر سنی ہے کٹو تو مسلسل روئے جارہی ہے۔ اسکی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر ہم سب کا دل بھی بیٹھا جارہا ہے۔

محترم وزیراعظم، یوں کسی بھی سنگدل کے ہاتھوں فروخت کرنے سے بہتر ہے ہمیں سرعام پھانسی پر لٹکادیں۔ ہاں شبو، کٹو اور خوشبو کیلیے کچھ اور سوچنا پڑے گا رسہ انکے وزن کا بوجھ برداشت نہیں کرسکے گا۔ آخر آج تک انکا تعلق کھاتے پیتے گھرانے سے ہے۔ اب ہمارے جسموں میں صرف چند کلو دودھ کی خاطر زہر کے ٹیکے اتارے جائیں گے۔ یہ سوچ سوچ کر میرا نازک سا دل پھٹا جارہا ہے۔ میری تو آپ سے التجا ہے خدارا ان انجکشنوں پر کسی طرح سے مکمل طور پر پابندی لگوادیں۔ ان سے ہمارا جسم تو چھلنی ہوتا ہی ہے دودھ پینے والے افراد بھی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

جناب اعلیٰ، شکور جو ہمیں نہلانے کا بندوبست کرتا ہے، اسلم چچا سے کہہ رہا تھا نیا وزیراعظم مہمانوں کو صرف چائے اور بسکٹ ہی پروستا ہے۔ اب لمبے لمبے دسترخوان وزیراعظم ہاؤس میں نہیں سجتے۔ سرکار خالص اور اچھا دودھ تو چائے کیلیے بھی درکار ہوتا ہے۔ سوچیے جب ہم نہیں رہیں گی تو دودھ باہر سے منگوانا پڑے گا۔ اس کے لیے الگ سے ٹینڈر نکلے گا۔ پھر کرپشن ہوگی، پھر سفارش لگے گی۔ ان سب کے بعد جو دودھ وزیراعظم ہاؤس میں آئے گا، درجہ دوئم کا ہوگا۔ مہمانوں کو چائے تک اگر ڈھنگ کی نہ ملی تو کیا سوچیں گے؟ جناب ہمارا تو گوبر تک استعمال میں آتا ہے۔ دنیا ہمارے گوبر سے بایو گیس، بجلی،ادویات اور نہ جانے کیا کیا بنا رہی ہے۔ سوچتی ہوں آپ کے اس جبر کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے بھی رابطہ کر ہی لوں۔ جس عمر میں آرام کرنا تھا اس عمر میں اب مجھے نیلام کرکے بے توقیر کیا جارہا ہے۔ آخر مہذب دنیا میں جانوروں کے بھی حقوق ہوا کرتے ہیں۔ آپ نے تو غربا کو گھر دینے کا اعلان کیا ہے۔ تو پھر آپ کیسے ہم معصوم بھینسوں کو بے گھر کرسکتے ہیں؟ ذرا رحم کیجیے۔

وزیراعظم ہاؤس کی ان پڑھ بھینس،

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں