پاکستان میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ڈیم بنایا جا سکتا ہے
1):۔ چونکہ یہ ڈیم اسکردو۔ بلتستان میں واقع ہے جسے اقوام متحدہ متنازعہ علاقہ قرار دیتی ہے اور عالمی ادارے ورلڈ بنک۔ ایشین بنک کی پالیسی کے مطابق متنازعہ علاقوں میں پراجیکٹ فنانسنگ نہیں کی جاتی۔ یعنی یہ ڈیم بھی خود بنانا پڑے گا یا پھر چین وغیرہ کے پاؤں پڑنا پڑے گا کہ وہ یہ ڈیم بنا کر پاکستانیوں پر ایک احسان ہی کر دیں۔ چین نے جب اسی طرح کا تھری گارجس ڈیم 2015ء میں بنایا تھا اس وقت اس پر 32 ارب ڈالرز خرچ ہوئے تھے جبکہ اس کی گنجائش بھی 32 ملین ایکڑ فٹ تھی اور یہ 35 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ نیز چین میں ڈیم بنانا ذرائع آمد و رفت کی آسانی، مشینری کی فراہمی، خلوص نیت اور محنت کے ذریعہ حلال کمائی کی وجہ سے بہت آسان ہے جبکہ ہم پاکستانیوں کے پاس ان میں سے کچھ بھی ملنا ممکن نہیں ہے۔
2):۔ اسکردو سے اس ڈیم کی مجوزہ سائیٹ تک پہنچنے کے لئے ایک چار رویہ بڑی سڑک بنانی پڑے گی جو سارا سال چلتی ریے کیونکہ موجودہ دو رویہ سڑک سال میں ویسے ہی 6/7 مہینے برف باری کی وجہ سے بند بھی رہتی ہے۔ دوسرا اس کی حالت بھی پاکستان کی دوسری سڑکوں کی طرح اتنی پتلی ہے کہ یہ تعمیراتی مشینری کا وزن بھی برداشت نہیں کر سکتی
3):۔ واپڈا کے انجینئیرز کی پشین گوئی ہے کہ اس کٹ ذرہ ڈیم کے بننے سے پوری اسکردو اور شگر وادیاں پانی میں ڈوب جائیں گی۔ جس کے بارے میں دوسرے انجینئیرز فی الحال خاموش ہیں کہ ایسا ہونا کیسے ممکن ہوگا۔ مگر چونکہ اسکردو وادی اس مجوزہ ڈیم سائیٹ سے نشیب میں واقع ہے تو ایسا ہونا ناممکن بھی نہیں ہوگا۔
4):۔ واپڈا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ڈیم کے بننے سے پانی کی سطح اونچی ہو جائے گی جس سے 13 ہزار 5 سو ہیکٹر (یعنی 33 ہزار 350 ایکڑ) رقبے پر پھیلے پھلوں کے باغات اور زرعی زمین زیر آب آ جائے گی۔ ظایر ہے کہ جب ڈیم بنتے ہیں تو جھیل کے پانی کی وجہ سے بہت سے علاقوں کو خالی کروایا جاتا ہے اور جھیل بنائی جاتی ہے۔ البتہ یہاں ہم بنجر زمین کو خالی کروانے کی بات نہیں کر رہے بلکہ ایک وسیع رقبہ پر پھیلے فروٹ / پھلوں کے باغات کی تباہی کی بات کر رہے ہیں جن کا متبادل ملنا بہت مشکل ہوگا۔
5):۔ اتنے بڑے علاقہ سے نقل مکانی کرنے والوں کو متبادل جگہوں پر آباد کرنے کے لئے متبادل جگہیں بھی میسر نہیں ہیں۔ ان نقل مکانی کرنے والوں میں 2005ء کے اعداد و شمار کے مطابق 25 مربع کلومیٹر کے علاقہ سے ایک لاکھ 30 ہزار افراد، 20 ہزار گھرانے، 7 یزار دکانیں، ہسپتال، قبرستان، سکول اور مساجد صرف اسکردو شہر اور اس کے گردونواح سے زیر آب آ جائیں گے جبکہ سوا 2 لاکھ سے زیادہ کی آبادی کو ڈیم کے علاقہ سے نقل مکانی کرنی پڑے گی۔
6):۔ دفاعی نقطہ نگاہ سے سیاچین اور کارگل سیکٹرز میں انڈیا۔ پاکستان کنٹرول لائن پر آرمی اور ائیر فورس کے کنٹرول کا علاقہ بھی ضائع ہو جائے گا۔ اور متبادل راستے ڈیم بنانے سے پہلے تعمیر کرنے پڑیں گے جس پر کئی سو ارب روپے کے اخراجات ہوں گے۔
7):۔ ڈیم بننے سے اسکردو اور گامبا (Gamba) میں حال ہی میں ہونے والی اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے پانی میں غرق ہو جائیں گے جس میں 12 ہزار فٹ لمبا اسکردو ائیر پورٹ رن وے اور اس کا سول اسٹرکچر بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ شمالی علاقہ جات میں کوالٹی تعلیم فراہم کرنے والا کیڈیٹ کالج بھی اس ڈیم کی نذر ہو جائے گا۔ اسکردو کے ساتھ ہی واقع شنگریلا جھیل نامی تفریحی مقام بھی اس ڈیم کی نذر ہو جائے گا۔ یہ تفریحی مقام اس قدر خوبصورت ہے کہ یہاں ہنی مون منانے کے لئے ایک شادی اور کی جا سکتی ہے۔
8):۔ اس کٹ ذرہ ڈیم بننے سے دریائے شگر کے بائیں کنارے پر بنی 40 کلومیٹر لمبی کنکریٹ میٹل روڈ بھی ختم ہو جائے گی جو اسکردو کو شگر سے ملانے کا واحد راستہ ہے۔ فی الحال شگر کو باقی پاکستان سے ملانے کا کوئی متبادل موجود بھی نہیں ہے۔ ڈیم بنانے سے پہلے ہی حکومت کو متبادل خپلو شگر روڈ بنانی پڑے گی جس پر اربوں کے اضافی اخراجات ہیں۔
9):۔ کٹ ذرہ ڈیم بننے سے شگر، خپلو اور اسکردو کے درمیان واقع درجنوں چھوٹے ڈیمز اور ٹرانسمیشن لاننز بھی زیر آب آ کر ختم ہو جائیں گی جس کے لئے پہلے ہی متبادل انتظامات کرنے کی ضرورت ہے جس پر الگ سے اربوں روپے کے اخراجات ہوں گے۔ ان درجنوں ڈیمز کے علاوہ بھی اس وقت زیر تعمیر اسکردو ست پارہ ڈیم کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے جس سے اربوں نہیں بلکہ کھربوں کی انویسٹمنٹ ڈوبنے کا شدید خدشہ ہے۔
10):۔ ان سب نقصانات کے علاوہ یقیناً اس کٹ ذرہ ڈیم سے اسکردو کی ایک ہزار سال سے بھی قدیم آثار قدیمہ عمارات، مساجد، قبرستان، قلعے وغیرہ بھی زیر۔ آب آئیں گے جس سے سینکڑوں، ہزار سالہ تہذیب کے ضائع ہونے کے نقصانات تو ہوں گے۔
یہ تو واضح ہے کہ کٹ ذرہ ڈیم بننا ملک کی ترقی، پانی کی شدید کمی اور سستی بجلی کے بحران سے نمٹنے میں آسانی ہو گی۔ مگر اس کی تعمیر سے پہلے اسکردو، شگر اور خپلو کے جن علاقوں پر قیامت آنی ہے۔ ان کی داد رسی کے لئے متبادل انتظامات ہونا اشد ضروری ہے جس کے لئے ماہرین اور انجینئیرز کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔

