پاکستان میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ڈیم بنایا جا سکتا ہے
آج کل غیر سرکاری تنظیمیں اور کچھ صحافی کٹ ذرہ Katzarah ڈیم کی تعمیر کے لئے مہم چلا رہے ہیں جسے 2007ء میں واپڈا بےشمار تکنیکی معاملات کی وجہ سے ناقابل عمل قرار دے چکی ہے جبکہ انجینئیر فتح اللہ خاں گنڈا پور (جو ارسا کے سابق چئیرمین ہیں) آج کل بھی انگریزی اخبارات میں کالم لکھ کر اس ڈیم کو بنانے کے مشورے دے رہے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ بے بے شمار فوائد کے حامل اس ڈیم سے وابستہ اصلی مسائل اور مشکل ترین رکاوٹوں کی حل کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا بلکہ ان مسائل کو زیربحث لا کر حل کرنے کی بجائے صرف ایک مسئلہ ”یعنی اسکردو کی بلتی تہذیب کو اس ڈیم سے خطرہ لاحِق ہونے کو“ بیان کیا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے اصل مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔
یہ ڈیم اسکردو سے 20 میل جنوب۔ مغرب میں گاؤں ’کچورا‘ کے مقام پر 35 ملین ایکڑ فٹ پانی کی سٹوریج اور 15 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش سے دنیا کا دوسرا بڑا ڈیم بن سکتا ہے۔ اس مقام پر تین دریا آپس میں ملتے ہیں جن میں دریائے سندھ، دریائے شگر اور دریائے شی یوک شامل ہیں۔ اسی طرز کا ایک ڈیم چین میں بھی تھری گارجس ڈیم کے نام سے بنایا جا چکا ہے جو 22 ہزار 5 سو میگا واٹ بجلی بنا رہا ہے جبکہ 31 اعشاریہ 9 ملین ایکڑ فٹ پانی سٹور کر سکتا ہے۔
پاکستان میں اس وقت بھی کٹ زرہ ڈیم کی مجوزہ سائیٹ پر 310 فٹ کی گہرائی ہے جبکہ اس کی قدرتی جھیل 3700 فٹ لمبی ہے اور اس میں 8 ملین ایکڑ فٹ پانی اسٹور کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس ڈیم کو سب سے پہلے 1957ء میں انجینئیر فتح اللہ خاں گنڈاپور نے ہی تجویز کیا تھا جبکہ 1968ء میں ورلڈ بنک تکنیکی ٹیم نے ڈاکٹر پیٹر Dr Pieter Lieftnick کی قیادت میں اس ڈیم کی مجوزہ سائیٹ کا معائنہ کیا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق اس ڈیم کو بنا کر 8 ملین ایکڑ فٹ سے 35 ملین ایکڑ فٹ تک بڑھایا جا سکتا ہے جو کہ کالا باغ ڈیم اور بھاشا ڈیم سے 6 گنا زیادہ ہے۔
اس ڈیم کے بننے سے پانی کی گنجائش اور بجلی بنانے کے علاوہ مزید کافی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جیسا کہ:۔
1):۔ اس ڈیم کے بننے سے دریائے سندھ میں نیچے کی طرف بننے والے مجوزہ کالا باغ اور بھاشا ڈیمز کو کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ ان کی زندگی میں اضافہ ہو جائے گا۔ کٹ ذرہ ڈیم کی اپنی زندگی ایک ہزار سال قرار دی جا رہی ہے جو کہ ملک کی پانی و بجلی کی ضروریات کو کافی سالوں تک پوری کرنے کے قابل ہوگا
2):۔ کٹ ذرہ ڈیم بننے سے دریائے سندھ کے دائیں طرف والے حصہ میں واقع 10 ملین ایکڑ بنجر زمین کی آب پاشی ممکن ہو گی۔ اور اگر ہم نے عقل استعمال کی تو فوارہ آب پاشی سسٹم (sprinkler method) استعمال کیا تو پھر 20 ملین ایکڑ بنجر زمین کو سیراب کر سکیں گے
3):۔ ابھی تک ہم دریائے سندھ کے بائیں کنارے کا آب پاشی سسٹم ہی بنا سکے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ انگریز کے بنے بائیں بازو کے آب پاشی نظام کو ہی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ کٹ ذرہ ڈیم بننے سے ہم دائیں بازو آب پاشی سسٹم کو رائج کر سکیں گے۔ جس سے اس حصہ میں انقلابی معاشی ترقی زمین کی زرخیزی اور پانی کی فراہمی سے ممکن ہو گی۔ اس سسٹم سے دریائے سندھ کے دائیں بازو میں خوشگوار موسمی تبدیلیاں بھی ہوں گی جس سے ماحولیات میں بہتری کے علاوہ اس کا اپنا موسمی نظام بھی تشکیل پائے گا۔ ان سب فوائد کی وجہ دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے بنجر علاقہ میں پانی ملنے سے زمین کی زرخیزی، جنگلات کے قیام اور لہلاتی فصلیں ہوں گی
4):۔ دریائے سندھ میں پانی کی تقسیم ہمیشہ سے چاروں صوبوں میں متنازعہ رہی ہے۔ کٹ ذرہ ڈیم بننے سے دریائے سندھ کے نہری نظام میں پورا سال پانی کی فراہمی بغیر کسی تعطل اور بغیر جھگڑوں کے جاری رہے گی۔
5):۔ کٹ ذرہ ڈیم کو بیک وقت متبادل گنجائش (replacement storage)، ترقیاتی گنجائش (development storage)، بین الموسمی گنجائش (inter seasonal storage) اور کیری اوور گنجائش (carryove storage) کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
6):۔ اس وقت تین سیلابی نہروں میں صرف 70 دنوں تک پانی رہتا ہے جبکہ سال کے 10 مہینے وہ بند رہتی ییں۔ ان نہروں میں تھل کینال (Thal)، رین کینال (Raine) اور کچھی کینال (Kachi) شامل ہیں۔ ان تینوں نہروں کی کل گنجائش 14 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ کٹ ذرہ ڈیم بننے سے ان تینوں نہروں کو پورا سال تک رواں رکھنا ممکن ہو سکے گا۔
7):۔ اگر بغیر کسی مالی مشکل کے ہم کالا باغ اور بھاشا ڈیم بنانے شروع کریں تو اس میں 7 سے 8 سال درکار ہوں گے۔ اس وقت تک تربیلا اور منگلا ڈیمز کی پانی جمع کرنے کی گنجائش اتنی کم ہو چکی ہو گی جتنی کہ یہ نیا کٹ ذرہ ڈیم بننے سے حاصل ہوگی۔ اگر ہم کٹ ذرہ ڈیم نہیں بناتے تو پانی کی کمی سے صوبوں میں پانی کے مسئلہ پر اختلافات شدید تر ہو جائیں گے جس کی وجہ سے کالا باغ اور بھاشا ڈیم بننے سے بھی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔ واضح رہے کہ کالا باغ اور بھاشا ڈیمز متبادل گنجائش (replacement storage) والے ڈیمز ہیں جبکہ کٹ ذرہ ڈیم ترقیاتی گنجائش (development) ڈیم ہے جس سے نئے علاقوں کی ترقی اب پاشی ہوتی ہے
ان فوائد کے علاوہ اس ڈیم کو بنانے میں کافی بڑی مشکلات بھی ہیں جن میں سے کچھ ایک کا ذکر اس لئے بھی لازمی ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ ان مشکلات پر قابو بھی پایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


