معاشرے میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہروی اور خواتین کا استحصال


اسلام نے مرد کے ہوتے ہوئے کفالت کی ذمہ داری عورت پر نہیں ڈالی۔ آخر کوئی معقول جواز ہوگا ناں تبھی تو اس کو اس ذمہ داری سے آزاد کیا گیا ہے؟ اب نام نہاد آزادی پسند افراد اس کو غلط ثابت کرنے کے لئے کئی توجیحات گھڑ سکتے ہیں لیکن ان توجیحات سے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ جب اس اصول کو توڑتے ہوئے عورت بلا عذر شرعی نامحرم مردوں کے درمیان محض پیسہ کمانے کے لئے آجائے تو اس میں قصور کس کا ہے؟

اب اس کے لئے یہ توجیح گھڑی جا سکتی ہے کہ فی زمانہ ضروریات اتنی زیادہ ہیں کہ صرف شوہر، والد یا بھائی کی کمائی سے گھر کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔ لیکن ضروریات تو بڑھیں گی اگر ہم تین گلیاں دور واقع تندور سے روز دس روٹیاں لانے کے لئے چودہ سو سی سی گاڑی میں جائیں گے اور دو روپے کی ماچس لانے کے لئے موٹر سائیکل پہ جائیں گے۔ یہ مبالغہ نہیں میرے آنکھوں دیکھے واقعات ہیں کہ ایک صاحب روزانہ شام کو گھر، جو کہ محض تین گلیاں دور ہے، سے گاڑی نکالتے ہیں، تندور سے روٹیاں لیتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب ٹماٹر سال میں صرف دو ماہ کے لئے دستیاب ہوتے تھے۔ کھانے اس وقت بھی گھروں میں بنتے تھے جب ٹماٹر دستیاب نہیں ہوتے تھے۔ لیکن آج ہم کہتے ہیں کہ ٹماٹر کے بغیر تو کسی ترکاری کا تصور ہی نہیں ہے۔ (یہ میں نے صرف اپنی بات کو واضح کرنے کے لئے لکھا ہے، میں ٹماٹر کے خلاف قطعاً نہیں ہوں ) لیکن چلیں مان لیتے ہیں ضروریات زیادہ ہیں۔ لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ کوئی خاتون خواتین کے لئے مخصوص شعبوں ( طب، تعلیم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، جیسے پولیس، ایف آئی اے، اے ایس ایف وغیرہ) کے علاوہ ایسے شعبوں اور اداروں میں جا کر بیٹھ جائے جو سراسر مردوں کے لئے مخصوص ہیں اور وہاں اس کا واسطہ زیادہ تر مردوں سے ہی رہے گا؟

یہ چیز دو طرح سے معاشرے پہ منفی اثرات ڈالتی ہے۔ ایک عورت جو کسی ایسی پوسٹ پہ بیٹھ گئی ہے جو کہ سراسر مردوں کے لئے مخصوص ہے تو ایک تو اس کا اپنا نقصان یہ ہو گیا کہ اس نے اپنے آپ کو خود ہی بغیر کسی وجہ کے غیر محفوظ کر لیا دوسری طرف ایک مرد، جس پہ کہ خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ہے، بے روزگار ہو گیا۔ کیا میرے ملک میں مرد نہیں رہے کہ اب دشمن پہ بمباری کرنے کے لئے عورتیں فوج میں بھرتی ہوں گی اور لڑاکا طیاروں میں بیٹھ کے دشمن کے ٹھکانوں پہ بمباری کریں گی؟ وہ مرد کہاں جائیں گے جواِن عورتوں کے ان کے لئے مخصوص اسامیوں پہ قابض ہونے کی وجہ سے بے روزگار بیٹھے رہ گئے؟ اس سے انکار نہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی خواتین نے مختلف جنگوں میں حصہ لیا لیکن ان کا کردارزیادہ تر زخمیوں کی مرہم پٹی اور پانی پلانے کی حد تک ہی رہا ہے وہ بھی اس وجہ سے کہ مسلمانوں کی تعداد اس وقت تھوڑی تھی۔

ہم نے اپنے معاشرے میں نکاح کو مختلف خود ساختہ اورغیر ضروری رسومات و روایات کے ذریعے مشکل سے مشکل تر بنا دیا ہے۔ جب تک بیٹا پڑھ لکھ کے کچھ کمانے کے قابل نہیں ہو جاتا، بیٹی کی شادی کے لئے جہیز ضروری ٹھہرا وغیرہ وغیرہ۔ میں جس علاقے میں ہجرت کر کے آباد ہوا ہوں وہاں زیادہ تر تعداد چھوٹے زمیندار ٹائپ لوگوں کی ہے۔ ان کی اولاد جیسے ہی بلوغت کی عمر کو پہنچتی ہے جیسے تیسے کر کے ان کی شادی کر دی جاتی ہے۔ میں نے ان میں جنسی بے راہ روی نہ ہونے کے برابر دیکھی ہے۔

شادی کے بعد ان کے پیدا ہونے والے بچوں کو صحت میں بہت بہتر پایا ہے۔ شادیوں کی کامیابی کا تناسب اٹھانوے فیصد ہے اور گھروں میں ساس بہو کا مثالی اتفاق دیکھا ہے۔ کیوں کہ سارا دن گھر کے کاموں اور مردوں کے باہر کھیتوں میں کام کرنے کے بعد ان کے پاس ان لڑائی جھگڑوں کے لئے نہ تو وقت بچتا ہے اور نہ توانائی۔ اگر مسائل میں گرفتار ہیں تو ہم نام نہاد پڑھا لکھا طبقہ۔

ایسا کیوں ہے؟ یہ اس لئے ہے کہ ہم نے پڑھ لکھ کے اپنے رب کے قوانین سے سر کشی اختیار کر لی ہے۔ ہم مغرب کی تقلید میں اپنے پیدا کرنے والے اللہ کے قائم کردہ حدود و قیود سے باغی ہو کے نکل گئے ہیں اور نتیجہ ہم تباہی کہ صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ لیکن حال یہ ہے کہ ہم سب انگلیاں اٹھا اٹھا کے دوسروں کو سیلاب کے آنے کا بتا رہے ہیں لیکن ہم میں سے کوئی بھی بڑھ کے اس پشتے کو مرمت کرنے کے لئے آگے نہیں بڑھ رہا جس کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے سیلاب ہمارے گھروں کی طرف بڑھ رہا ہے۔

عورت اولاد کی تربیت کا واحد سر چشمہ ہوتی ہے اسی لئے اسلام میں اللہ نے عورت کو کفالت کی ذمہ داری سے آزاد کر کے اسے اولاد کی تربیت کا ذمہ سونپا ہے۔ ذرا اپنے آس پاس نظر دوڑائیے اور پھر اپنے آپ سے سوال کیجیئے کہ میری اولاد کیوں بد تمیز ہے؟ وہ کیوں جنسی بے راہ روی کی طرف مائل ہے؟ میں نے چھوٹے چھوٹے بچوں اور بچیوں کو ننگی گالیاں بکتے دیکھا ہے اور ان کوایک دوسرے کے ساتھ قابلِ اعتراض حرکات کرتے دیکھا ہے۔ جب ماں باپ دونوں کو پیسہ کمانے سے فرصت ہی نہ ہو۔ اگر وہ کچھ آسودہ ہیں تو اولاد نوکروں کے رحم و کرم پہ ہے اور اگر نوکر رکھنے کی سکت نہ رکھنے والے ہیں تو ان کی اولاد ان کے گھر آنے تک گلیوں اور بازاروں کے رحم و کرم پہ ہے۔

میں ایسے کئی نوجوانوں کی آپ بیتیاں ان کی زبانی سن چکا ہوں جو بچپن میں نوکروں کے ہوس کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے اب جنسی بے راہ روی کے عادی ہو چکے ہیں۔ میں اگر اپنے بچوں کے ہاتھوں میں کمپیوٹر و سمارٹ فون تھما کے ان کونوکروں اور نوکرانیوں کے رحم و کرم پہ یا مادر پدر آزاد چھوڑ دوں تو اب وہ اگر بھٹکتے ہیں تو کیا وہ قصور وار ہیں؟ نہیں! میں ان سے زیادہ قصوروار ہوں کیوں کہ وہ اچھے برے کی تمیز اور پرکھ میری راہنمائی کی بدولت کر سکتے ہیں خود سے نہیں۔ اور انہی سے میرا اور آپ کا آنے والا معاشرہ تشکیل پائے گا۔ ذرا آج سے کچھ دہائیاں پیچھے نظر دوڑائیے آپ کو کل اور آج میں فرق بہت واضح نظر آئے گا۔ ہم نے مغرب کی اندھی تقلید میں اپنے معاشرے میں مخلوط تعلیم کو رواج دیا لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشرتی بگاڑ کے تقصانات کا ادراک ہماری ترجیح نہیں تھی۔ اگر میں پٹرول کو آگ کے قریب رکھ کے یہ توقع رکھوں کہ پٹرول کوآگ نہ لگے تو یہ میری خوش فہمی تو ہو سکتی ہے لیکن آگ لگ کر رہے گی کہ یہ قانونِ فطرت ہے کہ پٹرول کوآگ کے قریب رکھنے سے پٹرول کو آگ ضرور لگے گی۔

ایک عجیب اور سمجھ میں نہ آنے والا فلسفہ ہے کہ بچوں کو خواتین اساتذہ پڑھائیں اور بچیوں کو مرد اساتذہ۔ تو پھر اگر وہاں استانیوں سے شاگردوں کے معاشقوں کے افسانے بنیں اور اساتذہ کے ہاتھوں طالبات کی جنسی ہراسانی کے واقعات رونما ہوں تو ہمیں اس میں عجب کیا؟ اس میں مذہب کا قصور ہے، معاشرے کا یا ہمارا اپنا؟ اب ہوتا یہ ہے کہ اس طرح کے حالات میں کچھ متاثرین تو مزاحمت کرتے ہیں لیکن اکثریت ان قباحتوں کوابتدا میں تو ”ایڈونچر‘‘ کے طور پہ قبول کر لیتی ہے لیکن پھرغیر محسوس طریقے سے اس کی عادی ہو جاتی ہے۔ تو ہم کیسے توقع رکھیں کہ جب وہ اکثریت اپنی اپنی عملی زندگی میں قدم رکھے گی تو وہ ان عادتوں سے کنارہ کش ہو جائے گی؟

ذرا تصور کیجئے کہ آنے والا کل کیسا ہو گا؟ اسلام آباد کی سڑکوں پہ ہم یہ نعرہ تو سن ہی چکے ہیں کہ ” میرا جسم، میری مرضی‘‘ اور کل کو ہمیں یہ بھی توقع رکھنی چاہئیے کہ اس ملک میں ہم جنس پرستی کو جائز قرار دینے کے لئے قانون سازی کی کوئی تحریک اٹھے تو عجب نہ ہو گا۔ کیونکہ مغرب نے یہ راگ الاپنا شروع کر دیا ہے کہ یہ عین فطری بات ہے کہ اگر کسی کے دل میں ہم جنس پرستی کا رجحان فروغ پاتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3