معاشرے میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہروی اور خواتین کا استحصال
رہی بات عورت کے استحصال کی تو اس کی زیادہ تر وجہ خود عورت ہی ہوتی ہے۔ ساس کو بہو اچھی نہیں لگتی اور بہو کو ساس، نند کو بھابھی میں چند دنوں میں ہزاروں خرابیاں نظر آنے لگتی ہیں اور بھابھی کو نند میں۔ مرد اگر بیوی کی طرف داری کرے تب بھی غلط اور اگر ماں اور بہن کی مانے تب بھی قصور وار۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ بحیثیت انسان ہم میں سے کوئی مکمل نہیں ہے، عقلِ کل نہیں ہے۔ خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ ہے یہ انسان۔ لیکن میں ہوں یا چاہے آپ، ہم اپنی ہزار خامیوں کو تو نہیں دیکھتے لیکن دوسرے کی ذات میں ایک خامی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر ہم کسی انسان کو اس کی خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کرنا سیکھ لیتے ہیں تو کئی جھگڑے خود بہ خود دم توڑ دیں گے۔
میں نے کئی شوہروں کواپنی ماں اور بہنوں کے کہنے پہ اپنی بیویوں سے لڑتے، ان کو مارتے حتیٰ کہ ان کو طلاق دیتے دیکھا ہے اور کئی مردوں کو اپنی بیوی کے کہنے پہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں پہ ظلم کرتے دیکھا ہے۔ میں مردوں کی وکالت قطعاً نہیں کر رہا۔ ایسے بے شمار واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ہمارے ارد گرد کہ مرد اپنی ناکامیوں اور باہر کی پریشانیوں کا غبار اپنے گھر والوں پہ نکالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے گھر کا سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔ لیکن پھر اِسی مرد کو میں نے اپنے خاندان کے لئے روزی کمانے کی خاطر جھڑکیاں، گالیاں اور مار بھی کھاتے دیکھا ہے۔ اسے تپتے صحراوں میں بھی روزی کے لئے بھٹکتے دیکھا ہے اور برف پوش وادیوں میں بھی۔ اسی مرد کو میں نے اپنے پیاروں کی خاطر ناجائز طریقے سے براستہ ایران یورپ جانے کے لئے راستے میں بھوک، پیاس اور گولیوں سے مرتے بھی دیکھا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے مسائل کا ادراک کریں اور ان کے حل کے لئے اپنے دین کا، دینِ اسلام کی روشنی میں، سہارا لیں نہ کہ مغرب کا۔ اگر ہم اپنے مذہب اور اپنی اسلامی معاشرتی روایات سے ہٹ کے ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنے مذہب کو فرسودہ اور دقیانوسی ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے تو مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھیں گے۔ ہم اپنی معاشرتی مسائل کا ذمہ دار نہ معلوم کیوں اپنے مذہب کو گردانتے ہوئے اس پہ چڑھ دوڑنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اس کو ان مسائل کے حل میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے اسے فرسودہ اور نہ جانے کیا کیا کہتے رہتے ہیں۔
ہمارے فرسودہ کہنے سے دین اسلام ختم بالکل بھی نہیں ہوگا کیونکہ میرے اللہ کے بنائے ہوئے قوانین آفاقی ہیں۔ یہ کبھی نہ ختم ہونے کے لئے نازل ہوئے ہیں لیکن ہم اگر ان کا مذاق اڑائیں گے تو ہم یقینناً ختم ہو جائیں گے۔ انفرادی طور پہ بھی، اجتماعی اور معاشرتی طور پہ بھی اور یقیناً آخرت میں بھی گھاٹا ہمارا مقدر بن جائے گا۔

