ایشیا کپ میں شرمناک شکست
ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم کی انتہائی ناقص کارکردگی نے کرکٹ شائقین کو شدید مایوس کیا چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو ہرا کر جو امیج بنا تھا وہ وقتی ثابت ہوا اور کوہلی کی غیر موجودگی میں نسبتا کمزور بھارتی ٹیم کے سامنےاس طرح پوری ٹیم کاباآسانی ہتھیار ڈالنا بھی باعث شرمندگی ثابت ہوا۔ مگر اس شکست کی ذمہ داری مکمل طور ہرصرف کھلاڑیوں پر ڈالنا زیادتی ہوگی۔
ہمارا ون ڈے ریکارڈ گذشتہ دس سال سے کوئی بہت شاندار نہیں ہے۔ ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ کی پرفارمنس نے ہمیں سنبھالا ہوا ہے ورنہ کمزور ٹیموں کے علاوہ ہم نے ون ڈے سیریز ہو یاون ڈے ٹورنامنٹ۔ کوئی خاص پرفارم نہیں کیا۔ پھر ہماری عادت بنتی جارہی ہے کہ زمبابوے یا ہانگ کانگ جیسی کمزور ٹیموں کو ہرانےکے بعد ہم اپنے کھلاڑیوں کےلئے جو قلابے ملاتے ہیں وہ صرف ہماری خوش فہمی کا سبب ہے اس وقت ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ معیار بہت عرصے سے صرف نچلے درجے کی ٹیموں تک ہی محدود ہو چکا ہے۔ اگر مجموعی جائزہ لیا جائے تو افغانستان اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کی گزشتہ کچھ عرصے کی کارکردگی ہماری ٹیم سے بدرجہہ بہتر ہے۔
پاکستان سری لنکا اور ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کی ٹیموں کا گراف دن بدن زوال پذیر ہوتا جارہا ہے۔ جبکہ بھارت، جنوبی افریقا نیوزی لینڈ انگلینڈ محدود اوورز کی کرکٹ کی بہترین ٹیمیں بنتی جارہی ہیں اور آئے روز نئے کھلاڑی ان ٹیموں کا حصہ بھی بن رہے ہیں اور پرانےتجربے کار کھلاڑی خود کو ٹیم کا مستقل رکن رکھنے کے لئے اپنی پرفارمنس کے ساتھ اپنی فٹنس پر بھی ِخصوصی توجہ دیتے ہیں۔ کوہلی، ہاشم آملہ، روہیت شرما اور دیگر بلے باز اپنی عمدہ پرفارمنس کی بنیاد پر ٹیم کا حصہ ہونے کے ساتھ اپنی ٹیم کی جیت میں مرکزی کردار بھی ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس شاہینوں کا یہ حال ہے کی حالیہ ٹورنامنٹ میں جب ہم نے یہ سنا کہ کوہلی بھارتی ٹیم کا حصہ نہیں ہے تو ہم نے ستر فیصد ٹرافی کو تو اپنا تصور کرنا شروع کردیا باقی تیس فیصد بھی ہماری ہو جاتی اگر ہمارے میچز صرف ہانگ کانگ اور سری لنکا سے ہوتے۔ افغانستان سے بھی اگر ایک میچ اور ہوجاتا تو بہت ممکن تھا کہ جیسے بنگلہ دیش سے میچ میں حشر ہوا وہی ہوتا۔ کیونکہ دوسری تمام ٹیمیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ رہی ہیں چاہے وہ میچ جیت ہی کیوں نہ جائیں اپنی غلطیوں کو درست خرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جبکہ ہم ایک کمزور ٹیم سے جیت کر بہت زیادہ مطمئن ہوجاتے ہیں۔
اس ٹورنامنٹ میں ہونے والی خرابیوں میں سب سے بڑا کردار ٹیم پاکستان کی انتہائی کم درجے کی فیلڈنگ کا تھا۔ لگتا کچھ ایسے ہے کہ شائقین کے ساتھ ساتھ پوری ٹیم مینجمنٹ کی تمام نظریں اور توجہ صرف فخر، بابر اور ملک کی بیٹنگ اور عامر شنواری اور شاداب کی باولنگ پرہی مرکوز تھیں۔ فیلڈنگ پر توجہ دینا کپتان سمیت پوری ٹیم مینجمنٹ کو یاد ہی نہیں رہا۔ مشکل تو دور کی بات بہت ہی آسان کیچز ڈراپ کرنا معمول بن چکا ہے۔
ایشیا کپ میں ہی کئی میچز ہم نے صرف اپنی ناقص فیلڈنگ کی بدولت ہارے۔ اگر ڈراپ کیچز پکڑ لیے جاتے تو یقینا رزلٹ مختلف ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیلیکشن میں ٘پرفارمنس کے بجائے ذاتی پسند نا پسند صاف دکھائی دیتی ہے جس کا واضع ثبوت جنید خان اور فہیم اشرف کو اسکواڈ میں ہوتے ہوئے بھی مسلسل نظر انداز کرنا تھا۔ جنید خان کے ساتھ تو یہ رویہ گذشتہ کئی سال سے جاری ہے اس کے باوجود بھی جب بھی جنید کو موقع ملا انہوں نے ثابت کیا کہ اس کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے جنید خان کی طرح فواد عالم کا کسی بھی فارمیٹ کی ٹیم میں نہ ہونا بھی حیران کن ہے جس سے مذکورہ بالا فیورٹ ازم بیانیہ کو تقویت ملتی ہے۔
ون ڈے کے لئے تمام ورلڈ کلاس ٹیموں میں ابتدائی نمبر کے بیٹسمین جارحانہ مزاج اور درمیانے نمبر پر کم از کم دو بیٹسمین ایسے ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں وکٹیں گرنے کے عمل کو روکنے کے ساتھ پندرہ سے بیس اوور اپنی وکٹ غیر ضروری شاٹس کھیل کر نہ گنوائیں اور اسکور میں بھی بتدریج اضافہ کرتے رہیں اور آخر کے اوورز میں اسکور بورڈ میں تیزی سے اضافے کے لئے ایک پنچ ہٹر اور ایک یا دو کوالٹی آل راونڈرز ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے پاس شعیب ملک کے علاوہ اوپر سے نیچے تک کوئی بھی ایسا بیٹسمین دکھائی نہیں دیتا جس کے ہوتے توقع کی جائے کہ وکٹ بھی محفوظ اور رنز میں آضافہ بھی برقرار۔ جیسا ماضی میں جاوید میانداد، محمد یوسف، یونس خان یا مصباح الحق ہوا کرتے تھے۔
اب ان نمبرز پر سرفراز اور آصف ہواکرتے ہیں جن کی فارم کے ساتھ ان کی شاٹ سلیکشن پربھی سوالیہ نشان ہیں۔ اگر مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ایشیا کپ پچاس کے بجائے بیس اوورز کا ہوتا تو یقینا ہماری پرفارمنس بہتر بھی ہوتی اور رزلٹ بھی مختلف ہوتے۔ اب ورلڈ کپ میں فقط 8 ماہ باقی ہیں اور پاکستان نے اس دوران آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے مقابلہ کرنا ہے۔ مینجمنٹ کو چاہیے کہ محمد حفیظ کامران اکمل، فواد عالم اظہر علی یا اسد شفیق میں سےکم ازکم دو بیٹسمین ٹیم میں ورلڈ کپ تک شامل کریں تاکہ تجربے کار اور نوجوان بیٹسمینوں کا ایک کامبینیشن بن سکے۔
ساتھ ہی اسپن باولنگ کا شعبہ بھی بہت اچھا پرفارم نہیں کررہا۔ جس کی وجہ سے فاسٹ باولرز پر دباؤ بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ شاداب اور نواز کے علاوہ ایک اور اچھے اسپنر کو بھی ون ڈے ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے۔ تاکہ بہتر مقابلے کی فضا ہونے کے سبب تینوں اسپنرز ایک دوسرے ہر سبقت لیجانے کی کوشش میں رہیں۔ ہمیں یاسر شاہ کو ون ڈے میں لازمی تھوڑے وقت تک ضرور آزمانا چاہیے ان کی ٹیسٹ کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ اب اگر کپتان کو تبدیل کیا گیا جس کے لئے بہت بات ہورہی ہے تو یہ ایک اور غلط فیصلہ ہوسکتا ہے۔
سرفرازاحمد کو ورلڈ کپ تک کا وقت دینا چاہیے اور ان کو بھروسہ دلانا چاہئیے تاکہ وہ بھی اپنی غلطیوں پر قابو پا سکیں اور مصباح کی ریٹائرمنٹ کے بعد سےکپتان ہونے کی وجہ سے اب وہ کپتانی میں میچور ہوچکے ہیں اگر کپتان تبدیل کیا گیا تو نئے کپتان خو سیٹ ہونے تک ورلڈ کپ آجائے گا جو رسکی ہونے کے ساتھ سرفراز کے ساتھ غیر منصفانہ عمل بھی ہوگا۔ ایشیا کپ کی ناقص کارکردگی کو اگر قابو پانا ہے توتمام مینیجمنٹ کو ایک ساتھ بیٹھ کر تفصیلی جائزہ لینا ہوگا۔ اور ایک دو میچ جیت کر خود کو مطمئن کرنے سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں ایک مضبوط اور مستحکم ٹیم بنانے کے لئے تبدیلی لازم ہوچکی ہے۔


