عمران خان کا کرشمہ : ہم نے لیاقت علی اور جنرل ٹکا خان دیکھ رکھے ہیں


1940 ءسے 1947 ءتک مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کا ترجیحی طریقہ کار یہ تھا کہ مطالبہ پاکستان کے یک نکاتی ایجنڈے پر توجہ مرکوز کی جائے۔ اس کی تفصیل میں جانے سے گریز کیا جائے۔ متعین نقطہ نظر اختیار نہ کیا جائے۔ یہ مقبولیت پسند سیاست کا معروف طریقہ کار ہے۔ اس کی مدد سے متنوع گروہوں ، مکاتب ہائے فکر اور طبقات کی حمایت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے لیکن اس طریقہ کار میں چند در چند خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ سیاست انسانی اجتماع کے خدوخال تراشنے کا نام ہے۔

انسانی معاشرہ ایک نہایت پیچیدہ ، سیال اور گتھا ہوا مظہر ہے۔ سیاست کو یک نکاتی پروگرام کے تابع کرنے کا نتیجہ ناگزیر طور پر بہت سے حقیقی اور اہم عوامل کو نظر انداز کرنے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ جب یک نکاتی سیاست اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو جن پہلوﺅں کو نظر انداز کیا گیا تھا، وہ سر اٹھاتے ہیں اور ایسی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں جن کا قبل ازیں تصور نہیں کیا گیا تھا۔ خرابی کا ایک پہلو یہ برآمد ہوتا ہے کہ یک نکاتی سیاست اپنی تحدیدات کے باعث وعدہ کئے گئے نتائج دینے سے قاصر رہتی ہے۔ ایسی یک رخی اور جزوی سیاست کا ایک نہایت خطرناک نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کو عملیت پسندی کی بجائے عوامی جذبات سے کھیلنے کی عادت ہو جاتی ہے۔

اس کی وضاحت کے لیے اخلاق احمد دہلوی کی تصنیف ”یادوں کا سفر“ سے ایک کسی قدر طویل اقتباس پیش خدمت ہے لیکن اس سے یہ اندازہ ضرور ہو گا کہ تقسیم سے قبل مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت پاکستان کے خدوخال کے بارے میں کس قدر غیر واضح خیالات رکھتی تھی اور مسلم عوام کے جذبات کو کس طرح استعمال کر رہی تھی۔

1940 ءمیں خواجہ حسن نظامی نے دہلی سے ایک انگریزی ہفت روزہ ’ڈکٹیٹر‘ کے نام سے جاری کیا اس کے چیف ایڈیٹر خواجہ حسن نظامی کے صاحبزادے حسین نظامی بنائے گئے اور اخلاق احمد دہلوی کو اس کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ افتتاحی شمارے کے لیے پیغام لینے کی غرض سے اخلاق احمد دہلوی لیاقت علی خان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اتفاق سے وہاں عبدالرب نشتر بھی موجود تھے۔ اخلاق احمد دہلوی لکھتے ہیں۔

”میں نے دریافت کیا، ”کیا پاکستان میں اسلامی حکومت ہو گی؟ اس سوال پر لیاقت علی صاحب کی بجائے سردار عبدالرب نشتر نے جواب دیا۔ ”انشاءاللہ ….“ میں نے کہا لیکن جناح صاحب توفرماتے ہیں کہ یہ ایک جدید ریاست ہو گی ترکیہ کی طرح…. لیاقت علی خان صاحب نے فرمایا تو کیا وہ اسلامی نہیں ہو گی؟ اس پر سردار عبدالرب نشتر صاحب نے کہا کہ اسلام جدیدیت کے خلاف نہیں ہے۔

جناب یہ فرمائیے کہ کیا آپ خلافت راشدہ کا دور واپس لانا چاہیں گے پاکستان میں ؟ ’کیوں نہیں ، وہی تو لائیں گے …. اور کیا“۔ نواب زادہ صاحب نے پرجوش لہجے میں جواب دیا۔ میں نے کہا ”تو پھر انجام بھی کہیں ویسا ہی نہ ہو“۔ لیاقت علی خان کی تیوری چڑھ گئی اور ذرا ترش لہجے میں پوچھا کیا مطلب؟ میں نے عرض کیا میرا مطلب یہ تھا کہ وہاں چار خلفائے راشدین میں سے تین شہید کر دیے گئے تھے۔ ”لا حول ولا قوة …. یہ تم کیا کہہ رہے ہو بھئی …. “ سردار عبدالرب نشتر صاحب نے میری ایک طرح سے تائید کی اور فرمایا ”یہ ٹھیک کہتے ہیں، ہمیں اسلامی مملکت کے قیام کے بعد قرآن مجید اور اسوہ حسنہ …. کو سامنے رکھنا ہو گا“۔

پھر میں نے پوچھا کہ کیا پاکستان میں جمہوریت ہو گی؟ …. ہاں بھئی کیوں نہیں ہو گی۔ جمہوریت ہی ہو گی۔ میں نے معذرت چاہی اور عرض کیا کہ جناح صاحب جہاں یہ فرماتے ہیں کہ پاکستان ترکیہ کی طرح ایک جدید ریاست ہو گی وہاں اسلامک سوشلزم کی بھی بات کرتے ہیں۔ جمہوریت نہ اسلام میں ہے اور نہ سوشلزم میں۔ اس پر سردار عبدالرب نشتر صاحب نے فرمایا کہ’ ’اسلامک سوشلزم سے ان کی مراد ہوتی ہے اسلامی مساوات، اسلامی بھائی چارا اور جدیدیت۔ تمہیں بتایا جا چکا ہے کہ یہ اسلام کے منافی نہیں ہے۔ “

یہ اسلامی مملکت ہو گی کہاں؟ نواب زادہ صاحب نے فرمایا ”جہاں جہاں اور جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ مثلا آسام بنگال پنجاب ، کشمیر ، صوبہ سرحد اور بلوچستان وغیرہ وغیرہ اور دلی؟ میں نے پوچھا ”دلی بھی اور آگرہ بھی …. ؟“”کیونکہ دلی اور آگرے میں مسلمانوں کی پوری تاریخ بکھری پڑی ہے“۔

میں نے پوچھا کہ ”جناب والا! دلی اور آگرہ تو خیر ہوئے …. لیکن ہندوستان کے باقی مسلمانوں کا کیا ہو گا؟۔ “ لیاقت علی خان نے فرمایا ”ہندوستان کے مسلمانوں کے تحفظ ہی کے لیے توپاکستان بنایا جا رہا ہے۔ جو لوگ ان علاقوں میں آ جائیں گے جن میں پاکستان بنے گا یعنی مسلمانوں کی اکثریت کے صوبے ، وہ تو گویا سو فیصد محفوظ ہی ہو جائیں گے۔ باقی جہاں جہاں اقلیت میں مسلمان ہوں گے وہ اس طرح محفوظ رہیں گے کہ پاکستان میں ہندو اقلیت میں ہوں گے اور ہندوﺅں کی اس اقلیت کے خیال سے خود بخود ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمان محفوظ ہو جائیں گے …. یا …. وہ اگر چاہیں تو پاکستان میں جا کر بس جائیں گے “۔

Lady Mountbatten touring the riot affected localities in Amritsar during her visit to the place in May 1947.

وہ پاکستان میں جائیں گے کیسے ؟ سجاد ظہیر صاحب تو کہتے ہیں کہ دلی جیسے شہر میں لاکھوں مسلمان ابھی ایسے ہیں جنہوں نے دلی کا لال قلعہ اندر سے اس لیے نہیں دیکھا کہ اس کا ٹکٹ دو آنے ہے تو ایسے غریب مسلمانوں کو کس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا؟

اس پر سردار عبدالرب نشتر صاحب نے فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اعلیٰ حضرت حضور نظام دکن میر عثمان علی خان کے پاس اتناسونا ہے کہ اگر وہ دس کروڑ مسلمانوں میں مساوی تقسیم طور پر تقسیم کر دیا جائے اور ہر مسلمان یہ سونا فروخت کر کے صرف بینک میں جمع کرا دے تو پچاس روپے مہینہ سود کا فرداً فرداً ہر مسلمان کو گھر بیٹھے مفت میں مل سکتا ہے۔ تو روپے کی تو تمہارے پاس کمی نہیں ہے۔ میں نے پوچھا مگرشاید حیدر آباد کی ریاست تو ہندوستان میں رہے گی۔ لیاقت علی خان صاحب نے کہا ”جی نہیں ہم حیدر آباد کی ریاست کو بھی اپنی مملکت میں شامل کریں گے“۔

ایک تو یہاں سود کی ’حرمت‘ کا پہلو مدنظر رہے کہ ربا (سود) کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کے ایک فیصلے کے خلاف حکومت پاکستان کی طرف سے نظر ثانی کی ایک آئینی درخواست1992ءسے سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ تقسیم ہند میں ایک بنیادی اصول جغرافیائی اتصال کا تھا۔ چاروں طرف سے مجوزہ بھارت میں گھری ہوئی حیدرآباد دکن کی غیر مسلم اکثریتی ریاست پاکستان میں کیسے شامل ہوتی؟ لیاقت علی صاحب نے اس کا خیال ہی نہیں فرمایا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2