عمران خان نے نواز شریف کیمپ سے دگنے تگنے پیسے اگلوا لیے
روایت ہے کہ ایک بڑھیا اکیلی رہتی تھی اور پرانے پاکستان میں اپنی غربت سے شدید تنگ تھی۔ وہ تبدیلی چاہتی تھی۔ اس لئے روز اپنے گھر کے سامنے آ کر نعرہ لگاتی تھی ”تبدیلی آ رہی ہے، چوروں سے لوٹی دولت واپس لو“۔ اب ایسا ہوا کہ اس کے پڑوس میں نواز شریف کا ایک حامی اچھو بٹ نامی آ گیا۔ وہ ہر صبح بڑھیا کا نعرہ سنتے ہی باہر نکلتا اور جوابی نعرہ لگاتا ”ایک باری پھر شیرررررر“۔ بٹ صاحب کی قسمت خراب کہ عمران خان وزیراعظم بن گئے۔
اس کے بعد ایک مہینے ایسا ہوا کہ بڑھیا کو پینشن نہ ملی۔ اس کے گھر کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا۔ اس صبح وہ باہر نکلی اور نعرہ لگایا ”تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ چکی ہے۔ لیکن چور سب کچھ لوٹ کر لے گئے ہیں۔ خزانہ خالی ہے اور میرا کچن بھی۔ میں کل سے بھوکی ہوں۔ مدینے کی ریاست بنائی ہے تو مجھے کھانا بھیجو عمران خان“۔
بٹ صاحب کو اس پر ترس بھی آیا اور انہوں نے یہ بھی سوچا کہ یہی موقع ہے کہ بڑھیا کو بتا دیا جائے کہ یہ تبدیلی فراڈ ہے۔ وہ چپ کر کے مارکیٹ گئے، ایک مہینے کا راشن خریدا اور بڑھیا کے دروازے پر رکھ کر بیل بجا کر ایک طرف چھپ گئے تاکہ بڑھیا کا ری ایکشن دیکھیں۔
بڑھیا باہر نکلی تو اس نے دیکھا کہ اس کے گھر کے دروازے پر راشن پڑا ہوا ہے۔ وہ خوشی سے چیخی ”تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ چکی ہے۔ مدینے کی ریاست واقعی بن گئی ہے۔ اب مجھے گھر بیٹھے کھانا مل گیا ہے۔ “
یہ سن کر بٹ صاحب باہر نکلے اور کہنے لگا ”کوئی تبدیلی وبدیلی نہیں آئی ہے۔ یہ راشن تبدیلی سرکار نے نہیں دیا، اس پر میں نے پیسے خرچے ہیں“۔
بڑھیا نے نعرہ لگایا ”عمران خان زندہ باد۔ نہ صرف اس نے مجھے کھانا بھجوایا ہے بلکہ اس کی قیمت بھی پٹواریوں سے اگلوا لی ہے“۔
یہ قصہ یوں یاد آیا کہ کل وزیراعظم ہاؤس میں موجود بھینسیں نیلام ہو گئی ہیں۔ پہلی تین بھینسیں نون لیگی متوالوں نے خریدیں۔ پہلی بھینس خریدنے والے جنگی سیداں کے قلب عباس نے تین لاکھ پچاسی ہزار میں خریدی، اس کا کہنا تھا کہ اس بھینس کی قیمت مارکیٹ میں ایک لاکھ بیس ہزار روپے ہے لیکن میں نے یہ بھینس سابق وزیراعظم نوازشریف کی نشانی سمجھ کراتنی مہنگی خریدی ہے، کیونکہ ہمارا قائد نواز شریف ہے۔
دوسرے خریدارحاجی امداد علی کا کہنا تھا کہ میں نے یہ بھینس تین لاکھ میں خریدی ہے کیونکہ بھینسیں نواز شریف نے پالی تھیں، اسی لئے اپنے قائد کی محبت میں یہ بھینس مارکیٹ ریٹ سے بھی زائد قیمت میں خریدی، اسے اپنے فارم ہاؤس میں رکھوں گا اور بعد ازاں نوازشریف اور اپنی بہن مریم نواز کو تحفے میں دوں گا۔ ایک کٹی 2 لاکھ 15 ہزار اور دوسری 2 لاکھ 70 ہزار میں مسلم لیگ (ن) کے کارکن فخر وڑائچ نےخریدیں۔
یعنی ہمارے وزیراعظم عمران خان نہ صرف تبدیلی لے آئے ہیں بلکہ اس تبدیلی کی قیمت دگنی تگنی کر کے نون لیگیوں سے وصول کر رہے ہیں۔ ابھی تو وزیر اعظم ہاؤس کی بھینس بیچی ہے، نون لیگیوں کو اصل ڈز تو اس وقت پڑے گی جب وزیراعظم ہاؤس بکے گا اور پیسے وہ بھریں گے۔


