بے نظیر اور نواز شریف کے پیر کاکی تاڑ کون تھے؟
ہم نے پیر کاکی تاڑ کی گفتگو کو بڑے غور سے سنا، لیکن اس کا کوئی عمل ہمیں Attract نہ کر سکا۔ میں انہیں اور وہ مجھے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ میں انہیں استعمال کر کے کتاب کےکیے مواد حاصل کرنا چاہتا تھا جبکہ وہ میرے ذریعے بین الاقوامی نشریاتی اداروں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے تھے۔ پیر صاحب نے کہا دھمال کے ذریعے ہر مرض غرض کہ کینسر اور ایڈز کا علاج بھی ممکن ہے۔ جس پر میں نے کہا کہ پہلے مرض کی وجہ غم اور دوسرے کی طوائف ہے۔ وہ بولے کچھ طوائفیں اس موذی کا شکار ہو کر زندگی کی آخری سانسیں گن رہی ہیں ان کو اس حالت تک پہنچانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ میں بولا :۔ جہالت پر۔ “
” جہالت پر کیسے؟ “
” جہالت پر ایسے کہ حکومت کئی برس سے ایڈز کی روک تھام کے بارے میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دے رہی ہے۔ الیکڑونک میڈیا کئی میڈیا کئی مرتبہ ایڈز پر خصوصی پر وگرام نشر کر چکا ہے اخبارات میں بھی اس حوالے سے خصوصی فیچر شائع ہوتے رہتے ہیں“۔
میری بات سن کر پیر صاحب بولے :۔ ” آپ اس علاقے کے مسائل سے واقف ہی نہیں ہو، ارے بھلے مانس جو جسم خریدتا ہے وہ ایسی کوئی چیز استعمال نہیں کرتا جو اولاد پیدا نہ کرنے کی خواہش پر استعمال ہوتی ہیں۔ پیسے دے کر جسم خریدنے والا کہتا ہے کہ میں نے رقم دی ہے جو جی چاہے کروں گا، ورنہ پیسے واپس کر دو۔ “
میں اس موضوع پر گفتگو آگے بڑھانا چاہتا تھا لیکن دلشاد خان کیمرہ اور لائٹ فٹ کر چکا تھا جبکہ دھمال ڈالنے والی ایک خوبرو دو شیزہ آداب کہنے کے بعد گھنگھرو باندھ رہی تھی۔
دما دم مست قلندر پر دھمال پڑ رہی ہو اور کوئی اس سے متاثر نہ ہو کیسے ہو سکتا ہے! پیر کاکی تاڑ کے اشارے پر ایک خوبرو دوشیزہ جس نے اپنا نام بوبی سلطان بتایا تھا، دھمال شروع کی۔ پیر صاحب کے استانے پر موجود ان کے ” مریضوں“ نے مستی کے عالم میں تھر کنا شروع کر دیا۔ جوں جوں دھمال تیز ہوتی چلی گئی توں توں حاضرین پر بے خودی کا عالم طاری ہوتا چلا گیا اور دھمال ختم ہونے پر یہ کہ کوئی مریض دھمال ڈالنے والی اور کوئی پیر صاحب کے قدموں پر پڑا ہوا تھا۔
دلشاد خان نے ان مناظر کی عکس بندی کی جبکہ میں دھمال ڈالنے والی اور دھمال دیکھنے والوں کے چہرے پر موجود اتار چڑھاؤ کا جائزہ لیتا رہا۔ بعد میں لوگوں نے بتایا کہ یہ سب کچھ ڈرامہ تھا کیونکہ ڈھمال شروع ہونے سے پہلے ہی پیر صاحب اپنے خاص مریدوں کو ہدایات جاری کر چکے تھے کہ آج انہوں نے دھمال پر مست ہو کر مفت دیکھے جانے والے مجروں کا نمک حلال کرنا ہے۔ پیر صاحب کی یہ ہدایات اپنی جگہ پر غلط تھیں یا درست، یہ ایک الگ موزع ہے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موسیقی سے علاج ممکن ہے۔
میں اور دلشاد خان ریکارڈنگ مکمل کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ موسیقی سے علاج بلاشبہ ممکن ہے اور دنیا میں اس پر کافی ریسرچ ہو چکی ہے لیکن پیر کاکی تاڑ کے پاس ایسی کوئی صلاحیت نہیں جس سے مریضوں کو شفا مل سکے۔ پیر کاکی تاڑ ایک جہاندیدہ انسان تھا اور وہ ہمارے چہروں کے اتار چڑھاؤ سے ہمارے درمیان ہونے والی گفتگو کا با آسانی اندازہ لگا سکتا تھا۔ اس لئے ہماری آنکھوں میں اپنے لئے عزت و احترام کے جذبات نہ دیکھ کر بولا۔ :” ضروری نہیں کہ تم میری گفتگو سے اتفاق کرو! لیکن ایک بات کا خیال رکھنا کہ اگر میں یورپ میں یا امریکہ میں اس طریقہ سے مریضوں کا مفت علاج کر رہا ہوتا تو میری پر ستش ہو رہی ہوتی۔ “ ” پرستش تو آپ کی یہاں بھی ہوتی ہے“ میں نے پیر صاحب کو چھیڑا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


