بے نظیر اور نواز شریف کے پیر کاکی تاڑ کون تھے؟
” ارے بابا منیر! ہماری کوئی پرستش نہیں کرتا اور میں ایسا چاہتا بھی نہیں ہوں کیونکہ پرستش کے قابل صرف ایک خدائے پاک کی ذات ہے۔ مجھے دنیا سے کچھ نہیں لینا کیونکہ کبھی دنیا نے بھی کسی کو کچھ دیا ہے؟ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ ہر آدمی کا اس وقت تک مذاق اڑایا جا تا ہے جب تک وہ زندہ ہوتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد اسے انعامات و خطابات سے نوازا ہے۔ “
ہم دھمال کی ریکارڈنگ مکمل کرنے کے بعد باہر نکلنے لگے تو پیر صاحب بولے ” چونکہ دھمال دو مختلف بچیوں نے ڈالی ہے اس لئے ادائیگی بھی دو مختلف لفافوں کے ذریعے کریں۔ “ میں حیران تھا کہ پیر صاحب کیا فرما رہے ہیں کیونکہ میں نے تو ایک غیر ملکی ادارے کے لئے ا ن کا انٹرویو ریکارڈ کیا تھا اور وہ مشکور و ممنوں ہونے کی بجائے ہم سے الٹا رقم مانگ رہے تھے۔
” پیر صاحب! آپ نے تو کہا تھا کہ آستانے پر علاج مفت ہوتا ہے۔ “
” بلاشبہ۔ “ وہ بولے۔
” تو رقم کا تقاضہ کس لئے کیا جا رہا ہے۔ “
” میں نے اپنی ذات کے لئے معاوضہ نہیں مانگا کیونکہ اپنی ذات کے لئے تو مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے۔ مسئلہ تو ا ن سازندوں کا ہے جو بڑی محنت سے دھمال ڈالنے والی کا ساتھ دیتے ہیں۔ ویسے بھی آپ علاج کروانے نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی ادارے کے لئے ریکارڈنگ کرنے آئے ہیں اور آپ سے پہلے دوہبی ٹیلی وثیرن کے لئے کام کرنے والوں نے بچیوں کو رقم ادا کی تھی۔ اگر آپ کے پاس پیسے نہیں تو کوئی بات نہیں لیکن اگر ادائیگی ممکن ہے تو کچھ نہ کچھ اپنی خوشی سے ضرور ادا کریں۔ “
دلشاد خان سے مشور ے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ کچھ نہ کچھ دے دیا جائے۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ رقم وصول کر کے دھمال ڈالنے والی کورنش بجا لائے گی اور روایتی انداز میں کہے گی:” رہے نصیب۔ “ لیکن یہاں تو معاملہ ہی مختلف تھا۔ طوائف نے ناک منہ چڑھا کر پیسے پکڑے اور اگلے ہی لمحے ہمارے نوٹ سازندوں کی طرف یوں اچھال دیے جیسے وہ ہزار ہزار کی بجائے پانچ دس کے نوٹ۔ اور ہم حیران و پریشان پیر صاحب کو سلام کر کے آستانے سے باہر آگئے۔
بعد ازاں کئی ماہ بعد صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اب ہیرا منڈی نہیں جاتے کیونکہ طوائفوں نے ان کے لئے مریضوں کا مفت علاج کرنا بند دیا ہے۔ وہ بولے ” کاکا سائیں! مرے مریض غریب ہوتے ہیں اور اگر وہ رقم خرچ کر سکیں تو ڈاکڑ کے پاس کیوں نہ جائیں۔ پیر صاحب بولے عورت وہ ہے جو با حیا ہو لیکن تمہیں کیا بتاؤں کہ کوٹھیوں میں کیا ہوتا ہے! پھر وہ خود ہی بولے کوٹھیوں میں بہن بھائی اپنے والدین کے سامنے ہی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ جسم اور جام ٹکراتے رہتے ہیں۔ جو کچھ کوٹھوں پر ہوتا ہے وہ ٹھیک ہے یا غلط اس پر بحث کیے بغیر میں اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تمہارے کئی عزت دار ان جیسے ہیں جو کوٹھوں پر بیٹھ کر پیشہ کرتے ہیں۔
مرے اصرار پر پیر صاحب بولے ” خیربابا! میں پیر یا ولی نہیں ہوں میں تو ہیرا منڈی میں عورتوں کو اسلام کی راہ پر لانے گیا تھا اور مجھے فخر ہے کہ مری وجہ سے سینکڑوں خواتین اب تک راہ راست پر آ چکی ہیں!“
(منیر احمد کی کتاب "عورت اور بازار” سے اقتباس)


