کیا یورپ اور منگول مسلمانوں کے زوال کے ذمہ دار ہیں؟
قسطنطنیہ کی شکست کے بعد یورپ میں جدید تعلیم کے احیاء پر زور دیا جا رہا تھا۔ تعلیمی ادارے کھل رہے تھے، کتابیں چھپ رہی تھیں، تراجم ہو رہے تھے، معاشی امکانات کی تلاش میں یورپ سمندروں اور صحراؤں کی خاک چھان رہا تھا۔ لوگوں کے اندر عظمت رفتہ کی بحالی کی تڑپ دیکھی جا رہی تھی۔
عثمانی سلطنت نے تنظیمات کے تحت جو اعلانات اور اقدامات کیے ان میں سے چند ایک کو دیکھئے اور پھر ان کو یورپ کی صورتحال کے مقابلے رکھ کر نتیجہ نکالئے۔ مثلا 1840 میں عثمانی سلطنت میں پہلا ڈاک خانہ قائم ہوا۔ یورپ میں یہ کام 1497 میں ہی باقاعدہ ڈاک نظام کے قیام کے طور پر ہو چکا تھا۔ 1848 میں عثمانیوں کو پہلی بار جدید یونیورسٹی (دار الفنون)، سائنس کی تعلیم دینے والے ادارے اور اساتذہ کی تربیت کرنے والے اداروں (دارالمعلمین) قائم کرنے کا خیال آیا۔ جس وقت عثمانی سلطنت میں یہ ادارے پہلی بار کھولے گئے اس وقت تک یورپ میں یہ کئی صدی پرانے ہو چکے تھے۔ 1848 میں یورپ میں اتنی یونیورسٹیاں اور کالج موجود تھے کہ ان کی گنتی بھی مشکل ہے۔
تنظیمات کے بارے میں مذکورہ دو مثالیں تو میں نے مثال کے لئے لکھ دیں۔ دیگر تمام اصلاحی اقدامات کا بھی یہی حال تھا کہ یورپ جن راہوں کو روند کر نکل چکا تھا ہم اب اس رستے چلنے کی سوچ رہے تھے۔ آپ ہی بتائیے ایسی صورت میں یورپ کو مسلمانوں کے زوال کا اکلوتا ذمہ دار کس طرح ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ یورپ اور مسلمانوں کے رویے میں کیا فرق تھا اس کو اگر میں اپنے ناقص لفظوں میں کہوں تو مسلمانوں کے ارباب حل و عقد کا عمومی رویہ یہ رہا کہ ہماری حقیقت صرف آج کا دن ہے اور آج جو کامیابی ہے وہ کل بھی سر پھوڑ کر پھر ہمارے دروازے آئے گی، اس لئے زیادہ مستقبل سازی کی فکر میں زیادہ گھلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے برخلاف یورپ کا عمومی رویہ یہ رہا کہ ہمیں جو بھی آج ملا ہے وہ دراصل آنے والے کل کو سنوارنے کا ایک موقع ہے اور جب تک ہم اپنا آج اپنے آنے والے کل کو سنوارنے پر صرف کرتے رہیں گے تب تک ہر نئی صبح ہمارے لئے خوشگوار آتی رہے گی۔
اس میں شک نہیں کہ مسلم علاقوں میں منگول حملوں نے زبردست تباہی مچائی۔ اکیلے بغداد میں ہی قتل و خون کا جو بازار گرم ہوا وہی زخم ایسا تھا جس کی ٹیس مدتوں محسوس کی گئی۔ ڈاکٹر عمر چاپرا نے اپنی کتاب مسلم تمدن: زوال کے اسباب اور اصلاح میں استدلال کیا ہے کہ منگولوں کے ہاتھوں مسلم اکثریتی علاقوں میں کی گئی تباہی کو مسلمانوں کے زوال کا ذمہ دار قرار دینا جائز نہیں اس لئے کہ بہت سے مسلم ممالک منگول اثرات سے محفوظ رہے اور یہ بھی کہ مادی نقصان کو درست کرنا کچھ ایسا ناممکن امر نہ تھا۔
اس سلسلہ میں ڈاکٹر چاپرا کی رائے کے ساتھ ساتھ کچھ اور باتیں بھی پیش نظر رہنی چاہئیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ منگلول عتاب سے یورپ بھی محفوظ نہیں رہا، ہاں یہ بات سہی ہے کہ وہاں ایسی منگول حملہ آور ایسی تباہی نہیں مچا پائے جیسی بغداد میں ہوئی۔ یہ محاسبہ کی گھڑی نہیں تو اور کیا ہے کہ جب یورپ کے دروازے پر منگول پہنچے تو یورپ نے مل کر مقابلہ کیا اور منگول ایک حد سے آگے نہیں بڑھے۔ جبکہ یہی منگول جب بغداد کو گھیرنے پہنچے تو عباسی خلیفہ مستعصم اسی آس میں ہی رہا کہ پورا عالم اسلام اس کی مدد کو دوڑے گا۔ خیر وجوہات جو بھی رہی ہوں بغداد منگول حملہ آوروں کے ہاتھوں زبردست نقصان سے دوچار ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بعد مسلمانوں کے پاس یہ موقع نہیں تھا کہ اس تباہی کی تلافی کر لیتے؟ ہم نے بہت سی پٹی ہوئی قوموں کو محدود وسائل میں ہی دوبارہ اٹھ کر کھڑے ہوتے دیکھا ہے پھر مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیوں نہٰیں ہو سکتا تھا؟
اس بات کو آسانی سے سمجھنے کے لئے یہ جان لیجیے کہ منگول سلطنت جس کے ہاتھوں ہوئی تباہی کو مسلمانوں کے زوال کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے وہ تیرہویں اور چودہویں صدی میں قائم رہی لیکن اس کے بعد مسلمانوں کی سلطنت بھی تو قائم ہوئی۔ کیا اس دور میں اس نقصان کی تلافی نہیں ہو سکتی تھی؟ مان لیجیے کہ تلافی ممکن نہ تھی تب بھی اتنا تو کیا ہی جا سکتا تھا کہ مزید زوال کو روکا جا سکے۔ مسلمانوں کی یہ سلطنت جس کا ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں وہ کوئی معمولی حکومت نہیں بلکہ وہ عثمانی خلافت تھی جو چودہویں صدی سے شروع ہوکر بیس ویں صدی کے آغاز تک چلتی رہی۔
اس حکومت کے دور میں بغداد جیسا علمی مرکز دوبارہ کیوں قائم نہٰیں ہوا؟ کیا ان کے دل میں منگولوں کے ہاتھوں ہوئی تباہی کا کوئی درد نہیں تھا؟ نقصان کی تلافی کی بات تو چھوڑ دیجئے یہاں تو حالات یہ تھے کہ چھاپے خانے کے استعمال کی سزا موت قرار دے دی گئی اور علم پر پہرے لگ گئے۔ کیا ایسے میں اس نقصان کی تلافی ہو سکتی تھی جو منگولوں کے ذریعہ بغداد کی تین درجن لائبریریوں کے قیمتی قلمی نسخے دریائے دجلہ میں بہا دینے سے ہوا تھا؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ارباب حل و عقد کی ترجیحات میں علم و دانش کے میدان میں قوم کو آگے بڑھانا سرے سے تھا ہی نہیں۔
اس مرحلہ پر یہ واضح ہو جانا چاہیے کہ ایسا ہر گز نہیں کہ مذکورہ دو باتوں یعنی منگولوں کے ہاتھوں تباہی اور یورپ کا مسلمانوں کے زوال سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ان دونوں واقعات سے مسلمانوں کو بڑا دھچکہ لگا لیکن یہ ایسے چیلنج قطعی نہیں تھے جن سے نمٹا نہ جا سکتا ہو۔ ایسا بھی بالکل نہیں کہ مسلمانوں کو دوبارہ کھڑے ہونے کا کوئی موقع نہیں ملا۔ صدیوں تک خلافت کے نام پر سلطنت چلی اور یورپ تک کے دروزے ہلا دیے گئے لیکن افسوس کہ علمی میدان میں دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے کی پالیسی نہیں اپنائی گئی۔ مسلمانوں کے ارباب حل و عقد، سلاطین، خلفاء، درباری علماء اور دانشور اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ قسطنطنیہ میں ہم سے پٹ کر بھاگی قوم علم کے میدان میں جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ جن پر زمین تنگ ہوئی تھی وہ دنیا کو اپنی عملداری میں لا رہے تھے اور جو کل فتحیاب ہوئے تھے وہ کل تخت و چھتر سے ترس جانے والے تھے۔ جنگ عظیم ہوئی تو دنیا نے اس بات کو حقیقت میں بدلتے دیکھ لیا۔

