روحانی جمہوریہ پاکستان، الحمدللہ!


آج کل میری ریاست پیر پرست بریلوی یاروں کے ویسے ہی وارے وارے جا رہی ہے جیسے پچھلے چالیس سال سے دیوبندی اور سلفیوں کے وارے وارے جا رہی تھی۔ میں چونکہ اک ڈرپوک اور گمراہ انسان ہوں، تو اسلام آباد کی برستی ہوئی رومانوی بارش میں سوچا کہ کیوں نہ ریاست کی ہاں میں ہاں ملا کر میں بھی روحانیت کے اس اوقیانوس سے فیض حاصل کرلوں جس کا "ڈکا” جناب ندیم ملک صاحب نے چند روز قبل، خاتون اول، محترمہ بشریٰ بی بی کا انٹرویو کر کے کھولا ہے۔

محترمہ خاتون اول کا انٹرویو، میں گناہگار، خطاکار، پاپی، عاصی، عامی، بندہ حقیر و پرتقصیر کیا دیکھتا، ہاں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ ان کے اور موٹو کے درمیان اب عقیدت کا اک رشتہ قائم ہو گیا ہے، جو خاتون کے روحانی سیمنٹ اور موٹو کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کے آمیزہ سے بنا۔ یہ رشتہ خدا تاقیامت قائم رکھے، اور خاتون ایسے ہی کُتوں سے بات کرتی رہیں، اور کتے ان کی بات سمجھ کر اپنی آنکھوں میں آنسو بھر کر دُمیں بھی ہلاتے رہیں، آمین۔

شاید کتے ہی سمجھتے ہوں، مگر مجھ ناچیز کی سمجھ میں تو یہ گھمن گھیریاں نہیں آتیں۔

مجھ گناہگار میں کسی روحانی یا ضیائی مؤمن بندے کے تابڑ توڑ حملے برداشت کرنے کی سکت تو 2005 سے ہی ختم تھی، رہی سہی کسر، شیعہ یاروں نے 2016 کے اوائل میں پوری کر ڈالی۔ اب میں ہوں، اللہ کا نور، یعنی پاکستان ہے، اس میں کبھی جہاد تو کبھی ختم نبوت ایسے معاملات کا جنگل ہے، اس جنگل میں چند لوگوں کا منگل ہے، اور باقی کروڑوں کا دنگل ہے۔

باقی رہے نام میرے اللہ کا، بلند رہے نام اس کے رسولﷺ کا، اور پھر خاک کے گناہگار پتلوں کی اس فانی دنیا کی بہت سی سیڑھیاں نیچے اتر کر میرے ولی سائیں، عدنان خان کاکڑ کا۔ میں بار بار اپنے آستانے کی جانب دیکھتا ہوں، لمبا ہوکا بھرتا ہوں، اور سلسلہ کاکڑیہ شریف کے بانی، عدنان خان کاکڑ کی جانب اک روحانی ای-میل بھیجتا ہوں اور میرا مرشد جواب بھی دیتا ہے، اور میری نیا کنارے لگتی چلی جاتی ہے۔ کنارے لگتا ہوں تو وہاں اک گمراہ گوتم، وجاہت مسعود دُھونی مچائے، آلتی پالتی مارے، سوچ میں غرق، گمراہی کا گیان بانٹ رہا ہوتا ہے۔

وطن عزیز کی شاندار معاشرت میں ویسے سوچ میں غرق اور گیان بانٹنے والے کا بیڑا ہی غرق دیکھا، جب بھی دیکھا۔

چونکہ، پاکستان اللہ کا اک عظیم راز ہے جو ستائیسویں رمضان کی شب کو قائم ہوا۔ پھر جنرل یحیٰ خان جیسے مقدس انسان نے اپنے روحانی ہنر سے اللہ کے اس راز کو عظمت کے ایورسٹ پر براجمان بھی کروایا۔ تو آئیے، آپ کو روحانیت کے سفر پر لے چلوں۔ سیٹ بیلٹس ذرا کس کے باندھ لیجیے۔

پاکستان کے بارے میں سب سے پہلی روحانی واردات، بصد ادب، جناب شبیر احمد عثمانی صاحب سے منسوب ہے، جنہوں نے اپنے استادِ محترم کو خواب میں دیکھا۔ عثمانی مرحوم کو انکے استاد نے خواب میں، اپنے اک خواب کے بارے میں بتایا کہ جس میں آقائے نامدار، محمدِ مصطفےٰﷺ نے محمد علی جناح کو علمائے ہندوستان کی اک طویل قطار کو نظر انداز کرکے، اپنے سینے سے لگایا۔ استادِ محترم نے عثمانی مرحوم کے خواب میں، اپنے خواب کا تذکرہ کرنے کے بعد حکم دیا کہ جناحؒ کی حمایت کیجیے۔

ممتاز مفتی اپنی کتاب، الکھ نگری میں رقمطراز ہیں کہ پاکستان کو راولپنڈی کے ڈھوک چراغدین، نزد پرانا مریڑ حسن، کے اک بوسیدہ قبرستان میں دفن، سائیں اللہ بخش نے خدا تعالیٰ سے دعا کر کر کے مانگا۔ لہذا، پاکستان، سائیں اللہ بخش کی روحانی تشکیل ہے۔

واصف علی واصف مرحوم، پاکستان کو اللہ کا نور کہتے تھے، اور یہ بھی کہ نور کو زوال نہیں۔ تخلیق کے چوبیسویں سال میں پاکستان دولخت ہوا، اور اپنی پچھلی بیالیس سالہ ہوشمندی کی زندگی میں، خادم نے پاکستان کو مسلسل زوال کی کیفیات میں ہی دیکھا ہے۔ واللہ عالم!

اشفاق احمد مرحوم، پاکستان کو اللہ کے بہت بڑے رازوں میں سے اک راز کہہ گئے، کہ جس کی سمجھ انسانی ذہن میں ممکن نہیں۔ پاکستان کی سمجھ واقعی انسانی ذہن میں ممکن نہیں۔ یہ خلائی مخلوق کا ہی حوصلہ ہے کہ اس کو سمجھ کر چلائے پھرتی ہے۔

قدرت اللہ شہاب مرحوم سے منسوب کر کے ممتاز مفتی اپنی کتاب "تلاش” میں لکھتے ہیں کہ اقوام عالم کے فیصلے پاکستان میں ہوا کریں گے اور دنیا اپنے معاملات کو پاکستان سے پوچھ کر چلایا کرے گی۔ دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں پیلا پتھر پہننے والے ہمارے دانشور وزیر اعظم ابھی ابھی اک عرب ملک سے اربوں، یا عربوں، کی فریاد کر کے لوٹے ہیں۔ اقوامِ عالم کے فیصلے اور فریاد: سب بولو سبحان اللہ!

میں سنہ 1998 میں سلسہ سروری قادری میں بیعت ہوا تھا۔ میرے روحانی مرشد، جن کا حال ہی میں انتقال ہوا، فقیر عبدالحمید سروری قادری تھے اور وہ ڈیرہ اسمٰعیل خان کے قریب اک قصبہ، کلاچی میں رہائش پذیر تھے۔ سلسلہ کی ہی اک کتاب میں، میرے مرشد کے والدِ محترم، فقیر نورمحمد مرحوم کے حوالہ سے اک واقعہ درج تھا کہ پاکستان کی تشکیل، ان کی روحانی تپسیا کی مرہونِ منت تھی۔ ذہن بھرپور ساتھ نہیں دے رہا، مگر کچھ واقعہ یہ درج تھا کہ دریائے سندھ کی ریت پر پاکستان کا نقشہ بنایا گیا، اور پاکستان حاصل کیا گیا۔

عظیم و ذہین پاکستانی عوام کے تین پسندیدہ ترین دانشوران، چوہدری، مقبول اور ہارون صاحبان اس بات کا ذکر بار بار، شاید سینکڑوں بار اپنے دانشورانہ کالمز میں کر چکے ہیں کہ پاکستان کی سرحدوں پر ہجرت کے دوران قتل کر دئیے جانے والوں کی روحیں پہرا دیتی ہیں۔ ویسے اگر پہرا دیتی ہیں، تو کافی کچا پہرا ہے۔ مشرق و مغرب سے سمگلنگ کا اک سیلاب ہے، جو رواں ہے، دواں ہے اور مبشر اکرم حیراں ہے، پریشاں ہے کہ پہرا ہے تو کہاں ہے؟

سنہ 1965 کی جنگ میں، عنایت اللہ مرحوم کے تخلیق کردہ سبز پوش بابے تو اب عظیم پاکستانی قوم کے سیلیبرٹی سٹارز ہیں، ماشاءاللہ۔

بات ختم کرتا ہوں یہ کہتے ہوئے کہ ریاستیں، سیاسی و معاشی اکائیاں ہوتی ہیں۔ یہ مذہبی و روحانی اکائیاں نہیں ہوتیں۔ یہ زمین پر موجود نسلِ انسانی کے ارتقاء کے ساتھ ارتقاء کرتی ہیں اور اپنی اشکال بدلتی ہیں۔ یہ خواب، وجدان، قلبی وارداتوں، موٹو کے ساتھ گپ شپ کرنے اور پیلے پتھر پہننے کے علاوہ، ہر رمضان کے آخری عشرے میں شریفین کے لازمی عمروں سے نہ چلائی جا سکتی ہیں اور نہ ہی چلتی ہیں۔

ریاستیں اور معاشرے وہی بہتر سے بہتر ہوتے ہیں جن کے لوگ گزرتے و بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ چلتے اور بدلتے رہتے ہیں۔ فطرت کے بنائے ہوئے سست رو ارتقاء و ترقی کے ساتھ ساتھ ارتقاء و ترقی نہ کرنے والے جیسے مرضی ہے بیانیے لکھتے، بولتے اور تشکیل کرتے رہیں، وہ ہم جیسے بن جاتے ہیں: خلاؤں میں کھوئے، معجزات کی تلاش میں، دل کو خیالی باتوں سے تسلی دیتے ہوئے، کتوں سے بات کرتے اور پیلے پتھر پہن کر ریاست کو چلاتے ہوئے!

Facebook Comments HS